Thursday, 23 February 2012

ہندوستانی مسلمان اورحق تعلیم:بدبختانہ ٹکراؤ




آج کل مسلم علما کا ایک گروپ آرٹی ای یعنی حق تعلیم ایکٹ کے خلاف آسمان سروں پر اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ، کیا آپ کو معلوم ہے اس کے پیچھے اصل کھیل کیا ہے؟
مسلم پرسنل لا بورڈکی مجلس عاملہ نے حق تعلیم ایکٹ(آرٹی ای)سے مدرسوں کو مستثنی قرار دینے کی مانگ کی اورپھر اس قانون میں ترمیم کے لئے تحریک چھیڑنے کا اعلان کیاتو اتنی حیرت نہیں ہوئی کہ ملک کے مسلمانوںکے مختلف مسالک ومکاتب فکرکے دینی رہنماؤں کی یہ انجمن جس کاواحدایجنڈاشریعت کا تحفظ ہے حق تعلیم ایکٹ میں شریعت کے لئے خطرہ دیکھتی ہے اوراس ایکٹ کے نفاذکے تقریباایک سال بعدقائدین ملت میںیہ بیداری آئی ہے،حیرت تواس پر ہے کہ ہندوستان کے آئین وقانون پرگہری نظراوراقلیتوں کے مسائل کاگہراادراک رکھنے والے مسلم دانشوروں پر خاموشی طاری ہے۔جوقانون ملک کے ہرشہری کومعیاری تعلیم کی گارنٹی دیتا ہے اور جس کوعام طور پرغریبوں،کمزوروںاوراقلیتوں کے لئے وردان ماناجارہاہے اسے یہ علمامذہبی آزادی کے بنیادی حق کے منافی اور تعلیم کوقومیانے کی سازش قراردے رہے ہیں
اب ایک سال ہونے کوآئے،دہلی کی اردو اکادمی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ملک کے معروف ماہر تعلیم و سرکردہ دانشور سید حامد کے اعزاز میں ایک نشست کا اہتمام کیا تھا۔ جلسے کی صدارت جسٹس راجندر سچر کررہے تھے۔ اپنی صدارتی تقریر میں انہوں نے ایک بڑا ہی دلچسپ واقعہ بیان کیا تھا۔جسٹس سچر جو ایک ماہر قانون و انصاف کے علاوہ سرکردہ سماجی خدمت گاربھی ہیں بلکہ یہ ان کی شخصیت کا غالب عنصر ہے،وہ سماج کے دبے کچلے اور پسماندہ طبقات کے لیے اپنے دل میں بے پناہ درد رکھتے ہیں اس لیے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے سلسلے میں سید حامد کی کوششوں کے قدر داں ہیں۔مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعظم ہند کے ذریعے جسٹس راجندر سچر کی صدارت میں مقرر کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی میں سید حامد بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے بڑی محنت اور ایمانداری سے ملک کے مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی حالت کا مطالعہ کیا،اس کے لیے سرکاری وغیر سرکاری ایجنسیوں سے ٹھوس اعداد وشمار حاصل کیے، ملک کے مختلف علاقوں کے دورے کیے، ماہرین اور دانشوروں سے تبادلہ خیالات کیا اور سماجی وسیاسی نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ اسی سلسلے میں یہ تحقیقاتی کمیٹی حیدرآباد گئی تھی۔ جسٹس سچر کا بیان ہے کہ اس دن شہر کے مسلمانوں کے ایک نمائندہ وفد سے ان کی ملاقات تھی۔ یہ بڑے ہوش مند، تعلیم یافتہ اور آج کی دنیا پر گہری نگاہ رکھنے والے مسلمان تھے۔ انہوں نے کمیٹی کے سامنے اپنی باتیں بڑی خوش اسلوبی سے رکھیں لیکن ایک موقع پر سید حامد صاحب ان پر چیخنے لگے، وہ انتہائی غصے میں تھے، جتنا جی میں آیا ان کوبرا بھلا کہا۔ہم سب حیران تھے لیکن ان کے اس غصے کا سبب ناقابل فہم نہیں تھا۔ وہ ایک درد مند دل رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے سچے ہمدرد ہیں۔ہوا یہ تھا کہ اس وفد میں شامل بعض افراد نے سچر کمیٹی سے کہا کہ چونکہ عام طورپر مسلم طلبہ میٹرک کے امتحانات میں ریاضی میں ناکام ہوجاتے ہیں اوران کی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھنے سے رک جاتا ہے اس لیے سچر کمیٹی حکومت سے یہ سفارش کرے کہ مسلم طلبا کو اس سلسلے میں مستثنیٰ قرار دے دیا جائے، ان کے لیے ریاضی (حساب) میں پاس ہونا لازمی نہ ہو۔ یہ سننا تھا کہ سید حامد اپنے غصہ پر قابو نہ رکھ سکے۔چیخ اٹھے ’کیاآپ لوگ اس قوم کو جاہل بنادینا چاہتے ہیں؟‘ پھر دیر تک ان پر لعنت ملامت کرتے رہے اور ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ کاٹو تو بدن میں خون نہیں ۔
تقریباایک سال سے دہلی اورملک کے مسلم سیاسی وسماجی حلقوں میں وقفہ وقفہ سے لازمی تعلیم کے قانون پر ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے، جمعیة علماءہند، ملی کونسل، مجلس مشاورت، اوریہاں تک کہ اب مسلم پرسنل لا بورڈ،مسلمانوں کی کون سی قابل ذکر تنظیم ہے جو حق تعلیم ایکٹ یا اس کی بعض دفعات سے مسلمانوں کومستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ نہیں کررہی ہے۔ بعض تنظیمیں تو حکومت کو دھمکی دے رہی ہیں کہ اس نے اگر مسلمانوں کے دینی مدارس کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا تو وہ اس کے خلاف ملک گیر تحریک چھیڑیں گے۔لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر اتریں گے، گرفتاریاں دیں گے،جیل بھریں گے کیونکہ یہ میٹھا زہر ہے،پچھلے دروازے سے تعلیم کو قومیانے کی سازش ہے، اس قانون کی زد میں ہمارے دینی مدارس آتے ہیں جو ہمارے لیے کسی بھی قیمت پر قابل برداشت نہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک گروپ نے تو باضابطہ بیداری مہم چھیڑ رکھی ہےجس کی قیادت بہار کی ایک نامی گرامی خانقاہ کے سجادہ نشیں کر رہے ہیں ۔ حیدرآباد میں مسلمانوں کے نمائندہ وفد نے سچر کمیٹی سے مسلم طلبہ کے لیے جس استثنیٰ کا مطالبہ کیا تھا، گہرائی میں اتر کر دیکھیں توحق تعلیم ایکٹ کے سلسلے میں مسلم علماءو ملی قائدین کے مطالبات اس سے ذرا بھی مختلف نہیں ہیں لیکن حیرت ہے کہ آج کسی سید حامد کو ان پر غصہ نہیں آرہا ہے (اور اگر آرہا ہو تو ہمارے علم میں نہیں ہے) کسی نے ان کو ڈانٹ نہیں پلائی، کسی کی ہمت نہیں کہ لب کشائی کرے کیونکہ آج ان کے سامنے حیدر آباد کے ہوش مند اورتعلیم یافتہ مسلمان نہیں بلکہ شمالی ہند کے قائدین ملت اور علمائے کرام ہیں۔ ہر سمجھ دارآدمی خوفزدہ ہے کہ کہیں اس پر حکومت کی حمایت اور ملت سے غداری کا الزام نہ آجائے۔
 پہلا سوال تویہی ہے کہ جب یہ قانون پارلیمنٹ کی میز پر تھا اور اس پر بحث ہورہی تھی،اس وقت ہمارے یہ قائدین کہا ں سورہے تھے؟اور جب اس قانون کے نفاذ مہینوں گزرگئے، ان میں اچانک بیداری اور بے چینی کیوں پھیل گئی؟ اوراب ایک سال بعد مسلم پرسنل لا بورڈ نے حق تعلیم ایکٹ کے خلاف نئی توانائی کے ساتھ جنگ کیوں چھیڑ دی؟ کیا واقعی اس قانون کے نفاذ سے اسلام خطرے میں ہے ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اس قانون سے مسلمانوں اور بالخصوص مدرسوں کو مستثنیٰ قرار دیا جانا ممکن ہے؟ اگر ممکن ہے تو اس کی کیا صور ت ہوگی؟ کیا حکومت کو یہ اختیار ہے کہ ملک کے بعض شہریوں کو آئین میں دیے گئے حقوق دے اور بعض کو اس سے کسی وجہ سے محروم رکھے؟ اور اگر ایسا کیا گیا تو کیا یہ ملک کے آئین کی روح اور انصاف کے تقاضے کے منافی نہیں ہوگا؟ اگر ہاں تو پھر اس آئینی و قانونی بحران کا حل کیا ہے؟ کیا حق تعلیم ایکٹ کو جبری تعلیم یا تعلیم کو قومیانے کی سازش قرار دے کرٹکراؤ کا ماحول پیدا کرنا سراسر غلط ، گمراہ کن اور بد بختانہ نہیں ہے؟ انہیں احساس ہونا چاہیے کہ ذاتی سیاسی مفاد پرستی کی کوکھ سے جنم لینے والا یہ ٹکراؤنہ ملک وقوم کے حق میں بہتر ہوگا اور نہ مسلمانوں کے حق میں مفید۔ دیکھنے والی آنکھیں یہ بھی دیکھ رہی ہیں کہ اس ٹکراؤ کو بڑھانے میں ایک طرف وہ عناصر پیش پیش ہیں جو اسی قسم کے ٹکراؤ کی آنچ پر اپنی سیاست کی دکانیں سجاتے اور ملی مفادات کا سودا کرتے آئے ہیں۔ دوسری طرف ان کی پیٹھ پر وہ تعلیمی مافیا سرگرم ہیں جو اپنے اسکولوں میں بچوں کے والدین اور سرپرستوں سے موٹی رقمیں وصول کرتے ہیں لیکن ان کو معیاری تعلیم اورواجبی سہولیات نہیں دیتے، وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی ناراضگی کا خوف دکھاکرچھوٹ حاصل کرلیں اور ملت کے مستقبل سے بہ دستور کھلواڑ کرتے رہیں۔انہیں اپنے وقتی مفادات کے آگے کچھ سجھائی نہیں دے رہے ہیں،وہ صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کا اپناکاروباربند ہوجائے گاورنہ معیاری انتظامات کرنے ہوںگے۔ کیادن آئے ہیں کہ اس مہم میں بعض وہ لوگ سرمایہ لگا رہے ہیں جو کل تک مسلمانوں کی پسماندگی کے لیے اصل ذمہ دارمدرسوں کو قرار دیتے تھکتے نہ تھے، لیکن اب ان کو مدرسے حق تعلیم ایکٹ کی زد میں نظر آرہے ہیں کیونکہ ان کا اپنا انگلش میڈیم اسکول خطرے میں ہے۔ جس کے بچنے کی ایک ہی صورت نظر آرہی ہے کہ مدرسے اور مسلمان کے نام پر چھوٹ مل جائے۔
ہندوستان کا آئین ملک کے ہر شہری کویکساں اور معیاری تعلیم کا حق دیتا ہے، ساٹھ سال بعد حکومت نے اپنی ذمہ داری محسوس کی اور حقوق تعلیم ایکٹ لاکر اس راہ میں پہلا قدم اٹھایا۔یہ قانون ہمیں حق دیتا ہے کہ ہم اپنی پسند کے تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کریں اوراس کے جملہ مصارف حکومت برداشت کرے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم اس قانون کے ہر پہلو پر سنجیدگی سے غور کرتے اور منفی طرز فکر ترک کرکے حق تعلیم ایکٹ ہمیں جو حقوق دیتا ہے، اس سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی تدابیر کرتے لیکن ہورہا ہے یہ کہ ہم اندیشوں اور امکانات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، حکومت کی نیت پر شک کررہے ہیں، ان شرائط کو منفی طور پر لے رہے ہیں جوتعلیمی اداروں پر ملک کے ہر شہری کو یکساں اور معیاری تعلیم کی سہولیات مہیا کرنے کی غرض سے عائد کی گئی ہیں۔ جب حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کے جملے مصارف برداشت کرے اور آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ معیاری تعلیم کی سہولیات مہیا کرانے سے قاصر رہنے کی صورت میں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں تو اس قانون میں جو کم از کم معیار طے کیا گیا ہے وہ ہمارا حق ہے یا حکومت کی جانب سے تھوپی گئی شرطیں؟
دراصل ہم لوگ آسانیوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور اپنے بچوں کے لیے بہتراور معیاری تعلیم کے حصول کی تدابیر اور اپنے ادارو ں کو حکومت سے تعلیمی اداروں کی حیثیت سے تسلیم کرانے کی جدوجہد کرنا یقینا مشکل کام ہے۔ شاید اسی لیے قائدین ملت شرائط میں نرمی بلکہ استثنیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس میں آسانی یہ بھی ہے کہ لگے ہاتھوں سیاست کی روٹی بھی گرم ہورہی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اپنے حق سے خود ہی دست بردار ہونے کی ضد کریں، خود کو مستثنیٰ منہ کرانے کا مطالبہ کریں اور اپنے اداروں کو تسلیم کرانے کی جدوجہد نہ کریں۔ کسی طفل مکتب کو بھی یہ بتانے کی حاجت نہیں ہے کہ حق تعلیم ایکٹ سے کسی فرد ،جماعت یاادارہ کومستثنی قرار دینے کا مطلب ا س کو ان حقوق سے محروم یادست بردارکرناہے جو یہ ایکٹ اسے دیتا ہے۔ پچھلے سا ل جولائی میں اس سلسلے کے ایک جلسے میں مرکزی وزیرفروغ انسانی وسائل نے مدرسوں کو اس ایکٹ سے مستثنیٰ کرانے کا وعدہ بھی کرلیا تھا۔ پھرانہوں نے ایک گائڈلائن جاری کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘‘حق تعلیم ایکٹ میں مدرسہ کی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس سے مذہبی تعلیم کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ پھر بھی اگر کسی کو شک ہے تو اس کے لیے گائڈ لائن جاری کردیاگیاہے۔’’ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اس قانون سے مذہبی تعلیم کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے لیکن جو تعلیمی ادارے ضروری شرائط پورے نہیں کرتے، وہ اس قانون کی زد میں ضرورآئیں گے چاہے وہ اسکول یا پاٹھ شالا ہوں یا مدرسے۔ اس ایکٹ کی رو سے غیر منظور شدہ اداروں میں بچوں کو روکنا غیر قانونی اور قابل مواخذہ جرم ہوگا۔ گائڈلائن وغیرہ وقتی اور جھوٹی تسلی ہے ۔ وزیر موصوف یہ کہہ کر جھوٹی تسلی دے رہے ہیں کہ مدرسے اس قانون کے دائرے میں نہیں آتے۔ کیونکہ اگر مدرسوں کو مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے تویہ مدرسوں میں زیرتعلیم بچوں کے بنیادی حق کے ساتھ سمجھوتہ اور خلاف آئین ہوگا۔ اور عدالتیں کسی وقت بھی ان کی گردن پکڑ سکتی ہیں۔ آخر ان بچوں کو وہ کس جرم میں تعلیم کے حق سے محروم کرسکتے ہیں جو تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی لینا چاہتے ہیں؟ حکومت پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کو طفل تسلی دینے یا گمراہ کرنے کے بجائے ہمارے دینی مدرسوں کو تعلیمی اداروں کی حیثیت سے تسلیم کرے اور مدرسے بھی تعلیم کے کم از کم معیار کی پابندی کریں اورخود کوتسلیم کرائیں۔ حکومت سے تسلیم شدہ ایسے مدرسے اس ملک میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں اور شاید کپل سبل ان ہی مدرسوں کے تعلق سے باربارکہہ رہے ہیں کہ مدرسے اس قانون کی زد میں نہیں آتے۔ مسلمانوں کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔ ماضی میں بھی یہ ملت اس قسم کی طفل تسلیوں کا شکار ہوچکی ہے۔
حق تعلیم ایکٹ ملک کے ہر بچے (6تا 14سال عمر) کو یہ ضمانت دیتا ہے کہ اس کو معیاری تعلیم کی سہولیات مہیا کرائی جائے۔(خواہ وہ مدرسہ میں پڑھتے ہوں یا پاٹھ شالہ میں یا کہیں اور) اس قانون کا اصل مقصدو منشا یہی ہے اور اسی کو یقینی بنانے کے لیے اس ایکٹ میں قانونی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کسی بھی قانون کی الگ الگ دفعات کو اس کی منشا اور سیاق وسباق سے ہٹاکر اندیشہ ہائے دور دراز کا بازار گرم کیا جاسکتا ہے اور اس قانون کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے۔ جو لوگ اس قانون کوآئین کی دفعہ 29اور30سے متصادم 
بتارہے ہیں وہ بھول رہے ہیں کہ دفعہ29و30 ہرشہری کو دیے گئے بنیادی حقوق کی تشریح ہے اور ملک میں رائج و نافذالعمل جملہ قوانین اس کے تابع ہیں، کوئی قانون اس سے متصادم نہیں ہوسکتا۔ حق تعلیم ایکٹ بھی اس کے تابع ہے۔ اس ایکٹ میں جہاں یہ بندوبست ہے کہ بچے کی تعلیم کی راہ میں آنے والے والدین اور سرپرستوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ان کو قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے وہیں یہ ضمانت بھی موجود ہے کہ بچوں کو اس کی اور اس کے والدین/سرپرست کی پسند کے ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا حق ہوگا لیکن وہ ادارے طے شدہ معیار کے پابند ہوںگے۔ یہ نہ ہو کہ تعلیم کے نام پر کاٹھ کی ہانڈی چڑھا رکھی ہو۔ ہندوستان ہی نہیں ساری دنیا میں آج تعلیم کا جو عمومی معیار ہے وہ اظہرمن ا لشمس ہے۔ بچوں کو پرائمری اور اپر پرائمری (تحتانی ووسطانی) درجات میں ان کی مادری زبان میں سائنس، ریاضی اور سماجیات کی تعلیم دی جاتی ہے، ان کے علاوہ بچہ کوئی اور زبان پڑھنا چاہے یا ملک کی قومی زبان اس کی مادری زبان کے علاوہ ہو تو اس زبان کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔اگر آپ قوم کے بچوں کو اتنی تعلیم بھی دینا نہیں چاہتے(خواہ وہ مدرسے کے بچے ہی کیوں نہ ہوں) یا اس کو بھی بوجھ تصور کرتے ہیں تو کیا آج کی دنیا میں یہ خود کشی نہیں ہے؟ جب ہر بچے کی تعلیم کے مصارف اٹھانے کی حکومت پابند ہے اور وہ بھی بچے کے پسند کے تعلیمی ادارے میں تو کیا کسی بچے کو اس حق سے محروم رکھنا یا مستثیٰ منہ قرار دینا اس کے ساتھ ظلم نہیں ہوگا؟ اگر آپ اپنے تعلیمی اداروں کو معیاری بنانے کے بجائے معیار میں چھوٹ اور استثنیٰ کے طلب گار ہیں تو اس کا مطلب کیا سمجھا جائے؟ ہمارے بچے ریاضی میں ناکام ہوجاتے ہیں اس لیے ریاضی کو استثنیٰ قرار دے دیا جائے، یہ سوچ آخر کس حقیقت کا ثبوت ہے؟ آخر آپ قوم کو جاہل رکھنے پر کیوں بہ ضد ہیں؟ ہم یہاں صرف اتنا عرض کریں گے کہ دیوبند کے جس دارالعلوم پر آج ہندوستانی علمااور مسلمانوں کے ایک طبقہ کو بڑا ناز ہے، اس کے بانیوں نے اس کا نام مدرسہ عربی فارسی وریاضی رکھا تھا۔ لیکن آج سب سے زیادہ اسی طبقہ کے لوگ سائنس اورریاضی سے خوفزدہ نظرآتے ہیں۔خدارا! قوم کو اس خوف کی نفسیات اور پست ہمتی کے دلدل سے نکالئے کیونکہ دنیا میں وہی قوم زندہ رہتی ہے جو وقت کے چیلنج کو قبول کرتی ہے۔ ہم اس وقت سربلند و سرخ رو تھے جب ہم میں دنیا بھر کی زبانیں اور علوم وفنون سیکھنے کا جذبہ اور ہر چیلنج کوقبول کرنے کی ہمت تھی۔ جب سے یہ جذبہ اور یہ حوصلہ ہمارے اندر سے رخصت ہوا ذلیل وخوار ہوگئے۔

Tuesday, 14 February 2012

اقبال اور مغربی تہذیب


 جسیم الدین قاسمی
ریسرچ اسکالر ،شعبہ عربی دہلی یوینورسٹی،دہلی
مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر سو سالوں کے دوران یورپ میں اُبھری اس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت سے ہوتا ہے جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا ۔ یونانی اور لاطینی علوم کے ماہر وہاں سے نکل بھاگے اور مغربی یورپ میں پھیل گئے یورپ جو اس سے قبل جہالت کی تاریکی میں بھٹک رہا تھا ان علماءکے اثر سے اور ہسپانیہ پر عیسائیوں کے قبضہ کے بعد مسلمانوں کے علوم کے باعث ایک نئی قوت سے جاگ اُٹھا ۔ یہی زمانہ ہے جب یورپ میں سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ نئی نئی ایجادات ہوئیں اُن کے باعث نہ صرف یورپ کی پسماندگی اور جہالت کا علاج ہوگیا، بلکہ یورپی اقوام نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئیں ان کی حریصانہ نظریں ایشیاءاور افریقہ کے ممالک پر تھیں۔ انگلستان ، فرانس ، پرُ تگال اور ہالینڈ سے پیش قدمی کی اور نت نئے ممالک کو پہلے معاشی اور پھر سےاسی گرفت میں لیناشروع کر دیااس طرح تھوڑے عرصہ میں ان اقوام نے ایشیاءاور افریقہ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کرکے وہاں اپنی تہذیب کو رواج دیا اس رواج کی ابتداءیونانی علوم کی لائی ہوئی آزاد خیالی اور عقلی تفکر سے ہوئی۔ جس نے سائنسی ایجادات کی گود میں آنکھ کھولی تھی۔ سائنسی ایجادات اور مشینوں کی ترقی نے اس تہذیب کو اتنی طاقت بخش دی تھی کہ محکوم ممالک کا اس نے حتیٰ المقدور گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے عوام کی نظروں کو اپنی چکاچوند سے خیرہ کر دیا اور وہ صدیوں تک اس کے حلقہ اثر سے باہر نہ آسکے ۔ مسلمان ممالک خاص طور پر اس کا ہدف بنے ۔ ترکی ، ایران، مصر ، حجاز ، فلسطین ، مراکش ، تیونس، لیبیا، سوڈان ، عراق ، شام غرض تمام ممالک کو یورپ نے اپنا غلام بنا لیا اور ہندوستان پر قبضہ کر کے یہاں کے مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے بدظن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار
اقبال نے اپنے کلام میں جابجا مغربی تہذیب و تمدن کی خامیوں پر نکتہ چینی کی ہے اور مسلم معاشرے کو ان کے مضر اثرات سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ بعض نقادوں کے خیال میں اقبال نے مغربی تہذیب پر اعتراضات کرکے انصاف سے کام نہیں لیا۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اس بارے میں لکھتے ہیں۔
” اقبال کے ہاں مغربی تہذیب کے متعلق زیادہ تر مخالفانہ تنقید ملتی ہےاور یہ مخالفت اس کے رگ و پے میں اس قدر رچی ہوئی ہے کہ اکثر نظموں میں بے جا ضرور اس پر ایک ضرب رسید کر دیتا ہے۔“
یہ کہنا کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا کلام اقبال سے سطحی واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اقبال نے تہذیب ِ مغرب کے صرف انہی پہلو ئوں پر تنقید کی ہے جنہیں وہ مسلم معاشرے کے لئے مضر سمجھتے تھے۔ ورنہ جہاں تک اچھے پہلوئوں کا تعلق ہے اقبال اس سے کبھی منکر نہیں ہوئے۔
اپنےایک لیکچر میں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن کی اہمیت جتانے کے بعد کھل کر کہا ہے۔ ” میری ان باتوں سے یہ خیال نہ کیا جائے کہ میں مغربی تہذیب کا مخالف ہوں ۔ اسلامی تاریخ کے ہر مبصر کو لامحالہ اس امر کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہمارے عقلی و ادراکی گہوارے کو جھلانے کی خدمت مغرب نے ہی انجام دی ہے۔“
اسی طرح ایک اور جگہ وہ صاف صاف کہتے ہیں،
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا ہے ارشاد کہ ہر شب کو سحر کر
مغربی تہذیب سے اقبال کے اختلاف کے وجوہات:
اقبال نے مغربی تہذیب کی جو مخالفت کی ہے اس کی وجہ سیاسی ہے اقبال کے زمانے میں ہندوستان میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو مغربی معاشرے کی ہر بات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ قدامت پرستوں کا طبقہ تھا جسے اپنی تہذیب پر فخر تھا چاہے وہ اچھی ہو یا بری ، دوسرا طبقہ اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتے ہوئے مغرب کی تقلید کو اپنی زندگی کی معراج سمجھتا تھا۔ خصوصاً جو لوگ یورپ سے ہو کر آئے تھے ان کی آنکھیں وہاں کی چکاچوند سے چندھیا جاتی تھیں۔ ہاں ان میں اقبال جیسے لوگ بھی تھے جو مغرب جاکر وہاں سے مرعوب ہو کر نہیں آئے تھے،بلکہ اُس کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں واضح نقطہ نظر کے حامل ہو کر وطن واپس لوٹے تھے، لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ مغرب سے مرعوب حضرات جب وطن واپس آئے تو انہیں مغرب کا ہر گوشہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اقبال کو صرف یہ دکھ نہیں تھا کہ ہندوستان انگریزوں کی غلامی قبول کر چکا ہے ،بلکہ اُسے اس بات کا رنج تھا کہ تمام عالم اسلام یورپی اقوام کی ہوس گیری کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بات نے اقبال کے دل میں مغربی تہذیب کے خلاف نفرت کے جذبات بھر دئیے ورنہ اقبال نے اُس کے روشن پہلوئوں کی جابجا تعریف کی ہے۔
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی خامیاں:
مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ تین سو سال سے یورپ میں پیدا ہوئی اور جن کی بنیاد عقلیت ، مادیت اور سائنسی ترقی پر ہے اقبال نے یورپی تہذیب کی خامیوں کو کھل کر آشکارہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی نظر میں اس تہذیب کی بڑی بڑی خامیاں حسبِ ذیل ہیں۔
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو
ہوس کی پنجہ خونیں میں تیغ کار زاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بناءسرمایہ داری ہے
یہ پیر کلیسا کے کرامات ہیں آج
بجلی کے چراغوں سے منور کئے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پر مرادل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
مادیت:
اقبال کے نزدیک اس تہذیب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ مادی ترقی اور کسبِ زر کو زندگی کی معراج سمجھتی ہے انسانی اخلاق اور روحانی اقدار کی ان کی نظر میں کوئی قیمت نہیں، چنانچہ انسانی زندگی میں توازن ، اعتدال اور ہم آہنگی قائم نہ رہ سکی۔
یورپ میں بہت ، روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
اقبال فرماتے ہیں کہ میں مشرق و مغرب کے مےخانوں سے خوب واقف ہوں مشرق میں ساقی نہیں اور مغرب کی صبا بے مزہ ہے ۔ جب تک ساقی کی حوصلہ مندیاں اور ذوق صبا ایک جگہ جمع نہ ہو جائیں ۔ اس وقت تک مےخانہ حیات آباد و بارونق نہیں ہو سکتا ۔ مشرق اور مغرب کی موجودہ ذہنیت کا نقشہ وہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔
بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مےخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صبا
اقبال کے خیال میں تہذیب حاضر نے جھوٹے معبودوں کا خاتمہ کیا ہے ،لیکن اس کے بعد اثبات حقیقت کی طرف اس کا قدم نہیں اُٹھ سکا ۔ اس لئے اس کی فطرت میں ایک واویلا پیدا ہو رہا ہے۔
دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا
اس مادہ پرستی نے یورپ کو اخلاقی انحطاط سے دوچار کیا ہے۔ اسے خبر نہیں کہ حقیقی راحت مادی اسباب میں نہیں روحانی بلندی میں ہے۔
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش ِ جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام
سائنسی ترقی نے مغرب کی مادی حیثیت سے غیر معمولی طاقت بخش دی ہے اور اُسے ظاہری شان و شوکت سے مالا مال کیا، لیکن انسانیت کے اصلی جوہر کو نقصان پہنچایا یہ علوم و فنون انسان کو حقیقی راحت اور آسودگی پہنچانے کے بجائے اُس کی موت کا پروانہ بن گئے۔ انہی آثار کو دیکھ کر اقبال نے پیش گوئی کی کہ:
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ ِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اقبال کو مغربی تہذیب سے یہی شکایت ہے کہ وہ ظاہری اور خارجی فلاح و بہبود پر نظر رکھتی ہے اور روح کی پاکیزگی اور بلندی کا کوئی دھیان نہیں کرتی، حالانکہ یہی انسانی افکار و اعمال کا سرچشمہ ہے یورپ نے عناصر ِ فطرت کوتو تسخیر کر لیا، لیکن روحانی نشوو نما اور صفائی قلب کی طرف توجہ نہ دے سکا۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا
مغرب میں اخلاقی اور روحانی اقدار سے روگردانی کا سبب یہ بنا کہ سائنس کے انکشافات قدم قدم پر ان کے جامد دینی عقائد سے ٹکراتے تھے ۔ علم کی روشنی نے ان جامد عقائد کو متزلزل کیا تو و ہ مذہب اور مذہب کی پیش کردہ روحانی اقدار سے ہی منکر ہوگئے مادی اسباب کی فراوانی نے تعیش اور خود غرضی کو فروغ دیا۔ عورت کو بے محابا آزادی مل گئی اور معاشرہ میں فساد برپا ہوگیا۔ روحانی اور اخلاقی اقدار کی غیرموجودگی میں مےخواری ، عریانی ، سود خوری ، اور اخلاقی پستی نے جنم لیا اور ان امراض نے یورپی تہذیب کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا۔ اقبال کو اسی لئے ایوان ِ فرنگ سست بنیاد نظر آیا تھا اور وہ اسے ایک سیل بے پناہ کی زد میں سمجھتے تھے۔
پیر مےخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سست بنیاد بھی ہے آئینہ دیوار بھی ہے
خبر ملی ہے خدایان ِ بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہگزر سیلِ بے پناہ میں ہے
خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوئے پھل کی طرح
دیکھے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال مادی ترقی کے سرے سے مخالف ہیں ،شیخ محمد اکرام ”موج کوثر“ میں لکھتے ہیں، ”اقبال پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں کہتا ہے ”اسلا م کی روح مادے کے قریب سے نہیں ڈرتی ، قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو۔“
عقلیت پرستی:
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کی بنیاد عقلیت پرستی پر ہے یہ عجیب بات ہے کہ جدید ترین تمدن انسانی افعال و افکار کو عقل کے علاہ کسی اور کسوٹی پر پرکھنے کے لئے تیار نہیں، اقبال کے نزدیک عقل حقیقت تک پہنچنے کا کوئی موزوں پیمانہ نہیں اس ناموزوں پیمانے سے حاصل شدہ نتائج ہمارے لئے حتمی درجہ نہیں رکھتے ،اگرچہ مغرب کے سارے فلسفی عقل پرستی کا شکار ہیں، لیکن اقبال اس کے مخالف ہیں۔
عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل
نئی تہذیب کی بد قسمتی ہے کہ اس نے عقل کو بے لگام چھوڑ دیا ہے کہ وہ قافلہ انسانی کو جس طرف چاہے لے جائے عقل یقینا زندگی کا بیش بہا جوہر ہے، لیکن اس جوہر کی باگیں عشق کے ہاتھ میں ہونی چاہیں عقل و عشق کی معاونت سے اچھے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔
سائنس کی ہلاکت آفرینی:
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کے فرزندوں نے مظاہر فطرت کو تسخیر کرکے اپنے فائدے کو پیش نظر رکھا، لیکن بحیثیت مجموعی انسانیت کے لئے ہلاکت آفرینی کے اسباب پیدا کئے ۔ مغربی ممالک بے پناہ قوت حاصل کرنے کے بعد کمزور ممالک کو اپنی ہوس کا شکار بنانے پر تل گئے مغرب والوں نے کارخانے بنائے جو سرمایہ داروں کے ہاتھ آگئے اور مزدور ایک دوسری قسم کی غلامی میں آزادی سے محرو م ہوگئے۔نئی تہذیب کے پرور دہ تاجرانِ فرنگ کے اسی رویے کے خلاف اقبال یہ کہہ کر احتجاج کیا۔
جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہنر کے سوا کچھ اور نہیں
مشرق کے خداوند سفیرانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلذات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے مرگ مفاجات
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
اقبال سائنسی ترقی کے خلاف نہیں وہ خود تسخیر کائنات کے مبلغ ہیں انہیں شکایت ہے کہ مغرب نے فطرت کو تو اپنے بس میں کر لیا ہے، لیکن اس سے صحیح معنوں میں کام نہیں لیا۔ اور وہ کام ہے انسانیت کی خدمت۔
مغربی تہذیب کی خوبیاں:
بعض نقادوں کے نزدیک اقبال کا نقطہ نظر مغربی تہذیب کی نسبت یکسر مختلف ہے، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا یہ کہنا درست نہیں کہ ” کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔“ یہ رائے اقبال کے حق میں منصفانہ نہیں ہے ،اقبال نے تو مغربی تہذیب کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔مثلاً:
اہل مغرب کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے وہ بے حد معترف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان بھی اس میدان میں ان کی تقلید کریں ان کے نزدیک سائنس پر اہل فرنگ کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ ایک لحاظ سے یہ مسلمانوں کی گم شدہ متا ع ہے۔ جسے حاصل کرنا ان کا فرض ہے تسخیر کائنات کے لئے کی جانے والی سائنسی ایجادات کو وہ بہت تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،چنانچہ اقبال سائنس کوفرنگی زاد نہیں مسلمان زاد بتاتے ہیں۔
حکمت اشیاءفرنگی زاد نیست
اصل اور جز لذتِ ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گلے از دست ما افتادہ است
اقبال نے مغرب کی عقل پرستی اور مادہ پرستی کی غلامی پر سخت تنقید کی ہے،کیونکہ زندگی کو صرف عقل اور مادہ تک محدود کر لیاجائے تو انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ وہ اس افادی نقطہ نظر کے مخالف ہیں جو ہر قیمت پر صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے اور دوسروں کے نقصان کی پرواہ نہیں کرتا، مگر اس بات کے وہ قائل ہیں کہ عملی زندگی کے لئے مادی ترقی کی بھی ضرورت ہے اور عقل بھی بڑا قیمتی جوہر ہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عقل اور مادہ کی ترقی اور کار گزاریوں پر روحانی اور اخلاقی پابندیاں عائد ہوں ورنہ مادی ترقیوں اور عقل کے کارناموں کے وہ معترف ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں۔
یورپی علم و ہنر نے اہل فرنگ کی تمدنی زندگی کو جو ظاہری صفائی اور سلیقہ مدنی عطا کی اسے بھی اقبال قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، انہیں افرنگ کا ہر وہ قریہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اور ان کا جی چاہتا ہے کہ ہمارے شہر بھی اسی طرح جنت منظر بن جائیں۔
اقبال اہل یورپ کی سود خوری ، میخواری ، عریانی ، بے حیائی اور مادر پدر آزادی کے تو سخت مخالف ہیں ،لیکن وہاں کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ اہل یورپ کی محنت کی عادت ، ایفائے عہد، پابندی وقت ، کاروباری دیانت اور اسی قسم کی اخلاقی خوبیوں کے باعث انہیں یورپ کے کفار اپنے ہاں کے مسلمانوں کی نسبت اسلام کے زیادہ پابند نظر آتے ہیں یورپ نے زندگی کی جو نعمتیں حاصل کی ہیں ان کے نزدیک وہ انہی اسلامی اُصولوں پر کاربند رہنے کا نتیجہ ہیں اور یہی اسلامی خوبیاں ہیں جو یورپ میں پائی جاتی ہیں مگر ہم مسلمان ان سے محروم ہیں۔
اندھی تقلید کی مذمت :
اقبال نے مغربی تہذیب اور علوم کا گہری نظر سے مطالعہ کیا تھاوہ مغربی معاشرہ کی خامیو ں اور خوبیوں سے اچھی طرح آگاہ تھے، چنانچہ انہوں نے مغربی تہذیب کی خامیوں پر نکتہ چینی کرنے کے ساتھ ساتھ ان مشرقی رہنمائوں کی بھی مذمت کی ہے جو مغرب کی اندھی تقلید کو شعار بنا کر ترقی یافتہ قوموں کے زمرہ میں شامل ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا تھے، انہوں نے مغرب کی حقیقی خوبیوں کو چھوڑ کر صرف ظاہری باتوں کو اپنا لیا اور ضروری اور غیر ضروری میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی۔
اس قسم کی تجدید اور ترقی کی کوششیں مصر ، ترکی، ایران اور افغانستان میں ہوئیں، مصطفی کمال پاشا نے ترکی میں خلافت کو ختم کر دیا۔ فقہی امور میں قران کو بالائے طاق رکھ دیا ۔ علماءکو تہ تیغ کرا دیا۔ عربی رسم الخط ترک کر کے لاطینی رسم الخط اختیا ر کر لیا اور بذعم خود اپنے ملک کو ترقی یافتہ بنا دیا۔ امیر امان اللہ خان نے افغانستان اور رضاشاہ نے ایران کو بھی اسی طرح جدید طرز کا ملک بنا نا چاہا۔ ان سب رہنمائوں نے ظاہری اُمور کو کافی سمجھا اور یہ کوشش نہ کی کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کی اچھائیوں کی اساس پر ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھے۔ اقبال نے اسی رویہ کی مذمت کی ہے۔
نہ مصطفےٰ نہ رضا شاہ میں ہے اس کی نمود
کہ روح شرق بد ن کی تلاش میں ہے ابھی
اقبال کو اس بات کو بہت رنج ہے کہ مشرقی ممالک اپنی نا سمجھی کے باعث تہذیب ِ مغرب کی اندھی تقلید کے پھندے میں پھنستے چلے جا رہے ہیں اس غفلت پر وہ اس طرح نوحہ کرتے ہیں۔
پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
اقبال کو اپنے ہم وطنوں سے بھی یہی شکوہ ہے وہ مغرب کی تقلید کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں ،حالانکہ ترقی کے لئے لباس کی خاص وضع قطع اور اپنی زبان چھوڑ کر بدیسی زبان اختیار کر لینا اور عورتوں کو بے پردہ کر دینا اور شراب و چنگ کا سہارا لینا ضروری نہیں، بلکہ یہ تو وہ راستہ تھا جو ہمیں تہذیبی اور فکری اعتبار سے مفلس بنا رہا تھا اوراسی ذریعہ سے مغربی اقوام سےاسی غلامی کے ساتھ ساتھ ہم پر اپنی ذہنی غلامی بھی مسلط کر رہے تھے۔
قوت مغرب نہ از چنگ و رباب
نے زرقص دخترانِ بے حجاب
اقبال کی پسندیدہ تہذیب:
اقبال کو مغربی تہذیب میں اگر کچھ خامیاں نظر آتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ملتِ اسلامیہ اور اسکی مروجہ تہذیب سے خوش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں اپنی قوم میں بہت سی خامیاں نظرآتی ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ اس قوم کے آگے کوئی مقصد یا نصب العین نہیں، ان کے دل گرمی ، تڑپ اور حرارت سے محروم ہیں۔دین کا نام لینے والے تو بہت ہیں لیکن دین کے اصولوں پر چلنے والے بہت کم ہیں۔ اسے نہ راستے کا پتہ ہے اور نہ منزل کا چنانچہ حال یہ ہے کہ،
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج ، دیکھ چکا صدف صدف
اگرچہ اقبال مشرق و مغرب دونوں کی موجودہ حالت سے مایوس ہیں، لیکن اُسے ایک امید ہے کہ مسلمان قوم کے پاس دین اسلام کی شکل میں ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس کی مدد سے وہ زندگی کی دوڑ میں مغربی اقوام سے آگے بھی بڑھ سکتے ہیں اور اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جدید مغربی علوم و فنون سے بھی واقف ہوں اور اپنے ورثے سے بھی بیگانہ نہ ہوں۔
مجموعی جائزہ:
مختصر یہ کہ یہی وہ تہذیب ِاسلامی ہے جس کے اقبال آرزو مند ہیں ۔ اس تہذیب کے عناصر میں اخوت ، مساوات، جمہوریت ، آزادی ، انصاف پسندی ، علم دوستی ، احترام انسانی، شائستگی ، روحانی بلندی اور اخلاقی پاکیزگی شامل ہیں اور ان کی بنیاد پر یقینا ایک صحت منداور متوازن معاشرہ کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صالح عناصر ظاہر ہے کہ موجودہ مغربی تہذیب میں موجود نہیں اس لئے اقبال اس کی مخالفت زیادہ اور تعریف کم کرتے ہیں۔
وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن
پرکار سخن ساز ہے! نمناک نہیں ہے
حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا
رقابت خود فروشی ، ناشکیبائی ، ہوسناکی

اقبال اور مغربی تہذیب


محمد جسیم الدین 
ریسرچ اسکالر ،شعبہ عربی دہلی یوینورسٹی،دہلی
مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر سو سالوں کے دوران یورپ میں اُبھری اس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت سے ہوتا ہے جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا ۔ یونانی اور لاطینی علوم کے ماہر وہاں سے نکل بھاگے اور مغربی یورپ میں پھیل گئے یورپ جو اس سے قبل جہالت کی تاریکی میں بھٹک رہا تھا ان علماءکے اثر سے اور ہسپانیہ پر عیسائیوں کے قبضہ کے بعد مسلمانوں کے علوم کے باعث ایک نئی قوت سے جاگ اُٹھا ۔ یہی زمانہ ہے جب یورپ میں سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ نئی نئی ایجادات ہوئیں اُن کے باعث نہ صرف یورپ کی پسماندگی اور جہالت کا علاج ہوگیا، بلکہ یورپی اقوام نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئیں ان کی حریصانہ نظریں ایشیاءاور افریقہ کے ممالک پر تھیں۔ انگلستان ، فرانس ، پرُ تگال اور ہالینڈ سے پیش قدمی کی اور نت نئے ممالک کو پہلے معاشی اور پھر سےاسی گرفت میں لیناشروع کر دیااس طرح تھوڑے عرصہ میں ان اقوام نے ایشیاءاور افریقہ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کرکے وہاں اپنی تہذیب کو رواج دیا اس رواج کی ابتداءیونانی علوم کی لائی ہوئی آزاد خیالی اور عقلی تفکر سے ہوئی۔ جس نے سائنسی ایجادات کی گود میں آنکھ کھولی تھی۔ سائنسی ایجادات اور مشینوں کی ترقی نے اس تہذیب کو اتنی طاقت بخش دی تھی کہ محکوم ممالک کا اس نے حتیٰ المقدور گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے عوام کی نظروں کو اپنی چکاچوند سے خیرہ کر دیا اور وہ صدیوں تک اس کے حلقہ اثر سے باہر نہ آسکے ۔ مسلمان ممالک خاص طور پر اس کا ہدف بنے ۔ ترکی ، ایران، مصر ، حجاز ، فلسطین ، مراکش ، تیونس، لیبیا، سوڈان ، عراق ، شام غرض تمام ممالک کو یورپ نے اپنا غلام بنا لیا اور ہندوستان پر قبضہ کر کے یہاں کے مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے بدظن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار
اقبال نے اپنے کلام میں جابجا مغربی تہذیب و تمدن کی خامیوں پر نکتہ چینی کی ہے اور مسلم معاشرے کو ان کے مضر اثرات سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ بعض نقادوں کے خیال میں اقبال نے مغربی تہذیب پر اعتراضات کرکے انصاف سے کام نہیں لیا۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اس بارے میں لکھتے ہیں۔
” اقبال کے ہاں مغربی تہذیب کے متعلق زیادہ تر مخالفانہ تنقید ملتی ہےاور یہ مخالفت اس کے رگ و پے میں اس قدر رچی ہوئی ہے کہ اکثر نظموں میں بے جا ضرور اس پر ایک ضرب رسید کر دیتا ہے۔“
یہ کہنا کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا کلام اقبال سے سطحی واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اقبال نے تہذیب ِ مغرب کے صرف انہی پہلو ئوں پر تنقید کی ہے جنہیں وہ مسلم معاشرے کے لئے مضر سمجھتے تھے۔ ورنہ جہاں تک اچھے پہلوئوں کا تعلق ہے اقبال اس سے کبھی منکر نہیں ہوئے۔
اپنےایک لیکچر میں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن کی اہمیت جتانے کے بعد کھل کر کہا ہے۔ ” میری ان باتوں سے یہ خیال نہ کیا جائے کہ میں مغربی تہذیب کا مخالف ہوں ۔ اسلامی تاریخ کے ہر مبصر کو لامحالہ اس امر کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہمارے عقلی و ادراکی گہوارے کو جھلانے کی خدمت مغرب نے ہی انجام دی ہے۔“
اسی طرح ایک اور جگہ وہ صاف صاف کہتے ہیں،
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا ہے ارشاد کہ ہر شب کو سحر کر
مغربی تہذیب سے اقبال کے اختلاف کے وجوہات:
اقبال نے مغربی تہذیب کی جو مخالفت کی ہے اس کی وجہ سیاسی ہے اقبال کے زمانے میں ہندوستان میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو مغربی معاشرے کی ہر بات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ قدامت پرستوں کا طبقہ تھا جسے اپنی تہذیب پر فخر تھا چاہے وہ اچھی ہو یا بری ، دوسرا طبقہ اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتے ہوئے مغرب کی تقلید کو اپنی زندگی کی معراج سمجھتا تھا۔ خصوصاً جو لوگ یورپ سے ہو کر آئے تھے ان کی آنکھیں وہاں کی چکاچوند سے چندھیا جاتی تھیں۔ ہاں ان میں اقبال جیسے لوگ بھی تھے جو مغرب جاکر وہاں سے مرعوب ہو کر نہیں آئے تھے،بلکہ اُس کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں واضح نقطہ نظر کے حامل ہو کر وطن واپس لوٹے تھے، لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ مغرب سے مرعوب حضرات جب وطن واپس آئے تو انہیں مغرب کا ہر گوشہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اقبال کو صرف یہ دکھ نہیں تھا کہ ہندوستان انگریزوں کی غلامی قبول کر چکا ہے ،بلکہ اُسے اس بات کا رنج تھا کہ تمام عالم اسلام یورپی اقوام کی ہوس گیری کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بات نے اقبال کے دل میں مغربی تہذیب کے خلاف نفرت کے جذبات بھر دئیے ورنہ اقبال نے اُس کے روشن پہلوئوں کی جابجا تعریف کی ہے۔
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی خامیاں:
مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ تین سو سال سے یورپ میں پیدا ہوئی اور جن کی بنیاد عقلیت ، مادیت اور سائنسی ترقی پر ہے اقبال نے یورپی تہذیب کی خامیوں کو کھل کر آشکارہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی نظر میں اس تہذیب کی بڑی بڑی خامیاں حسبِ ذیل ہیں۔
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو
ہوس کی پنجہ خونیں میں تیغ کار زاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بناءسرمایہ داری ہے
یہ پیر کلیسا کے کرامات ہیں آج
بجلی کے چراغوں سے منور کئے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پر مرادل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
مادیت:
اقبال کے نزدیک اس تہذیب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ مادی ترقی اور کسبِ زر کو زندگی کی معراج سمجھتی ہے انسانی اخلاق اور روحانی اقدار کی ان کی نظر میں کوئی قیمت نہیں، چنانچہ انسانی زندگی میں توازن ، اعتدال اور ہم آہنگی قائم نہ رہ سکی۔
یورپ میں بہت ، روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
اقبال فرماتے ہیں کہ میں مشرق و مغرب کے مےخانوں سے خوب واقف ہوں مشرق میں ساقی نہیں اور مغرب کی صبا بے مزہ ہے ۔ جب تک ساقی کی حوصلہ مندیاں اور ذوق صبا ایک جگہ جمع نہ ہو جائیں ۔ اس وقت تک مےخانہ حیات آباد و بارونق نہیں ہو سکتا ۔ مشرق اور مغرب کی موجودہ ذہنیت کا نقشہ وہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔
بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مےخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صبا
اقبال کے خیال میں تہذیب حاضر نے جھوٹے معبودوں کا خاتمہ کیا ہے ،لیکن اس کے بعد اثبات حقیقت کی طرف اس کا قدم نہیں اُٹھ سکا ۔ اس لئے اس کی فطرت میں ایک واویلا پیدا ہو رہا ہے۔
دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا
اس مادہ پرستی نے یورپ کو اخلاقی انحطاط سے دوچار کیا ہے۔ اسے خبر نہیں کہ حقیقی راحت مادی اسباب میں نہیں روحانی بلندی میں ہے۔
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش ِ جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام
سائنسی ترقی نے مغرب کی مادی حیثیت سے غیر معمولی طاقت بخش دی ہے اور اُسے ظاہری شان و شوکت سے مالا مال کیا، لیکن انسانیت کے اصلی جوہر کو نقصان پہنچایا یہ علوم و فنون انسان کو حقیقی راحت اور آسودگی پہنچانے کے بجائے اُس کی موت کا پروانہ بن گئے۔ انہی آثار کو دیکھ کر اقبال نے پیش گوئی کی کہ:
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ ِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اقبال کو مغربی تہذیب سے یہی شکایت ہے کہ وہ ظاہری اور خارجی فلاح و بہبود پر نظر رکھتی ہے اور روح کی پاکیزگی اور بلندی کا کوئی دھیان نہیں کرتی، حالانکہ یہی انسانی افکار و اعمال کا سرچشمہ ہے یورپ نے عناصر ِ فطرت کوتو تسخیر کر لیا، لیکن روحانی نشوو نما اور صفائی قلب کی طرف توجہ نہ دے سکا۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا
مغرب میں اخلاقی اور روحانی اقدار سے روگردانی کا سبب یہ بنا کہ سائنس کے انکشافات قدم قدم پر ان کے جامد دینی عقائد سے ٹکراتے تھے ۔ علم کی روشنی نے ان جامد عقائد کو متزلزل کیا تو و ہ مذہب اور مذہب کی پیش کردہ روحانی اقدار سے ہی منکر ہوگئے مادی اسباب کی فراوانی نے تعیش اور خود غرضی کو فروغ دیا۔ عورت کو بے محابا آزادی مل گئی اور معاشرہ میں فساد برپا ہوگیا۔ روحانی اور اخلاقی اقدار کی غیرموجودگی میں مےخواری ، عریانی ، سود خوری ، اور اخلاقی پستی نے جنم لیا اور ان امراض نے یورپی تہذیب کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا۔ اقبال کو اسی لئے ایوان ِ فرنگ سست بنیاد نظر آیا تھا اور وہ اسے ایک سیل بے پناہ کی زد میں سمجھتے تھے۔
پیر مےخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سست بنیاد بھی ہے آئینہ دیوار بھی ہے
خبر ملی ہے خدایان ِ بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہگزر سیلِ بے پناہ میں ہے
خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوئے پھل کی طرح
دیکھے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال مادی ترقی کے سرے سے مخالف ہیں ،شیخ محمد اکرام ”موج کوثر“ میں لکھتے ہیں، ”اقبال پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں کہتا ہے ”اسلا م کی روح مادے کے قریب سے نہیں ڈرتی ، قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو۔“
عقلیت پرستی:
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کی بنیاد عقلیت پرستی پر ہے یہ عجیب بات ہے کہ جدید ترین تمدن انسانی افعال و افکار کو عقل کے علاہ کسی اور کسوٹی پر پرکھنے کے لئے تیار نہیں، اقبال کے نزدیک عقل حقیقت تک پہنچنے کا کوئی موزوں پیمانہ نہیں اس ناموزوں پیمانے سے حاصل شدہ نتائج ہمارے لئے حتمی درجہ نہیں رکھتے ،اگرچہ مغرب کے سارے فلسفی عقل پرستی کا شکار ہیں، لیکن اقبال اس کے مخالف ہیں۔
عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل
نئی تہذیب کی بد قسمتی ہے کہ اس نے عقل کو بے لگام چھوڑ دیا ہے کہ وہ قافلہ انسانی کو جس طرف چاہے لے جائے عقل یقینا زندگی کا بیش بہا جوہر ہے، لیکن اس جوہر کی باگیں عشق کے ہاتھ میں ہونی چاہیں عقل و عشق کی معاونت سے اچھے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔
سائنس کی ہلاکت آفرینی:
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کے فرزندوں نے مظاہر فطرت کو تسخیر کرکے اپنے فائدے کو پیش نظر رکھا، لیکن بحیثیت مجموعی انسانیت کے لئے ہلاکت آفرینی کے اسباب پیدا کئے ۔ مغربی ممالک بے پناہ قوت حاصل کرنے کے بعد کمزور ممالک کو اپنی ہوس کا شکار بنانے پر تل گئے مغرب والوں نے کارخانے بنائے جو سرمایہ داروں کے ہاتھ آگئے اور مزدور ایک دوسری قسم کی غلامی میں آزادی سے محرو م ہوگئے۔نئی تہذیب کے پرور دہ تاجرانِ فرنگ کے اسی رویے کے خلاف اقبال یہ کہہ کر احتجاج کیا۔
جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہنر کے سوا کچھ اور نہیں
مشرق کے خداوند سفیرانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلذات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے مرگ مفاجات
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
اقبال سائنسی ترقی کے خلاف نہیں وہ خود تسخیر کائنات کے مبلغ ہیں انہیں شکایت ہے کہ مغرب نے فطرت کو تو اپنے بس میں کر لیا ہے، لیکن اس سے صحیح معنوں میں کام نہیں لیا۔ اور وہ کام ہے انسانیت کی خدمت۔
مغربی تہذیب کی خوبیاں:
بعض نقادوں کے نزدیک اقبال کا نقطہ نظر مغربی تہذیب کی نسبت یکسر مختلف ہے، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا یہ کہنا درست نہیں کہ ” کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔“ یہ رائے اقبال کے حق میں منصفانہ نہیں ہے ،اقبال نے تو مغربی تہذیب کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔مثلاً:
اہل مغرب کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے وہ بے حد معترف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان بھی اس میدان میں ان کی تقلید کریں ان کے نزدیک سائنس پر اہل فرنگ کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ ایک لحاظ سے یہ مسلمانوں کی گم شدہ متا ع ہے۔ جسے حاصل کرنا ان کا فرض ہے تسخیر کائنات کے لئے کی جانے والی سائنسی ایجادات کو وہ بہت تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،چنانچہ اقبال سائنس کوفرنگی زاد نہیں مسلمان زاد بتاتے ہیں۔
حکمت اشیاءفرنگی زاد نیست
اصل اور جز لذتِ ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گلے از دست ما افتادہ است
اقبال نے مغرب کی عقل پرستی اور مادہ پرستی کی غلامی پر سخت تنقید کی ہے،کیونکہ زندگی کو صرف عقل اور مادہ تک محدود کر لیاجائے تو انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ وہ اس افادی نقطہ نظر کے مخالف ہیں جو ہر قیمت پر صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے اور دوسروں کے نقصان کی پرواہ نہیں کرتا، مگر اس بات کے وہ قائل ہیں کہ عملی زندگی کے لئے مادی ترقی کی بھی ضرورت ہے اور عقل بھی بڑا قیمتی جوہر ہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عقل اور مادہ کی ترقی اور کار گزاریوں پر روحانی اور اخلاقی پابندیاں عائد ہوں ورنہ مادی ترقیوں اور عقل کے کارناموں کے وہ معترف ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں۔
یورپی علم و ہنر نے اہل فرنگ کی تمدنی زندگی کو جو ظاہری صفائی اور سلیقہ مدنی عطا کی اسے بھی اقبال قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، انہیں افرنگ کا ہر وہ قریہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اور ان کا جی چاہتا ہے کہ ہمارے شہر بھی اسی طرح جنت منظر بن جائیں۔
اقبال اہل یورپ کی سود خوری ، میخواری ، عریانی ، بے حیائی اور مادر پدر آزادی کے تو سخت مخالف ہیں ،لیکن وہاں کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ اہل یورپ کی محنت کی عادت ، ایفائے عہد، پابندی وقت ، کاروباری دیانت اور اسی قسم کی اخلاقی خوبیوں کے باعث انہیں یورپ کے کفار اپنے ہاں کے مسلمانوں کی نسبت اسلام کے زیادہ پابند نظر آتے ہیں یورپ نے زندگی کی جو نعمتیں حاصل کی ہیں ان کے نزدیک وہ انہی اسلامی اُصولوں پر کاربند رہنے کا نتیجہ ہیں اور یہی اسلامی خوبیاں ہیں جو یورپ میں پائی جاتی ہیں مگر ہم مسلمان ان سے محروم ہیں۔
اندھی تقلید کی مذمت :
اقبال نے مغربی تہذیب اور علوم کا گہری نظر سے مطالعہ کیا تھاوہ مغربی معاشرہ کی خامیو ں اور خوبیوں سے اچھی طرح آگاہ تھے، چنانچہ انہوں نے مغربی تہذیب کی خامیوں پر نکتہ چینی کرنے کے ساتھ ساتھ ان مشرقی رہنمائوں کی بھی مذمت کی ہے جو مغرب کی اندھی تقلید کو شعار بنا کر ترقی یافتہ قوموں کے زمرہ میں شامل ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا تھے، انہوں نے مغرب کی حقیقی خوبیوں کو چھوڑ کر صرف ظاہری باتوں کو اپنا لیا اور ضروری اور غیر ضروری میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی۔
اس قسم کی تجدید اور ترقی کی کوششیں مصر ، ترکی، ایران اور افغانستان میں ہوئیں، مصطفی کمال پاشا نے ترکی میں خلافت کو ختم کر دیا۔ فقہی امور میں قران کو بالائے طاق رکھ دیا ۔ علماءکو تہ تیغ کرا دیا۔ عربی رسم الخط ترک کر کے لاطینی رسم الخط اختیا ر کر لیا اور بذعم خود اپنے ملک کو ترقی یافتہ بنا دیا۔ امیر امان اللہ خان نے افغانستان اور رضاشاہ نے ایران کو بھی اسی طرح جدید طرز کا ملک بنا نا چاہا۔ ان سب رہنمائوں نے ظاہری اُمور کو کافی سمجھا اور یہ کوشش نہ کی کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کی اچھائیوں کی اساس پر ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھے۔ اقبال نے اسی رویہ کی مذمت کی ہے۔
نہ مصطفےٰ نہ رضا شاہ میں ہے اس کی نمود
کہ روح شرق بد ن کی تلاش میں ہے ابھی
اقبال کو اس بات کو بہت رنج ہے کہ مشرقی ممالک اپنی نا سمجھی کے باعث تہذیب ِ مغرب کی اندھی تقلید کے پھندے میں پھنستے چلے جا رہے ہیں اس غفلت پر وہ اس طرح نوحہ کرتے ہیں۔
پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
اقبال کو اپنے ہم وطنوں سے بھی یہی شکوہ ہے وہ مغرب کی تقلید کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں ،حالانکہ ترقی کے لئے لباس کی خاص وضع قطع اور اپنی زبان چھوڑ کر بدیسی زبان اختیار کر لینا اور عورتوں کو بے پردہ کر دینا اور شراب و چنگ کا سہارا لینا ضروری نہیں، بلکہ یہ تو وہ راستہ تھا جو ہمیں تہذیبی اور فکری اعتبار سے مفلس بنا رہا تھا اوراسی ذریعہ سے مغربی اقوام سےاسی غلامی کے ساتھ ساتھ ہم پر اپنی ذہنی غلامی بھی مسلط کر رہے تھے۔
قوت مغرب نہ از چنگ و رباب
نے زرقص دخترانِ بے حجاب
اقبال کی پسندیدہ تہذیب:
اقبال کو مغربی تہذیب میں اگر کچھ خامیاں نظر آتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ملتِ اسلامیہ اور اسکی مروجہ تہذیب سے خوش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں اپنی قوم میں بہت سی خامیاں نظرآتی ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ اس قوم کے آگے کوئی مقصد یا نصب العین نہیں، ان کے دل گرمی ، تڑپ اور حرارت سے محروم ہیں۔دین کا نام لینے والے تو بہت ہیں لیکن دین کے اصولوں پر چلنے والے بہت کم ہیں۔ اسے نہ راستے کا پتہ ہے اور نہ منزل کا چنانچہ حال یہ ہے کہ،
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج ، دیکھ چکا صدف صدف
اگرچہ اقبال مشرق و مغرب دونوں کی موجودہ حالت سے مایوس ہیں، لیکن اُسے ایک امید ہے کہ مسلمان قوم کے پاس دین اسلام کی شکل میں ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس کی مدد سے وہ زندگی کی دوڑ میں مغربی اقوام سے آگے بھی بڑھ سکتے ہیں اور اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جدید مغربی علوم و فنون سے بھی واقف ہوں اور اپنے ورثے سے بھی بیگانہ نہ ہوں۔
مجموعی جائزہ:
مختصر یہ کہ یہی وہ تہذیب ِاسلامی ہے جس کے اقبال آرزو مند ہیں ۔ اس تہذیب کے عناصر میں اخوت ، مساوات، جمہوریت ، آزادی ، انصاف پسندی ، علم دوستی ، احترام انسانی، شائستگی ، روحانی بلندی اور اخلاقی پاکیزگی شامل ہیں اور ان کی بنیاد پر یقینا ایک صحت منداور متوازن معاشرہ کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صالح عناصر ظاہر ہے کہ موجودہ مغربی تہذیب میں موجود نہیں اس لئے اقبال اس کی مخالفت زیادہ اور تعریف کم کرتے ہیں۔
وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن
پرکار سخن ساز ہے! نمناک نہیں ہے
حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا
رقابت خود فروشی ، ناشکیبائی ، ہوسناکی

Thursday, 9 February 2012

یوم محبت

محمد جسیم الدین قاسمی ،ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسیٹی،دہلی
جیسے جیسے فروری کا مہینہ شروع ہوجاتا ہے ، ہر جگہ یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) منانے کی تیاریاں زور وشور سے شروع ہوجاتی ہیں ، ہوٹلس ، بیئر بار اور نائٹ کلب کا تو کیا کہنا ! آج کل تو پورا کا پورا بازار اور منڈی کی منڈی اسی یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) کے سرخ رنگ اور دل کی علامت والے تحفے تحائف سے مزین ہوجاتی ہے ، سونے پر سہاگہ یہ کہ موجودہ ذرائع ابلاغ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا رہی سہی کسر کو پورا کرتے ہوئے اس میں چار چاند لگادیتا ہے اور پھر 14 فروری کو بڑے دھوم دھام کے ساتھ محبت کے نام پر داد عیش دی جاتی ہے ، جام وسرور کا بازار گرم ہوتا ہے ، شراب وشباب کی محفلیں جم جاتی ہیں اور آزادی کے نام پر آزادی کی تمام حدیں پار کی جاتی ہیں ، آج کل یہ صرف ہوٹل کے بند کمروں ، نائٹ کلبوں ہی میں نہیں ہوتا، بلکہ یہ تماشا گلی گلی کے نکڑ اور چوراہوں پر پیش کیا جارہاہے ۔
پہلے پہل محبت کا یہ بدنام دن صرف امریکہ اور یوروپ کی اخلاق واقدار سے عاری تنگ وتاریک محفلوں اور جھومتے گاتے نائٹ کلب کی بزم میں ہی روایتی انداز سے منایا جاتا تھا ،مگر آج تو ہر جگہ مغرب اور اس کی بدبخت تہذیب کی اندھی تقلید کا دور ہے ، اہل مشرق جہاں ان کی نقالی اور رسم ورواج کو اپنانے ہی میں اپنا طرہ امتیاز جان رہے ہیں اور اخلاق واقدار کے تارپود بکھیرنے والے رسم و رواج ، عید وتہوار اور خصوصی دنوں کو دین وشریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بلاچوں چرا ماننے ، منانے اور جشن کرنے کو اپنے مہذب اور مثقف ہونے کی علامت سمجھ رہے ہیں تو وہیں یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) بھی اسی میں شامل ہوگیا ہے۔
یوم محبت کی حقیقت اور تاریخ
ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا یہ دن در اصل موجودہ عیسائیوں کی ایک عید ہے جس میں وہ اپنے مشرکانہ عقائد کے اعتبار سے خدائی محبت کی محفلیں جماتے ہیں ، اس کا آغاز تقریباً 1700 سال قبل رومانیوں کے دور میں ہوا جب کہ اس وقت رومانیوں میں بت پرستی عام تھی اور رومانیوں نے پوپ والنٹائن (ویلینٹائن) کو بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنےکے جرم میں سزائے موت دی تھی، لیکن جب خود رومانیوں نے عیسائیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ والنٹائن (ویلینٹائن) کی سزائے موت کے دن کو’یوم شہید محبت‘ کہہ کر اپنی عید بنالی ، اسی تاریخ کے ساتھ 14 فروری کو’ یوم محبت‘ (ویلنٹائن ڈے) کی کچھ اور مناسبتیں بھی بیان کی جاتی ہیں:
1۔      عیسائیوں کے نزدیک 14 فروری کا دن رومانی دیوی’ یونو‘ (جو کہ یونانی دیوی دیوتاؤوں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی ہے) کا مقدس دن مانا جاتا ہے جب کہ 15 فروری کا دن ان کے ایک دیوتا’ لیسیوس‘ کا مقدس دن ہے ( ان کے عقیدے کے مطابق لیسیوس ایک بھیڑیا تھی جس نے دوننھے منھے بچوں کو دودھ پلایا تھا جو  آگے چل کر روم شہر کے بانی ہوئے) ۔
2۔     ایک مناسبت یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جب رومانی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لئے لشکر تیار کرنے میں صعوبت ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا ، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن والنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ شادی رچالی ، جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے والنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی ، بنا بر ایں لیسیوس کے پجاریوں اور کنیسہ نے اس مقدس دن کو والنٹائن کی یاد میں عید کادن بنادیا۔
 یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) دین وشریعت کی نظر میں
ہر دین ومذہب کے کچھ ایسے رسم ورواج ، عید وتہوار اور تہذیب وثقافت ہوتی ہے جس سے وہ دین اور اس کے ماننے والے پہچانے جاتے ہیں۔
 یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) کی حقیقت اور تاریخ سے جب یہ بات بالکل عیاں ہے کہ یہ عیسائیوں کا ایک مقدس اور عید کادن ہے تو اس بات پر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ آج کا مسلمان بھی اس دن کو غیروں کی طرح دین وشریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بڑی خوشدلی کے ساتھ منارہا ہے ، آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں دین وشریعت کیا کہتی ہے:
 مسلمانوں کی دوعید : عیدالفطر ، عیدالاضحیٰ
اللہ تعالی نے امت اسلامیہ کے لئے اپنے محبوب کی لائی ہوئی شریعت میں دودن عید کے طور پر خوشیاں منانے کے لئے عطا کئے ہیں ، عید کا لفظ ایسی مناسبات پر دلالت کرتا ہے جو ایک متعین دن اور متعین وقت میں آتی جاتی رہتی ہے ، یہ خدا کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے ایک تحفہ اور خوشیوں کا دن ہوتا ہے جس میں بندے پر یہ ضروری ہے کہ وہ خود بھی خوش اور ہشاش بشاش ہو ، اپنی خوشی کا اظہار بھی کرے اور اپنے خدا کو بھی راضی اور خوش کرے ، اسی لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے خدا کے بتائے ہوئے جملہ احکام و امور کا خیال رکھے اور اپنی خوشیوں میں کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے اس کا خدا ناخوش ہو جائے ، اسی لئے عید میں یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ اس کی خوشیاں عبادت کے طور پر خدائی احکامات کے مطابق انجام دی جائیں ، اسی وجہ سے اپنی خوشیوں کے دن اور عیدوں میں کفار کی مشابہت اور موافقت سے منع کیا گیا ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلے میں صاف صاف لکھا ہے کہ عید اللہ کی جانب سے نازل کردہ عبادات میں سے ایک عبادت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول’ ان لکل امۃ عیدا وان ھذا عیدنا ‘ کے مطابق یہ عیدیں امت کی خصوصیت ہیں۔
جب اللہ تعالی نے امت کو دو بہترین عید سے نوازا ہے تو پھر غیروں اور کفار کی عید کو منانا یا اس میں شرکت کرنا بالکل حرام ہے جیسا کہ علماے امت اور فقہاء کرام نے اس کی وضاحت کی ہے۔
 3.     اس دن جو تحفے تحائف دئے جاتے ہیں ، اس دن کو منائے بغیر ان کو فروخت کرنا کیسا ہے ؟
 کتاب وسنت کے صریح دلائل اور انکی روشنی میں علماء امت کے اجماع سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے اس امت کے حق میں صرف دو عیدیں مقرر کی ہیں ، ایک عیدالفطر ، دوسری عید الاضحیٰ ، ان دونوں عید کے علاوہ دوسری جو بھی عید ہے ، چاہے وہ کسی شخصیت کے تعلق سے ہو ، کسی جماعت یا فرقہ کے تعلق سے ، یا کسی واقعہ کے تعلق سے یا پھر اور کسی معنی میں سب کی سب بدعت ہیں اور دین و شریعت میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے ، اس وجہ سے کسی مسلمان کو ان دونوں عیدین کے علاوہ کوئی اور عید ماننا ، خوشیاں منانا اور نہ ہی اس کا اقرار کرنا  جائز ہے ، بلکہ اس سلسلہ میں مدد ومعاونت بھی تعاون علی الاثم والعدوان سمجھی جائیگی جوکہ ازروئے قرآن حرام ہے اور جب کہ کوئی عید کفار اور یہود ونصاری کی عید ہو تو پھر یہ گناہ پر گناہ ہوگا ، اس میں ان کی مشابھت اور انی کی موالات ودوستی بھی صادق آئیگی جس سے ہر اہل ایمان کو منع کیا گیا ہے ۔
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) بھی انہی میں سے ہے جس کو موجودہ دور کے عیسائی اپنی عید کے طور پر مناتے ہیں ، پس کسی مسلمان کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اس کا اقرار کرے ، اس کو منائے یا اسکی مبارک باد دے ، بلکہ اس سے اجتناب بہت ضروری ہے ، اسی طرح اس سلسلے میں کسی بھی طرح کا تعاون بھی حرام ہے جیسے کھانے پینے ، خرید وفروخت ، تحفے تحائف بنانا یا پیش کرنا ، کارڈ بھیجنا ، پیغام بھیجنا یا اس کا اعلان و پوسٹر بنانا وغیرہ ، یہ سبھی امور حرام ہیں ۔
لہذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور یہود ونصاریٰ کی ان گمراہیوں سے خود 
کو دور رکھے اور اللہ تعالی سے ھدایت اور اسلام کی سربلندی مانگتا رہے ۔


یوم محبت


جیسے جیسے فروری کا مہینہ شروع ہوجاتا ہے ، ہر جگہ یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) منانے کی تیاریاں زور وشور سے شروع ہوجاتی ہیں ، ہوٹلس ، بیئر بار اور نائٹ کلب کا تو کیا کہنا ! آج کل تو پورا کا پورا بازار اور منڈی کی منڈی اسی یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) کے سرخ رنگ اور دل کی علامت والے تحفے تحائف سے مزین ہوجاتی ہے ، سونے پر سہاگہ یہ کہ موجودہ ذرائع ابلاغ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا رہی سہی کسر کو پورا کرتے ہوئے اس میں چار چاند لگادیتا ہے اور پھر 14 فروری کو بڑے دھوم دھام کے ساتھ محبت کے نام پر داد عیش دی جاتی ہے ، جام وسرور کا بازار گرم ہوتا ہے ، شراب وشباب کی محفلیں جم جاتی ہیں اور آزادی کے نام پر آزادی کی تمام حدیں پار کی جاتی ہیں ، آج کل یہ صرف ہوٹل کے بند کمروں ، نائٹ کلبوں ہی میں نہیں ہوتا، بلکہ یہ تماشا گلی گلی کے نکڑ اور چوراہوں پر پیش کیا جارہاہے ۔
پہلے پہل محبت کا یہ بدنام دن صرف امریکہ اور یوروپ کی اخلاق واقدار سے عاری تنگ وتاریک محفلوں اور جھومتے گاتے نائٹ کلب کی بزم میں ہی روایتی انداز سے منایا جاتا تھا ،مگر آج تو ہر جگہ مغرب اور اس کی بدبخت تہذیب کی اندھی تقلید کا دور ہے ، اہل مشرق جہاں ان کی نقالی اور رسم ورواج کو اپنانے ہی میں اپنا طرہ امتیاز جان رہے ہیں اور اخلاق واقدار کے تارپود بکھیرنے والے رسم و رواج ، عید وتہوار اور خصوصی دنوں کو دین وشریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بلاچوں چرا ماننے ، منانے اور جشن کرنے کو اپنے مہذب اور مثقف ہونے کی علامت سمجھ رہے ہیں تو وہیں یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) بھی اسی میں شامل ہوگیا ہے۔
یوم محبت کی حقیقت اور تاریخ
ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا یہ دن در اصل موجودہ عیسائیوں کی ایک عید ہے جس میں وہ اپنے مشرکانہ عقائد کے اعتبار سے خدائی محبت کی محفلیں جماتے ہیں ، اس کا آغاز تقریباً 1700 سال قبل رومانیوں کے دور میں ہوا جب کہ اس وقت رومانیوں میں بت پرستی عام تھی اور رومانیوں نے پوپ والنٹائن (ویلینٹائن) کو بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنےکے جرم میں سزائے موت دی تھی، لیکن جب خود رومانیوں نے عیسائیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ والنٹائن (ویلینٹائن) کی سزائے موت کے دن کو’یوم شہید محبت‘ کہہ کر اپنی عید بنالی ، اسی تاریخ کے ساتھ 14 فروری کو’ یوم محبت‘ (ویلنٹائن ڈے) کی کچھ اور مناسبتیں بھی بیان کی جاتی ہیں:
1۔      عیسائیوں کے نزدیک 14 فروری کا دن رومانی دیوی’ یونو‘ (جو کہ یونانی دیوی دیوتاؤوں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی ہے) کا مقدس دن مانا جاتا ہے جب کہ 15 فروری کا دن ان کے ایک دیوتا’ لیسیوس‘ کا مقدس دن ہے ( ان کے عقیدے کے مطابق لیسیوس ایک بھیڑیا تھی جس نے دوننھے منھے بچوں کو دودھ پلایا تھا جو  آگے چل کر روم شہر کے بانی ہوئے) ۔
2۔     ایک مناسبت یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جب رومانی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لئے لشکر تیار کرنے میں صعوبت ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا ، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن والنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ شادی رچالی ، جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے والنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی ، بنا بر ایں لیسیوس کے پجاریوں اور کنیسہ نے اس مقدس دن کو والنٹائن کی یاد میں عید کادن بنادیا۔
 یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) دین وشریعت کی نظر میں
ہر دین ومذہب کے کچھ ایسے رسم ورواج ، عید وتہوار اور تہذیب وثقافت ہوتی ہے جس سے وہ دین اور اس کے ماننے والے پہچانے جاتے ہیں۔
 یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) کی حقیقت اور تاریخ سے جب یہ بات بالکل عیاں ہے کہ یہ عیسائیوں کا ایک مقدس اور عید کادن ہے تو اس بات پر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ آج کا مسلمان بھی اس دن کو غیروں کی طرح دین وشریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بڑی خوشدلی کے ساتھ منارہا ہے ، آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں دین وشریعت کیا کہتی ہے:
 مسلمانوں کی دوعید : عیدالفطر ، عیدالاضحیٰ
اللہ تعالی نے امت اسلامیہ کے لئے اپنے محبوب کی لائی ہوئی شریعت میں دودن عید کے طور پر خوشیاں منانے کے لئے عطا کئے ہیں ، عید کا لفظ ایسی مناسبات پر دلالت کرتا ہے جو ایک متعین دن اور متعین وقت میں آتی جاتی رہتی ہے ، یہ خدا کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے ایک تحفہ اور خوشیوں کا دن ہوتا ہے جس میں بندے پر یہ ضروری ہے کہ وہ خود بھی خوش اور ہشاش بشاش ہو ، اپنی خوشی کا اظہار بھی کرے اور اپنے خدا کو بھی راضی اور خوش کرے ، اسی لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے خدا کے بتائے ہوئے جملہ احکام و امور کا خیال رکھے اور اپنی خوشیوں میں کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے اس کا خدا ناخوش ہو جائے ، اسی لئے عید میں یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ اس کی خوشیاں عبادت کے طور پر خدائی احکامات کے مطابق انجام دی جائیں ، اسی وجہ سے اپنی خوشیوں کے دن اور عیدوں میں کفار کی مشابہت اور موافقت سے منع کیا گیا ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلے میں صاف صاف لکھا ہے کہ عید اللہ کی جانب سے نازل کردہ عبادات میں سے ایک عبادت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول’ ان لکل امۃ عیدا وان ھذا عیدنا ‘ کے مطابق یہ عیدیں امت کی خصوصیت ہیں۔
جب اللہ تعالی نے امت کو دو بہترین عید سے نوازا ہے تو پھر غیروں اور کفار کی عید کو منانا یا اس میں شرکت کرنا بالکل حرام ہے جیسا کہ علماے امت اور فقہاء کرام نے اس کی وضاحت کی ہے۔
 3.     اس دن جو تحفے تحائف دئے جاتے ہیں ، اس دن کو منائے بغیر ان کو فروخت کرنا کیسا ہے ؟
 کتاب وسنت کے صریح دلائل اور انکی روشنی میں علماء امت کے اجماع سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے اس امت کے حق میں صرف دو عیدیں مقرر کی ہیں ، ایک عیدالفطر ، دوسری عید الاضحیٰ ، ان دونوں عید کے علاوہ دوسری جو بھی عید ہے ، چاہے وہ کسی شخصیت کے تعلق سے ہو ، کسی جماعت یا فرقہ کے تعلق سے ، یا کسی واقعہ کے تعلق سے یا پھر اور کسی معنی میں سب کی سب بدعت ہیں اور دین و شریعت میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے ، اس وجہ سے کسی مسلمان کو ان دونوں عیدین کے علاوہ کوئی اور عید ماننا ، خوشیاں منانا اور نہ ہی اس کا اقرار کرنا  جائز ہے ، بلکہ اس سلسلہ میں مدد ومعاونت بھی تعاون علی الاثم والعدوان سمجھی جائیگی جوکہ ازروئے قرآن حرام ہے اور جب کہ کوئی عید کفار اور یہود ونصاری کی عید ہو تو پھر یہ گناہ پر گناہ ہوگا ، اس میں ان کی مشابھت اور انی کی موالات ودوستی بھی صادق آئیگی جس سے ہر اہل ایمان کو منع کیا گیا ہے ۔
یوم محبت (ویلنٹائن ڈے) بھی انہی میں سے ہے جس کو موجودہ دور کے عیسائی اپنی عید کے طور پر مناتے ہیں ، پس کسی مسلمان کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اس کا اقرار کرے ، اس کو منائے یا اسکی مبارک باد دے ، بلکہ اس سے اجتناب بہت ضروری ہے ، اسی طرح اس سلسلے میں کسی بھی طرح کا تعاون بھی حرام ہے جیسے کھانے پینے ، خرید وفروخت ، تحفے تحائف بنانا یا پیش کرنا ، کارڈ بھیجنا ، پیغام بھیجنا یا اس کا اعلان و پوسٹر بنانا وغیرہ ، یہ سبھی امور حرام ہیں ۔
لہذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور یہود ونصاریٰ کی ان گمراہیوں سے خود کو دور رکھے اور اللہ تعالی سے ھدایت اور اسلام کی سربلندی مانگتا رہے ۔

Sunday, 1 January 2012

لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

کیامسلمان اتر پردیش کی سیاسی تقدیر بدل پائیں گے ؟

محمد جسیم الدین قاسمی
اتر پردیش کے اسمبلی الیکشن کا جو منظر نامہ ہے اس سے بخوبی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ اس با ر کسی ایک پارٹی کو ایسی وا ضح اکثریت حاصل ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے،یہ سبھی پارٹیاں جانتی ہیں کہ یوپی میں وہی پارٹی اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرسکتی ہے ،جس کا سپورٹ یوپی کے ۲۰ فیصد مسلمان کریں گے۔اسی ۲۰فیصد ووٹ کو اپنے حق میں مختص کرانے کے لیےکیا کانگریس ،کیا سماجوادی،کیا بہوجن سماج پارٹی نے ہر ایک مسلمانوں کے در پر یا پھر ان کے ووٹ کے سوداگروں کے پاس جبیں سائی شروع کردی ہے۔کیا اس بار پھر مسلمان دھوکہ کھائیں گے اور اپنا ووٹ یونہی بے کار کریں گے یا ہوش کا ناخن لے کر ان پارٹیوں کو سبق سکھائیں گے ،جنھوں نے انھیں زندگی کے ہر محاذ پر دھوکہ دیا ہے۔انھیں تعلیم ،ترقی اور روشنی سے دور رکھا ہے۔آج بھی یوپی کے مسلمان بےروزگای کی مار جھیل رہے ہیں ،ان کے گاؤوں میں بجلی نہیں ہے،ہرپارٹی الیکشن سے پہلے مسلمانوں کو رجھانے کے لیے قسم قسم کے وعدے کرتے ہوئے نہیں تھکتی ،لیکن الیکشن میں میں کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہی ان سے آنکھیں پھیر لیتی ہیں ۔ہندوستان کے جمہوریہ بننے کے بعد ۱۹۵۱میں پہلی بار اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے، تو کانگریس نے۳۸۸سیٹیں جیت کر حکومت بنائی تھی۔ اس وقت سماجوادی پارٹی کو۲۰سیٹیں اور جن سنگھ (موجودہ بی جے پی) کے حصے میں محض دو سیٹیں آئی تھیں۔ وقت گزرتا گیا اور۲۰۰۷ تک آتے آتے سیاسی جماعتوں کے مبینہ اعداد و شمار پوری طرح پلٹ گئے۔۲۰۰۷ کے اسمبلی انتخابات میں اول نمبر کی قومی پارٹی کانگریس محض۲۲ سیٹوں پر سمٹ کر چوتھے درجے کی جماعت بن گئی اور ایک نئی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، جس نے ۱۹۸۹ کے اسمبلی انتخابات میں غیر تسلیم شدہ رجسٹرڈ پارٹی کی حیثیت سے حصہ لیا تھا، وہ۲۰۶ سیٹیں جیٹ کر اول نمبر کی پارٹی بن کر پوری اکثریت کے ساتھ اتر پردیش کے تخت و تاج پر قابض ہو گئی۔ ۱۹۵۱ء سے۲۰۰۷ء تک اتر پردیش کے عوام نے کانگریس کے علاوہ جنتا پارٹی، سماجوادی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو ریاست کی باگ ڈور سونپی، مگر کسی پارٹی اور حکومت نے ان کی فلاح و بہود کے لیے نہیں سوچا۔ ان کی بدحالی، بے روزگاری کو دور کرنے کے لیے لیڈران نے وعدے تو خوب کیے، لیکن عملی طور پر سب کے سب نکمّے ہی ثابت ہوئے۔جو مسلمان ایک ہزار برس تک ہندستان پر حکومت کرتا رہا،جس نے جدید بھارت کی تعمیرکی،آج اسی مسلمان کی حالت اس کے اپنے دیش میں دلتوں سے بھی بدتر کیوں ہیں ،اس کے بچے دردرکی ٹھوکریںکھانے پر مجبور کیوں ہیں،ان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پولیس کیوں گرفتار کرکے ان کی زندگی سے کھلواڑ کررہی ہے ،مسلمانوں کی اس حالت کے لیے ذمہ دار کون ہے؟کیا مسلمان اپنی سنہری تاریخ کو ذہن نشیں رکھتے ہوئے ان مفاد پرست سوداگروںکو سبق سکھانے کی ہمت کریں گے ،جنھون نے ان کی ترقی کے نام پر ان کے خون کو اپنی غذا بنالی،آج سچائی سے منھ چرانے کا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں رہ گیا ہے،سچائی اظہر من الشمس ہے۔مسلمانوں کو اس ملک کے جمہوری نظام نے یہ حسین موقع دیا ہے کہ وی اس بار ان پارٹیوں کو پہلے معافی مانگنے کے لیے مجبور کریں ،جنھوں نے ان کے ووٹوں کے سہارے اقتدار میں جگہ بنائی اور انھی کے سر پر جوتے برسائی۔آج اگر مسلمان اپنے ووٹ کی طاقت سے پوری طرح واقف ہوجائے تو بعیدنہیں کہ ان کی سیاسی وسماجی تقدیر بدل جائے۔
jasimqasmi@gmail.com