Dr.Jasimuddin
Tuesday, 4 May 2021
علم وقلم کا مہر درخشاں غروب ہوگیا
Tuesday, 20 October 2020
قمرعالم: ایک مخلص دوست جو بچھڑگیا
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
(ڈاکٹرجسیم الدین، گیسٹ فیکلٹی شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی، دہلی)
یہ میری سعادت مندی ہے کہ میری صبح کا آغاز اپنی والدہ محترمہ کی مزاج پرسی سے ہوتاہے اور دن کا اختتام بھی عموماًانھی کی گفتگو سے ہوتاہے ، مغرب کی نمازکے بعد بٹلہ ہاؤس مرزا سپر مارکیٹ سے کچھ ضروری سامان خرید نے کے بعد جیسے ہی ایگزٹ ڈور کی طرف بڑھاکہ موبائل کی گھنٹی بجنے لگی ، جیب سے نکالاتو دیکھا کہ والدہ کی کال آرہی ہے ، ان کی طرف سے کال آنے کا مطلب ہی یہ ہوتاہے کہ کوئی انہونی ہے،چوں کہ عموماً دن بھر میں دو تین بار میں خیریت دریافت کرہی لیتاہوں ،اس لیے انھیں کال کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی، کال رسیو کرتے ہی والدہ نے یہ اطلاع دی کہ قمرعالم کا انتقال ہوگیا۔یہ خبر سنتے ہی میں سکتے میں آگیا اور کسی طرح ترجیع کی اورکچھ دیر خاموش رہ کر کال منقطع ہوگئی۔
یہ سچ ہے کہ کوئی انسان قدرت کی بارگاہ سے ہمیشہ کی زندگی لے کر نہیں آیاہے،ہر انسان جو پیدا ہوا ہے، اس کی زندگی کے پہلے دن سے ہی اس کے ساتھ موت چلی آرہی ہے، لیکن خویش واقارب کی موت جس طرح دل فگار ہوتی ہے ،ایسے ہی کوئی بچپن کا دوست ہمیشہ کے لیے بچھڑ جائے تو جگر لخت لخت ہونا فطری ہے، دوستی ذہنی مسرت کا نام ہے، لیکن ساتھ ہی حقیقی دوستی حسن کی طرح نا پائیدار ہے، جب امیدیں دلوں میں حصار بنالیتی ہیںتو دوستی کا مطلع دھندلاجاتاہے۔قمر عالم کے ساتھ میرے بیتے ہوئےماہ و سال میری زندگی کے متاع گراں مایہ سے کم نہیں، بچپن کی دوستی کی بنیاد ہی اخلاص پر ہوتی ہے، یہی دوستی جب پختہ ہوجاتی ہے تو وہ پھر قربانی وایثار کی طرف لے جاتی ہےاور زندۂ جاوید بن جاتی ہے۔قمر عالم سے میری قربت اور دوستی کی متعدد وجوہات ہیں ،وہ میرے ہم سبق ہونے کے ساتھ ساتھ میرے محلے کے بھی تھے ،رشتے میں چچا تھے ،لیکن ہم سبق ہونے کی وجہ سے چچا بھتیجے والا رشتہ نہیں رہا ،ہمیشہ ایک دوسرے ساتھ پڑھائی لکھائی کے ساتھ شام کے اوقات میں کھیل کود اور سیر وتفریح میں بھی ساتھ ساتھ رہتے۔پڑھنے میں جہاں وہ ذہین وفطین تھے ،وہیں مترنم آواز میں نعت خوانی کے لیے بھی مشہوررہے۔گاؤں میں جب بھی کسی دینی تقریب کا انعقاد کیاجاتا،اس میں مترنم آواز میں نعت خوانی کے ذریعے سماں باندھ دیتے ۔ابتدائی درجات سے لے کر ہم دونوں نےفارسی کی پہلی، آمدنامہ، اسلامی معلومات اور اردو کی چوتھی کتاب ساتھ میں پڑھی، ان کی ذہانت وفطانت کی ستائش اساتذہ بھی کرتے تھے۔ قمر عالم مرحوم کا گھرانہ بھی پڑھالکھا تھا،ان کے دادا حنیف مرحوم تادم زیست جامع مسجد ددری میں جمعہ کے مؤذن رہے۔ان کے چچامولانا یاسین صاحب کوبھی زبان وبیان پر عبورحاصل ہے، جب یہ ددری گاؤں کے مدرسہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے تو مجھے بھی ان سے شرف تلمذ حاصل ہوا، ان دنوں الٰہ آباد میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں، قمر عالم کے والد محترم جناب عبد القیوم صاحب بھی پڑھے لکھے ہیں اور آج بھی دینی کتابوں کے مطالعہ کے شوقین ہیں ، میری جب بھی ان سے ملاقات ہوتی تو کوئی دینی کتاب کی فرمائش کرتے اور میں نے بھی متعدد بار ان کی فرمائش پوری کی۔قمرعالم کا گھرانہ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود معاشی مسائل سے دوچار رہا اوراسی معاشی تنگی نے قمر عالم کی تعلیمی راہ میں رکاوٹ ڈال دی اور آخر کار وہ فارسی کی پہلی جماعت کے بعد کسب معاش کے لیے ممبئی کا رخت سفر باندھنے پر مجبور ہوگئے اور میں نے اپنا گھرانا پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود حالات کے پیچ وخم سے نبرد آزما ہوتے ہوئے بھی تعلیمی سلسلہ جاری رکھااور گاؤں کے مدرسہ سے فارسی کی پہلی کی تعلیم کے بعد علاقہ کے مشہور مدرسہ دارالعلوم بالاساتھ میں داخلہ لیا ، یہاں سے بھی کئی بار بھاگ کر گھرآیا ،لیکن والد مرحوم کی سختی کی وجہ سے اسی وقت گھر سے مدرسہ بھیج دیا جاتااور اس طرح میں نے بھی یہ طے کر لیاکہ اب مدرسہ سے فرار ہوکر گھر نہیں جاناہے۔اوراس طرح بالاساتھ مدرسہ سے عربی سوم (کافیہ ، قدوری وغیرہ)تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی سیتامڑھی آکر جلالین تک تعلیم حاصل کی ، بعد ازاں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی اس دوران قمر عالم میرے ذہن ودماغ سے کبھی جدا نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ مجھ سے الگ ہوئے ،ہرچندکہ وہ ممبئی میں کسب معاش کے لیے اقامت پذیر تھے ،لیکن برابر رابطے میں رہتے اور جب بھی ہم گاؤں میں ایک دوسرے سے ملتے تو وہی زمانۂ طالب علمی کے واقعات کا اعادہ کرتے ،وہ کبھی افسوس کرتے تو کبھی اظہار خوشی کرتے ۔مدرسہ کی تعلیم کے بعد میں نے جب جامعہ ملیہ اسلامیہ، جے این یو اور دہلی یونیورسٹی جیسی درسگاہوں سے استفاہ کیا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی ، وہ ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے اور کہتے کہ میرا بدلہ بھی آپ ہی پڑھ رہے ہیں۔ان کے یہ جملے مجھے باربار اشکبار کررہے ہیں۔
ادھر پچھلے چند برسوں سے کڈنی کا عارضہ لاحق ہوگیا اورمسلسل علاج ومعالجہ کے بعد بھی وہ جانبر نہ ہوسکے اورآج بتاریخ 20 اکتوبر2020 بعد نماز مغرب داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
قمر عالم کی زندگی گرچہ مختصر رہی مگر بامقصد رہی اور مختصر بامقصد زندگی بے مقصد طویل زندگی سے بدرجہا بہتر ہے۔ایسے خوش فہم اور مخلص دوست کم ہی کسی کو ملتے ہیں اور جس کو بھی مل جائے سمجھیے کہ نعمت عظمیٰ مل گئی۔ان کے ساتھ گزرے ہوئے یادوں اور باتوں کا لامتناہی سلسلہ ہے ، جب تک زندہ رہے میری ہر خوشی اورغم میں شریک رہے ، اتفاق ہے کہ انھوں نے جہاں شادی کی ، وہیں میرے لیے بھی میری پسندکے مطابق ایک مناسب رشتہ بھی تلاش دیا اور میں نے بھی اپنی بچپن کی دوستی کی لاج رکھتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد جتایا اور رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگیا ،اس من پسند رشتے نے میرے دل میں ان کے حوالے سے عظمت کا پہاڑنصب کردیااور مجھے یہ احساس ہواکہ قمر عالم کی لائن گرچہ مجھ سے مختلف ہوگئ ،لیکن اس نے حق رفاقت میں نبھانے میں کبھی بھی ،کہیں بھی لیت ولعل سے کام نہیں لیا۔انسان اٹھ جاتاہے تو اس کی یادیں ہمیشہ کے لیے دل میں کسک بن کر بیٹھ جاتی ہیں، آج وہ جسمانی طور پر مجھ سے بہت دورجہاں سے واپسی ناممکن ہے ،چلے گئے ،لیکن ان کی یادیں میرے لوح دل پر منقش ہیں، میں دعا کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس کو اس کا مسکن بنائے اور پسماندگان میں شامل بیوہ ، تین بیٹے اور ایک بیٹی کی کفالت کا مسئلہ آسان فرمائے ۔ان کے والد محترم جناب عبد القیوم دادا ، دادی مہر النسا اور ان کے دونوں بھائی ظفر عالم اوربدر عالم کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
آتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
Monday, 21 September 2020
مولانا امین اشرف قاسمی کی رحلت
Tuesday, 25 August 2020
دیدہ ور صحافی ڈاکٹر عبد القادر شمس قاسمی کی رحلت
Monday, 20 July 2020
مولانا متین الحق اسامہ اور مولانا سید محمد سلمان کی رحلت ملت اسلامیہ ہند کا خسارہ
مولانا متین الحق اسامہ اور مولانا سید محمد سلمان کی رحلت ملت اسلامیہ ہند کا خسارہ
Sunday, 14 June 2020
صدرجمہوریہ ایوارڈ یافتہ پروفیسر ولی اختر ندوی کی رحلت
مشفق ومکرم
استاذ محترم، عربی زبان وادب میں نمایاں خدمات کی بنیاد پر صدرجمہوریہ ایوارڈ سے سرفراز،شعبۂ
عربی دہلی یونیورسٹی کے مایہ ناز پروفیسر، استاذ الاساتذہ ڈاکٹر ولی اختر کے انتقال
پر ملال کو چھ دن گزر چکے ہیں، لیکن طبیعت اس قدر مغموم اور بجھی ہوئی ہے کہ کچھ سپرد
قرطاس کرنے میں خود کو بے بس محسوس کررہا ہوں، کئی بار کچھ لکھنے کی کوشش کی، لیکن
ایک پیرا گراف بھی نہیں، بلکہ دو چار سطور قلمبند کرتے ہی آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں
اور دل پارہ پارہ ہونے لگتاہے اور سلسلہ موقوف کرنا پڑتا ہے، ایسا محسوس ہوتاہے کہ
ذہن واعصاب نے ساتھ دینا چھوڑدیاہے، اپنی چونتیس سالہ زندگی میں کبھی بھی میں اس طرح
جگر پارہ نہ ہوا، جس طرح استاذ محترم کے سانحہئ ارتحال پر دل فگار ہوں،آج جب برادر
مکرم ڈاکٹر عبد الملک رسولپوری استاذ شعبۂ عربی ذاکر حسین دہلی کالج نے یہ پیغام بھیجا
کہ:”سر(پروفیسر ولی اختر ندوی) کے تعلق سے کوئی تاثراتی مضمون قلمبند کیا ہو، تو ارسال
فرمائیں“۔اس پیغام کو پڑھنے کے بعد کچھ لکھنے کی ہمت جٹائی ہے، اور کچھ قلمبند کرنے
کے لیے طبیعت کو آمادہ کیا۔حقیقت یہ ہے کہ استاذ محترم پروفیسر ولی اخترسرکے ساتھ گزرے
ہوئے لمحات بارہ برس پر محیط ہیں، جن میں دو سال ایم اے میں بحیثیت نووارد طالب علم
عربی سے انگلش ترجمہ کی کلاسیزمیں جو لگاتار دوگھنٹوں پر مشتمل ہواکرتی تھیں۔اور پانچ
سال بطور پی ایچ ڈی اسکالرآپ کی نگرانی میں اور پی ایچ ڈی کے بعد پھر ڈاکٹر ایس رادھا
کرشنن پوسٹ ڈاکٹورل فیلو یوجی سی کی حیثت سے تین سال اور بحیثیت گیسٹ فیکلٹی دوسال۔بارہ
برس کا عرصہ کوئی معمولی نہیں ہے، اس طویل عرصے میں سر کو بہت ہی قریب سے جانا اور
پہچانابھی۔یہاں یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے، میری کوشش ہوگی کہ میں نے جیسا ان
کو پایا، ویسا ہی سراپا پیش کروں۔ایم اے میں جب ترجمہ کی کلاس میں حاضری ہوئی تو تعارف
کراتے ہی جب سیتامڑھی کا نام لیا تو فوراً چونکے سیتامڑھی میں کہاں؟ میں نے کہاکہ سیتامڑھی
ضلع کے نانپور بلاک میں واقع ددری گاؤں کا ہوں۔ تو سر نے مسکراتے ہوئے کہاکہ میں بھی
سیتامڑھی کا ہوں، لیکن کلاس میں اس بنیاد پر کوئی ہمدردی نہیں رہے گی۔یہاں آپ محنت
سے پڑھیں گے تو مجھے خوشی ہوگی۔مجھے بھی سر کی یہ بات بے حد پسند آئی اور ان کے یہ
پوچھے جانے پر:’محنت کریں گے نا؟‘ میں نے ہامی بھری اور کلاسوں کی پابندی کی۔ایم اے
کے سال میں مجھے دہلی یونیورسٹی میں ہاسٹل بھی مل گیاتھا، اس لیے بھی کلاس کی پابندی
میں آسانی رہی، اسی دوران ایک بار جوبلی ہال دہلی یونیورسٹی سے متصل مسجد ’پٹھان والی‘خیبر
پاس میں بعد نماز جمعہ میں نے استاذ محترم پروفیسر ولی اختر اور ڈاکٹر نعیم الحسن صاحبان
کوظہرانے کی پیش کش کی، سر اولاًانکار کرتے رہے، لیکن میرے پیہم اصرار کے سامنے انکار
کی گنجائش نہیں رہی، ہاسٹل کی صفائی ستھرائی دیکھ کر سر کافی متاثر ہوئے اور ظہرانہ
تناول فرمانے کے دوران مفید باتیں بھی ہوتی رہیں۔ ایم اے میں دوران درس عربک ٹیکسٹ
ریڈنگ میں جہاں عربی قواعد و محاورات کی بہترین وضاحت فرماتے، وہیں ترجمہ کے تکنک کو
بھی نہایت سہل انداز میں سمجھاتے۔







