Tuesday, 19 May 2020

فقیہ النفس محدث جلیل مفتی سعید احمد پالنپوری کی رحلت



 تیری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
ڈاکٹر جسیم الدین
گیسٹ فیکلٹی شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی ،دہلی
jasimqasmi@gmail.com
9711484126
کائنات کا روز ازل سے یہ دستور ہے کہ جوبھی کارگہ عالم میں آیا ہے،اسے ایک نہ ایک دن جاناپڑے گا، لیکن بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں، جن کے وجود سے ایک انجمن آراستہ رہتی ہے اور ان کے جانے سے انجمن کی رونق ماند پڑجاتی ہے، استاذ محترم فقیہ النفس،محدث جلیل مفتی سعید احمدپالنپوری بلاشبہ ایسی شخصیت تھے کہ جن کے وجود مسعودسے دارالعلوم دیوبند کی علمی فضا معطر ومشکبار تھی، آپ کی ذات والا صفات قرن اول کی سادگی کانمونہ تھی،آپ کی طبیعت میں حلم وبردباری،مزاج میں انکساری  اورزبان میں شیرینی  تھی، آپ علم القرآن کے شیدائی،علم الحدیث کے رسیا اور فقہ اسلامی کے زمزشناس تھے، آپ کے بیان میں شیفتگی، تحریرمیں شگفتگی تھی،آپ فقید المثال اساتذ ہ کے شاگرد  اور نامور شاگردوں کے استاذ تھے، چہرہ مہرہ شرافت کی دستاویز، دل خوف غیر اللہ سے خالی، دماغ غور وفکر کا خزینہ اورآپ کا سراپا اکابر واسلاف کا نمونہ تھا۔آپ کی رحلت سے ایک فرد یا ایک خانوادہ ہی نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ مغموم ورنجور ہے، آپ ملت اسلامیہ ہند کے لیے جہاں گراں مایہ تھے، وہیں علوم نبویہ کے طالبعلموں کے لیے چشمۂ صافی تھے۔آپ کے علم وفضل کادائرہ غیر محدود تھا، آپ کے درس حدیث کا عالم میں غلغلہ تھا۔صرف دارالعلوم دیوبند میں داخلہ پانے والوں نے ہی آپ کے علم وفضل سے استفادہ کیا، بلکہ آپ کی بیش قیمت تصانیف وتالیفات سے بلا تفریق مذہب وملت ہر خاص وعام نے کسب فیض کیا۔آپ کی  غیر معمولی علمی خدمات کے اعتراف میں صدرجمہوریہ ہند کی طرف سے ایوارڈبھی پیش کیاگیا۔بلاشبہ آپ کی ذات والا صفات ہرچندکہ اس طرح کے ایوارڈ سے بلند وبالاتھی، لیکن آپ نے حب الوطنی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت ہند کی طرف سے دیے جانے والے اس اعزاز کو قبول فرمالیا تھا۔
آپ کو ذات باری تعالیٰ نے جہاں قرطاس وقلم کی بے پایاں قوت واستعداد سے سرفراز کیا تھا، وہیں آپ کی شخصیت رجال سازی کے لیے مشہور تھی، آپ نہ صرف اپنے گرد وپیش رہنے والے طلبہ کے لیے فکرمند رہتے،بلکہ طلبہ کی پوری برادری کے لیے دل دردمند رکھتے تھے، راقم الحروف نے   2001 میں آپ سے جامع ترمذی جلد اول پڑھی۔درس وتدریس میں آپ کے کچھ منفرد اصول وضوابط تھے، جن پراخیر وقت تک سختی سے قائم رہے، یوں تو آپ کا طریقۂ تدریس ہی ممتازخصوصیات کا حامل تھا، شاید ہی کوئی طالب علم آپ کے سبق سے غیر حاضر ہوتا، جامع ترمذی جلد اول کی عبارت خوانی کے لیے بھی چند طلبہ کو اپنی رہائش گاہ پر بلاتے اور فرداً فرداً عبارت خوانی کراتے اگر آواز مترنم اور پرکشش ہوتی تو زہے نصیب،ورنہ جامع ترمذی کی عبارت خوانی کے شرف سے محروم رہنا پڑتا، صرف سماعت سے مستفید ہوتے۔وقت کی پابندی کا یہ عالم تھا کہ بعد نماز مغرب  متصلاً درس حدیث شروع ہوجاتا، مفتی صاحب کے ورود مسعود سے پہلے تمام طلبہ کی درسگاہ (دارلحدیث تحتانی) میں اپنی نشستوں پر موجودگی لازم ہوتی، مفتی صاحب رونق افروز ہوتے اور عشاکی اذان تک تقریباً دیڑھ گھنٹہ تشنگان علوم حدیث کو اپنے منفرد اسلوب وانداز میں سیراب کرتے۔بطور خاص سال کے اختتام پر آخری سبق جو سبھی طلبہ کے لیے اپنے میدان عمل میں نہ بھلایاجانے والا سبق ہوتا، اس سبق میں آپ کا انداز وآہنگ اتنا پرتاثیر ہوتاکہ طلبہ کی ایک بڑی تعداد جہاں آپ کے ارشادات کو قلمبند کرتے وہیں کچھ طلبہ ٹیپ ریکارڈکی  مدد سے ریکارڈنگ میں مصروف رہتے،اور باقی ہمہ تن گوش ہوکر میدان عمل میں اترنے کے لیے جن آلات کی ضرورت درپیش ہوتی ہیں ان کے بارے میں کیاتیاری ہو اور کس نہج پر ہو گرہ باندھ لیتے۔اس آخری سبق میں جہاں مفتی صاحب اپنے طلبہ کو بیش بہاپند ونصائح سے نوازتے وہیں مدارس کے مروجہ نظام (چندہ وغیرہ)پر کھل کر تنقید بھی فرماتے اور بطور خاص ناقص الاستعداد طلبہ سے منصب اہتمام سے خود کو دور رکھنے کا عہد وپیمان بھی لیتے، مفتی صاحب کا نقطۂ نظر یہ تھا منصب اہتمام مدرسہ آگ پر چلنے کے مترادف ہے، اگر یہ کوالیٹی آپ میں ہے تو آپ شوق سے منصب اہتمام کو سنبھالیے،ورنہ نہیں۔تبلیغی جماعت میں علماء کی شمولیت کتنا  مفید اور کتنا مضر؟ اس حوالے سے بھی پرتاثیر خطاب فرماتے کہ جو جید الاستعداد طلبہ ہوں وہ فراغت کے فوراً بعد سال بھرکے لیے دعوت وتبلیغ میں جانے کے بجائے تخصصات کے شعبوں میں وقت لگائیں، ہاں جو متوسط ہیں وہ درس وتدریس سے جڑ جائیں اور جو ناقص الاستعداد ہیں وہ مسجد سے وابستہ ہوکر اذان وامامت کی ذمہ داری نبھائیں۔ آپ جہاں علم حدیث میں ید طولیٰ رکھتے تھے،وہیں آپ علم کلام اور علم فقہ میں بھی ممتاز ومنفرد مقام رکھتے تھے۔آپ نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شہرۂ آفاق تصنیف ’حجۃ اللہ البالغہ‘ کی شرح’رحمۃ اللہ الواسعہ‘ کے نام سے تقریباً چار جلدوں میں لکھی، حجۃ اللہ البالغہ کی شرح ’رحمۃ اللہ الواسعہ‘ میں مفتی صاحب نے جس انداز میں شاہ ولی اللہ کے علوم ومعارف کی تشریح وتوضیح کی ہے وہ آپ کی امتیازی شان ہے۔
آپ فقیہ النفس تھے، فقہ جو در اصل قرآن  وحدیث فہمی کے بعد اس سے مستنبط ہونے والے مسائل کا مصدر وسرچشمہ ہے، اس میں بھی آپ کو رب ذوالجلال نے آفاقیت عطا فرمائی، آپ قدیم مختلف فیہ مسائل کو جس انداز سے تشریح وتوضیح کرتے ہوئے فقہ حنفی  کی وجہ ترجیح کو احادیث اور آیات قرآنی سے ثابت کرتے، یہ بھی آپ کا یگانہ اندازہوتا تھا، جدید مسائل میں بھی امت مسلمہ کی رہنمائی کافریضہ جس انداز میں انجام دیا، وہ بھی قابل رشک ہے، حال ہی میں ’کورونا‘ کے ختم ہوجانے کے سلسلے میں ’ثریا‘ ستارہ کے طلوع ہونے کے بعد بیماری کے خاتمہ کا سبب ہونے کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی گئیں تھیں اس کی واضح تردیدکرتے ہوئے  بہت  ہی مفصل محدثانہ خطاب فرمایا جو یوٹیوب وغیرہ پر موجود ہے۔غرضیکہ قدیم مختلف فیہ فروعی مسائل میں مضبوط رائے کے ساتھ نصوص شرعیہ کو پیش کرنے اور اختلاف کو رفع کرنے میں قسام ازل نے غیرمعمولی قدرت دی تھی۔چھ دہائیوں سے مسلسل درس وتدریس اور پچھلے اڑتالیس برسوں سے دارالعلوم دیوبند کی مسند درس وتدریس اورشیخ الحدیث مولانا نصیر احمد خان صاحب رحمہ اللہ کی وفات کے بعد  2009سے بحیثیت شیخ الحدیث وصدر المدرسین دارالعلوم دیوبند کی آن بان شان تھے۔آپ کا وجود ایک ادارہ، آپ کی شخصیت ایک انجمن اورآپ کی ذات ایک جماعت تھی۔کاش ابھی آپ  داغ مفارقت نہ دیتے، لیکن قدرت کے منشا کے سامنے انسان بے بس ہے۔اس مبارک ماہ میں آپ کی رحلت قابل رشک ہے،ساتھ ہی آپ کی رحلت سے نہ صرف وابستگان دارالعلوم دیوبند کا بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا جو ناقابل تلافی نقصان ہواہے، اللہ اس کی بھرپائی کرے۔رب ذوالجلال آپ کے درجات کو بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا کرے۔ع
تیری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

Saturday, 16 May 2020

الهند كما يصفها الدكتور محمد حسين هيكل

الهند كما يصفها الدكتور محمد حسين هيكل

د. محمد جسيم الدين
محاضر ضيف في قسم اللغة العربية بجامعة دلهي

الدكتور محمد حسين هيكل من الرحاليين الذين رحلوا إلى الهند وكتبوا عن مشاهداتهم و تجاربهم عن الثقافات الهندية وحضاراتها، فقد نال شهرة فائقة بين أقرانهم وخلف وراءه آثارا رائعة وأعمالا قيمة، لها دور في تطوير العلوم والفنون الأدبية من التاريخ والجغرافيا والرحلات. إنه زار الهند في عام 1953م، وجمع المعلومات والمعرفة عنها، ثم نسخها و رتبها في شكل المقالة في كتابه القيم "الشرق الجديد"، وقد أمضى خمسة أسابيع من 31 ديسمبر إلى 3 فبراير 1954م.
وكتب مارأى في الهند من علم وثقافة، والأماكن التاريخية، والمراكز الدينية، والمعابد الهندوسية التي زارها بالقصد وبعضها مروراً في الطريق بدون الإرادة.
لايمكن لي أن أقوم بالتركيز على جميع انطباعاته للهند في هذا المقال الوجيز، بل أريد أن أتناول انطباعاته الخاصة التي تتعلق بزيارته إلى أربعة أماكن. الأول: زيارته التاج محل وفتح بور سيكري، والثاني: زيارته مدينة مومباى ولقاؤه حاكمها وحوراه مع حاكم مومباى حول قضايا شتى مثل قضايا المرأة الهندوسية ونظام الطبقات وشأن المنبوذين وأهمية غاندي في تعميم المساوات بين الأسرة الهندوسية خاصة بين الطبقات العليا والمنبوذين وتأثيره على المجتمع الهندي. والثالث: زيارته المعابد الهندوسية الواقعة في بنارس ومواضع أخرى. والرابع: زيارته جامعة علي كره الإسلامية وانطباعاته عنها.
وإنه كان مشتاقا للغاية إلى زيارة الهند كما يذكر في كتابه: "منذ عهد غير بعيد كنا إذا ذكرت الهند حسبناها من البعد عنا بحيث لايجول بخاطر أحد منا أن يفكر في زيارتها أو يمر بخاطره أن هذه الزيارة مما يدخل في حيز الممكنات، وكان عامتنا حين يذكرون بلاد العجائب يذكرون الهند والسند وبلادا تركب الأفيال، فلما انقضت الحرب العالمية الأولى وبدأت الثورة المصرية سنة 1919م بدأنا نسمع في مصر عن أنباء حركة "المهاتما غاندي" في الهند ونرى وجوها للشبه غير قليلة بين حركتنا وحركة الاضطراب ومقاطعة البضائع الأجنبية، وعدم التعاون وماإلى ذلك من شؤون قربت في أذهاننا بين تلك البلاد وبلادنا، ودلتنا على أن ذلك  الذي كنا نتصوره من قبل من بعد بلاد الهند عنا لم يكن مرجعه إلى مايفصل بيننا وبينها من آلاف الأميال، وإنما كان مرجعه إلى جهلنا أمرها وعدم وقوفنا على شؤونها، فلما بدأنا نقف على بعض هذه الشؤون قربت منا، لأن العلم يقرب بين الإنسان ومايعرف، في حين يباعد الجهل بين الإنسان و مايجهل".
الهند تَعني بالحركة الاستقلالية:
يصف الدكتور حسين هيكل حركة الهند الاستقلالية في كتابه "الشرق الجديد" بأن حركة الهند الاستقلالية زادت نشاطا وقوة، وازددنا تتبعا لها ووقوفا على الكثير من أمرها، فازددنا قربا منها. وزاد في هذا القرب أن رأينا الهند تعني من شؤون مايجري في محيطنا بما نعني به نحن، وتشاركنا في آلامنا وآمالنا. لما ألغت تركيا الخلافة الإسلامية بعد أقصت سلاطين آل عثمان عن عرشها بدأت في العالم الإسلامي حركة تفكير قوية في هذا الأمر الذي كان يعتبر يومئذ حيويا عندجميع المسلمين وكانت جمعية الخلافة في الهند أقوى مظهر لهذه الحركة. ولم يكن ذلك عجبا ومسلمو الهند يبلغون يومئذمئة مليون ويؤلفون أكبر كتلة إسلامية في العالم كله. ولكن العجب في اشتراك الهنود غير المسلمين مع الهنود المسلمين في حركتهم هذه وتأييدهم لها حرصا على وحدة الهند وكان طبيعيا يومئذ أن تتطلع الأنظار هنا في مصر، وأن تتطلع أنظار المسلمين في شتى بقاع العالم، إلى هذه الحركة الهندية الإسلامية وإلى تأييد "المهاتما عاندي" وأنصاره من الهندوس لها، وأن يقرب ذلك بين الهند والعالم الإسلامي كله،وأن يدفعنا هذا التعاطف إلى الشعور بأن الهند ليست بعيدة عنا بقدر ما كنا نتصور. وهل يقرب بين الناس شيئ كاشتراكهم في العواطف إزاء أمر بعينه. وهذه الاشتراك في العواطف يمحو الأبعاد وإن بلغت ألوف الأميال وعشرات الألوف من الأميال.
فلما نجحت الحركة الاستقلالية في الهند زاد نجاحها في قربها منا معشر الذين يطلبون الحرية والاستقلال للشعوب جميعا، وبخاصة لأن الهند قارة أوشبه قارة كما يسمونها، ولأن استقلال أربع مئة مليون من البشر يمثلون خمس الإنسانية في مجموعها يعتبر نصرا مؤزراً وفتحا مبيناً للحرية والاستقلال وللكرامة الإنسانية ولكل المعاني الإنسانية السامية. وبدأ الغرب يكشف لنا عما في الهند من قيم روحية وخلقية عليا كما كان جهادها في سبيل الاستقلال مثلاً فذاً في تاريخ الجهاد الإنساني للحرية، وبدأنا بذلك نشعر أن هذه البلاد المترامية الأطراف ذات الماضي المجيد والفلسفة الروحية السامية جديراً  حقاً بأن نزورها وأن نشهد ما فيها وأن نقف على حاضرها وماضيها.
لذلك لم أتردد حين وجهت إلي حكومة الهند الدعوة للاشتراك في الندوة التي تعقد (عقدت) في نيو دلهي لدرس ماكان لتعاليم غاندي وأساليبه العلمية من أثر في توثيق العلاقات الإنسانية في داخل الأمم وبين الأمم بعضها وبعض، فقبلت الدعوة لأول ما عرضت علي، وأخذت أدرس حياة غاندي وتعاليمه، وأقف أثناء هذه الدراسة على شيئ غير قليل عن حياة الهند في ماضيها وحاضرها، وأهيئ نفسي على ما هناك من ألوان  الحياة ومظاهرها في هذا العالم الجديد الذي لم يتح لي من قبل أن أتصل به أو أقف عليه.
وترتب على قبول الدعوة أن عرفت أن الطائرة تقطع مابين القاهرة و بومباي في عشر ساعات وكذلك سافرت إلى الهند فقضيت بها خمسة أسابيع من 31 ديسمبر إلى 3 فبراير وفي هذه الأسابيع الخمسة شهدت الشيئ الكثير مما يسرني أن أحدثكم الأن عنه.
على أنني أبادر إلى القول بأنني لم أتنقل خلال ربوع الهند طيلة هذه الأسابيع الخمسة. فقد كانت ندوة غاندي معقودة في نيو دلهي، وكان مقررا أن يمتد انعقادها من 5إلى 17 يناير، فكان لزاما أن نقيم بعاصمة الهند طوال هذه المدة. فلما انتهت الندوة تنقلت أنا وصديقي الدكتور "أحمد متين الدفتري" رئيس وزراء إيران السابق خلال الهند طيلة الأسبوعين اللذين بقيا من إقامتنا في ربوعها. فلما فرغنا من تجوالنا السريع في أرجائها قفلنا عائدين معاً حتى نزلنا بغداد ليسافر هو منها بعد أيام إلى طهران، ولأسافر أنا منها بعد أيام كذلك إلى القاهرة.
الهند تشابه في كثير من الأوضاع بمصر:
كثيرون يظنون أن الهند بلاد جميلة كسويسرا أو كلبنان. ويغريهم بهذا الظن أن بها جبال الهيماليه حيث تقوم قمة إفرست أعلى قمة في جبال العالم. ويظن آخرون أن الهند بلاد الغابات والأدغال الموحشة التي تغطي عشرات الآلاف من الأفدنة، وأنها تحوي من الوحوش أمثال الأسد والنمر والفهد مايخافه الإنسان. يغريهم بهذا الظن ما كتبه الرحالون الإنجليز وغير الإنجليز عن صيد الوحوش في الهند وكلا هذين الظنين لايصوران الواقع من أمر الهند في مجموعها. صحيح أن الجبال تمتد في شمال الهند وتقوم حاجزا منيعا بينها وبين جاراتها من الأمم الأخرى. لكن طبيعة الهند فيما سوى هذه المنطقة الشمالية طبيعة سهلة تشبه طبيعة وادينا المصري في كثير من الأحيان، والمرتفعات التي تقوم على الساحل الهندي ليست جبالاً علية عظيمة الارتفاع، بل هي في كثير من الأحيان هضاب لايزيد ارتفاع الكثير منها على الجبال المحيطة بوادينا والتي تفصل بينه وبين صحرائنا الشرقية وصحرائنا الغربية. صحيح أن بعض البلاد بالداخل ترفع عن سطح البحر بضع مئات من الأمتار، وأن هذا الارتفاع يجعل جوها رقيقاً مقبولاً على مدار فصول السنة، لكن ارتفاعها هذا لايجعلها جبلية، بل هي أراض منبسطة تجري السيارة في طرقها مستوية مئات الأميال تنبسط عن يمينها وعن يسارها المزروعات الممرعة ويمتد البصر منها إلى الأفق فلا يقف في طريقها حائل من تل أو هضبة أو جبل إلا نادراً.
لفتت هذه الطبيعة السهلة المنبسطة نظرالكثيرين من إخواننا الذين دعوا إلى ندوة عاندي، ولفت نظرهم خصب الأرض المخضرة بالزروع النامية الممتدة إلى مدى البصر.
زيارته تاج محل وفتح بور سيكري:
يذكر الدكتور محمد حسين هيكل زيارته تاج محل وفتح بور سيكري في كتابه بهذه الألفاظ"ذهبت أنا والدكتور "رالف بانش" نزور  تاج محل في آغرا ونزور آثاراً أخرى في المدينة المهجورة "فتح بور سيكري" وآغرا تبعد عن دلهي مسافة مئة وخمسة وعشرين ميلا، و"فاتح بور سيكري" التي تبعد عن آغرا خمسة وأربعين ميلاً، وقد كان انبساط الأرض وخصبها موضع  حديثنا ونحن في السيارة".
الهند بلاد زراعية وفيرة الثروة:
أن الهند بلاد زراعية وفيرة الثروة كثيرة الخامات ولذلك كانت مطمح نظرالمستعمرين في عصور كثيرة. ولم أقف أثناء تجوالي بالهند على تلك الغابات التي تصاد فيها النمور والحيوانات المفترسة ولعل هذه الغابات تقع في مناطق محدودة لم يتسن لي أن أذهب إليها.
الأثار الهندية تجذب الأنظار:
يقول الدكتور هيكل: "إذا كانت الطبيعة أول مايأخذ بنظر السائح الغريب عن الديار فالآثار هي أشد مايجذبه ويستهويه. فالسائح القادم إلى مصر أول ما يفكر  في زيارة الهرم وأبي ابي الهول وسقارة والأقصر. حين نزلنا دلهي قيل لنا أن من جاء الهند ولم ير تاج محل لم يكن قد زار الهند. فأنت حين تذهب إلى فرنسا مثلاً فأول ما يعينك أن تشهده وأول ما يعني أهل فرنسا أن يطلعوك عليه هي الآثار الموجودة في باريس وما حولها في فرساي وفونتنبلو، وفنسين، وقصور اللوار في أواسط فرنسا.
وزيارة الآثار لايقصد بها إلى مشاهدة هذه المباني وما تحويه للمتاع بجمال العمارة وجمال ما بداخلها وكفى، بل يقصد بها إلى معنى أدق من هذا بكثير . يقصد بها إلى معرفة صلة الإنسان بالحياة والوجود في مختلف أدوار التاريخ. فالآثار المصرية القديمة تصور حياة الفراعنة وتصورهم للحياة ولما بعد الحياة. والآثار الفرنسية تصور حياة فرنسا السياسية والاجتماعية وما طرأ عليها من هزات بلغت حد الثورات أحياناً وماتقع عليه العين من آثار روما ما هو مهدم منها وما هو باق إلى اليوم، يصور حياة الرومان القديمة وتطور هذه الحياة خلال العصور إلى وقتنا الحاضر".
ويعترف الدكتور هيكل بأن الهند غنية بالآثار إلى غير حد وآثارها تترك في النفس ألواناً مختلفةً من التصور الإنساني للحياة في عصور الإنسان المختلفة. ذلك بأن الهند طرأت عليها ألوان من الحضارات استقرت فيها وتركت من آثارها ما يقف النظر بالفعل. فهناك إلى جانب الآثار  الهندوسية الأصلية- التي يرجع تاريخ بعضها إلى ألفي سنة أو أكثر- آثار المغول، وآثار الفرس، وغير هؤلاء وأولئك من المسلمين. كما أن هناك آثاراً حديثةً أقام الهنود بعضها وأقام البريطانيون البعض الآخر، وكل هذه الآثار تقف النظر وتدعو إلى أعمق التفكير.
انطباعات هيكل عن الآثار  الإسلامية الواقعة في الهند :
ويبين الدكتور هيكل بأن الهند لها الآثار الإسلامية التي يشهدها الإنسان في أرجائها المختلفة وهي المساجد والمقابر وتاج محل وهو أبهى هذه الآثار وأكثرها روعة وجلالاً، إنما هي مقبرة شادها الملك "شاهجهان" لامرأته، كما أن أهرامات مصر مقابر شادها الفراعنة ليدفنوا بها. وأنت تشهد هذه العمارات البديعة التي أقامها ملوك المسملمين في الهند ليدفنوا أو يدفن بعض ذويهم بها منتشرة في كثير من المدن. تشهدها في دلهي، وفي آغرا، وفي الكسندرا، وفي حيدرآباد وفي مثلها من المدن الكبرى ذات التاريخ المجيد في الهند وكثيرا مانرى إلى جانب هذه المساجد الفخمة مساجد مستقلة غير متصلة بها. وهي في ذلك تختلف عن مقابر المصريين المتصلة بالمساجد وتختلف كذلك عن مقابر الصالحين المتصلة بالمساجد في العراق وتركيا. فقبور الصالحين في مصر والعراق أو مقصوراتهم كما نسميها هي جزء من المسجد كما أن المقصورة النبوية جزء من المسجد النبوي بالمدينة. وعمارة المساجد تختلف بين مصر والعراق، لكن السالحين المدفونين هناك تقع مزاراتهم داخل المسجد  على حين تقع مقابر الملوك المسلمين في الهند منفردة عن المسجد، يفصل بينها وبينه طريق يختلف سعة وضيقاً.
صورة المساجد والمقابر في الهند كما رأى هيكل:
يقول هيكل بأنه لم يرى مقابر متصلة بالمسجد إلا ماكان في مسجد "حيدرآباد" على أن نظام المقابر في هذا المسجد يختلف عنه في مساجد مصر والعراق سواء منها مساجد أهل السنة أو مساجد الشيعة. فمقابر "حيدرآباد" هذه وهي ثلاثة تقع في دهليز طويل يبلغ طوله ثلاثين مترا أو تزيد، وهذا الدهليز مرتفع عن الأرض قرابة متر، مبني كله بالرخام، والقبور تتوسطه مبنية بالرخام، وقد غطي كل منها بستر من قماش كثيف، يرفعه سادن هذه القبور للزائرين ذوي المكانة من ضيوف الدولة.
فأما مساجد الهند فتختلف كذلك عن غيرها من مساجد المسلمين، ولم أر لها شبيها إلا الجامع الأموي بدمشق. فأما مساجد العراق ومساجد إستانبول فتشبه مساجدنا هنا من حيث إنها مسقوفة كلها. أما مسجد دمشق، وأما مساجد الهند فالجانب المتصل منها بالقبلة مسقوف يرتكز سقفه على عمد ثم يظل سائر المسجد مكشوفا إلى السماء متصلاً مع ذلك ببقية المسجد على أنه جزء منه. ومساجد الهند التي رأيتها حسنة البناء كلها. ولم أعن نفسي بالبحث عن أي هذه المساجد لأهل السنة وأيها للشيعة، وإن كنت قد عرفت في كثير من المدن التي زرتها أن للشيعة مساجد ولأهل السنة مساجد أخرى. وفي البعض يزيد أهل السنة على الشيعة زيادة كبرى، وفي البعض الآخر يزيد الشيعة على أهل السنة زيادة ظاهرة. ويرجع ذلك إلى التاريخ أكثر مما يرجع إلى أي سبب آخر. فقد نزل الفرس الذين جاءوا الهند بعض المدن وكثروا فيها فكانت الكثرة فيها للشيعة، بينا كثر غير الفرس من المسلمين في مدن أخرى فكانت الكثرة فيها لأهل السنة.
الأثار الهندوسية والمعابد الهندوكية في عيون هيكل:
يصف الدكتور هيكل بأن الهند تفتخر على الآثار الهندوسية المختلفة ومعظمها معابد، يرجع تاريخ بعضها إلى ألفي سنة أو أكثر. بينا أقيم البعض في عهد حديث وقد هجرت بعض هذه المعابد الهندوسية حتى تهدمت أو كادت، بينا بقي بعضها إلى اليوم عامراً. ويتعذر على من لم يدرس عقائد الهند وفلسفة هذه العقائد أن يميز بين هذه المعابد والمذهب الذي تمثله. ولقد كانت مدة إقامتي باهند قصيرة فلم أتمكن من دراسة تعاونني على هذا التمييز بين المعابد. ولكنني مع ذلك زرت الكثير منها ووقفت عند بعضه معجباً بدقة عمارته، معتجاً كذلك بما بين ألوان العبادة فيه وبين التثليث المصري القديم والتثليث المسيحي وبين التثليث الهندوسي من شبه، وإن اختلف مايرمز إليه التثليث الفرعوني والمسيحي والهندي خلافاً كبيراً. وتبعث هذه المعابد وما فيها من نشاط صورة من حياة الماضي الهندي يجعله في حكم الحاضر ونشاطه.
انطباعاته عن مدينة بنارس:
لا يخفى على أحد من الناس بأن بنارس مدينة شهيرة في الهند لكونها عاصمة دينية للهنادك. يصفها الدكتور حسين هيكل بألفاظه: "زرنا المدينة المقدسة "بنارس" الواقعة على نهر "الجانج" أو "الجانجي" كما يسميه الهنود، ومررنا بعد العشاء ببعض معابدها فألفينا العشرات بل المئات يذهبون إلى هذه المعابد ومع الكثيرين منهم مايتقربون به إلى معبوداتهم، يصنعون من ذلك ماكان يصنعه أسلافهم منذ مئات السنين أو ألوفها، ويشهدون بذلك على أن هذا الماضي مازال حياً كما كان، وأن مظاهر الحضارة الغربية لم تجن عليه في قليل ولاكثير.
وزرنا عصر ذلك اليوم معابد تشهد ألوان العبادة فيها بأن الحياة الحديثة والعلم الحديث لم يجنيا على مقدسات الماضي السحيق حين كان الإنسان يتخذ الحيوان ويتخذ الأحجار إلى الله زلفى.
زرنا بعد ذلك في "سارناث" على مقربة من مدينة "بنارس" معبد "بوذا" وآثاره. الشجرة التي يذكرون أن الإلهام أضاء أمامه بنوره وهو تحتها، والهضبة التي آوى إليها ليعبد فيها ربه، والمعبد الذي أقيم من عهد غير بعيد رسمت على جدرانه تعاليمه. ومن عجب أن البوذية التي نشأت في الهند لم يبق لها في الهند أتباع إلا قليلين، بينما ازدهرت في بلاد أخرى تجاور الهند، برما والتبت وبعض أنحاء الصين واليابان.
ومادمنا بصدد المعابد الهندية والحديث عنها فلا أستطيع أن أغفل أقربها عهداً وأقربها إلى تصوير التطور في الحياة الروحية الهندية تطوراً كان المهاتما غاندي صورته الحية. أقصد معبد "برلا" وهو المعبد الذي أقامه السري الهندي برلا في نيو دلهي وافتتحه "المهاتما غاندي". فهذا المعبد مجموعة تحتوي عدة معابد أحدها برهمي، والآخر بوذي، والثالث لمذهب آخر من المذاهب الهندية. وفي كل واحد من المعابد يرى الإنسان مكتوباً بالإنجليزية وحدانية الله، وتشير إلى ماكان يكرره "غاندي"من أن الله هو الحق، وأن الحق هو الله، وتذكر أن الخلق والحياة والانهيار والفناء مظاهر، وأن البقاء لله وحده، وأن الأرباب التي تصور الخلق والبقاء والتجدد إنما تصور صفات من صفات الله. أ ليست هذه المعاني الدينية المنقوشة على جدران هذا المعبد تمثل المعاني المشتركة في الأديان كلها.
انطباعاته عن المهاتما غاندي :
يقول الدكتور هيكل إن "غاندي" كان رجلاً متديناً شديد الإيمان بالله. طلب إليه بعضهم يوماً أن يكتب كتاباً يصور فيه فلسفته الدينية والسياسية فقال: إنني لست فيلسوفاً، ولكنني رجل عمل، فإذا عرضت لي مشكلة استخرت الله فألهمني طريقاً فسرت فيه فوفقني إلى ما أبتغيه. ليس هذا المقام مقام الحديث عن غاندي وآرائه لكني وأنا أقص مشاهداتي في الهند لابد لي من أن أذكر أنني حين قرأت حياته أخذت منها أكثر من كل شيئ بمجهوده لمقاومة عقائد تأصلت في الهند خلال عشرات القرون بل مئاتها، ونجاحه في ذلك نجاحاً منقطع النظير، حتى لقد كان أول مادار بحاطري وأنا بالطائرة في طريقي إلى الهند أن أرى مبلغ هذا النجاح. قاوم "غاندي" نظام المنبوذين، وقاوم عبودية المرأة للرجل، فكان لذلك من أتباعه منبوذون كثيرون، ونساء كثيرات. وقد سألت نفسي: أتأصل هذا في الهند فأصبح بعض عقائدها، أم تراه تطاير فعادت الهند إلى سابق عهدها قبل "غاندي".
لقاؤه حاكم ولاية مومباي:
يعبر حسين هيكل عن آرائه وأفكاره خلال لقاء حاكم ولاية "مومباي" إنه دعاه إلى طعام الغداء يوم وصوله إلى "مومباي". ويذكر هيكل في كتابه بهذه الألفاظ" فلما التقينا ودار بيننا الحديث سألته: ما شأن المنبوذين في الهند اليوم؟ وكان جوابه: لقد ألغى الدستور نظام الطبقات وقرر مساواة الهنود جميعاً. قلت: هذا حسن من والوجهة النظرية فهل انتقل الأمر إلى الحياة العملية فأصبح الناس يعاملون بعضهم بعضا وكأن لم يبق بين الطبقات فارق؟ وأجابني الرجل في صراحة: لا أستطيع أن أقول نعم. فما يزال من أهل الطبقات القديمة من لايؤمن بهذه المساواة، ولايزال منهم من يرى المنبوذين نجساً. لكني مقتنع أن هذا الاعتقاد مصيره إلى الزوال بعد أن أصبح أبناء المنبوذين يجلسون إلى جانب أبناء الطبقات الأخرى في المدارس ومعاهد التعليم، وبعد أن فتحت ابواب الوظائف الحكومية للأكفاء جميعاً بسرف النظر عن الطبقات التي ينتمون إليها، وبعد أن أصبح من حق الجميع أن يعملوا في الأعمال الحرة المختلفة، وأن يكسبوا من المال ما تؤهله لهم كفايتهم. وللتطور الاقتصادي حكم على التطور العقلي، كما أن التطور العقلي متأثر بأحوال العالم الذي تقاربت أجزاؤه. لهذا أعتقد أن هذا التمييز بين الطبقات صائر إلى الزوال عما قريب، وإن كان زواله ليس معناه ألا تنشأ طبقات أخرى أساس منشئها الثروة أو الجاه أو ما شئت من أسباب التفرقة المختلفة".
والتقينا ونحن في "بنارس" بالفيلسوف الهندي الدكتور "باجوات داسي"، وهو رجل مهيب الطلعة يبلغ من العمر آنذاك أربع وثمانين سنة، فحدثته في أمر المنبوذين، فكان جوابه غير جواب حاكم "بومباي" قال: إن محاولة القضاء على الطوائف معارضة للطبعية وللتكوين الإنساني. فقد أثبت الإحصاء في أمريكا أن ثلاثة وأربعين في الألف فقط من بين المتعلمين تعليما عالياً هم الذين يستطيعون السمو بتفكيرهم إلى مرتبة التجريد وأن غير هؤلاء من المتعلمين ومن غيرهم هم الذين يقومون بالتجارة أو بشؤون الجيش، وأن العدد الأكبر هم الذين يزاولون الأعمال الجسمانية كالزراعة والصناعة وما إليهما ومن هؤلاء من لايستطيعون من هذه الأعمال إلا أقلها حاجة للكفاية أو المهارة. وتطبيق هذا الذي قرره الإحصاء بعد ذلك يعود بك إلى تصوير الطوائف في الهند تصويراً يرجع إلى ألوف السنين. وإذا كان هذا التصوير قد فسد وأصبحت الطوائف العليا تعمل لكسب المال وهو محرم عليها فليس الذنب في ذلك ذنب الفكرة المستندة إلى تكوين الإنسان الطبيعي، بل الذنب ذنب الجماعات الإنسانية التي يهوي بها الضعف إلى درك لا يتفق وما فرضته الطبيعة بين الناس من اختلاف.
كان هذا جواب الفيلسوف الهندي الحكيم. وهو كما ترون جواب علمي لا يغير من واقع الحياة شيئا. وواقع الحياة في عصرنا الحاضر أكثر اتفاقاً مع الرأي الذي أبداه حاكم "بومباي" والذي تتجه إليه الديمقراطية وغير الديمقراطية في العصر الحديث.


أوضاع المرأة الهندية في عيون هيكل:
يذكر هيكل عن أوضاع المرأة الهندية في العصر الحديث فيقول إن تطور شأن المرأة في الهند أعظم من تطور شأن الرجال. فقد تناول التطور في أمر الرجال طائفة منهم بعينها. أما المرأة فقد دفعها التطور في كل الطوائف إلى الأمام وإلى الحرية دفعاً لايكاد الإنسان يصدقه. وكان أكبر الفضل في هذا "للمهاتما غاندي" كذلك. كانت المرأة الهندية إلى عهد غير بعيد في حالة تقرب من الرق، حتى لكانت تحرق مع زوجها حين يموت، وكانت في حياتها في مركز يكاد يكون مركز الرقيق. فلما أشركها "غاندي" في حركة المقاومة في غير عنف، وفي حركة العصيان المدني، أظهرت من قوة الاحتمال ماعجز عنه الرجال في بعض الأحيان هنالك ارتفعت الصيحة بأن للمرأة من الحق في الحياة ما للرجل، وسرعان ما انتقلت من ذلك إلى مساواته في الحقوق كلها، وفي الحقوق السياسية نفسها. ولعمري إنها بذلك لجديرة. لقد كنت شديد الإعجاب بمدام "بانديت" شقيقة الرئيس نهرو منذ رأيتها في الجمعية العامة للأمم المتحدة عام 1946م وعام 1947م، وكنت أحسبها امرأة ممتازة لايشاركها في امتيازها رجل أو امرأة. فلما ذهبت إلى الهند وأتيح لي أن اتحدث إلى بعض السيدات هناك، رأيت صورة إنسانية بالغة غاية الرقي، في تفكيرها وفي ذوقها الحياة. وزادني اقتناعاً بذلك أن شهدت بعض مظاهر النشاط النسوي في الحياة الاجتماعية وفي الحياة التربوية، لافي دلهي وحدها، بل في مدن مختلفة زرتها. وليس عجباً أن تنهض المرأة في أمة كل شيئ فيها ناهض أو متوثب للنهوض.


انطباعاته عن ازدهار الهند في العصر الحديث:
قد اعترف هيكل بتقدم الهند وازدهارها كما يقول في كتابه "الشرق الجديد"  إن الهند بلاد زراعية أرضها خصبة متنوعة الحاصلات مع ذلك تعمل الحكومة المركزية متعاونة مع حكومات الهندية لمضاعفة الإنتاج الزراعي بإقامة السدود لتنظيم الري، وتعمل في الوقت نفسه لتصنيع البلاد وتركيز الصناعات الكبرى في الأجواء الملائمة لها. والصناعة هي الوسيلة الأكيدة لشعور الأمم بمقدرتها الإنسانية على الدفاع عن نفسها. ولقد نشأت في الهند صناعات ضخمة كثيرة في مقدمتها صناعة النسيج للقطن والحرير، ومنها صناعة الحديد، والخزف، ومنها كذلك صناعة أجزاء الطائرات المختلفة. وقد زرت المدرسة التي يتعلم فيها الهنود صناعة الطائرات على يد أساتذة من الألمان ومن السويديين ومن غيرهم فأثارت غاية إعجابي. وإذا لم تكن قد بلغت بعد أن تصنع محركات الطائرات فإن تقدمها المطرد يبشر بأنها ستبلغ أن تصنع هذه المحركات في زمن قريب.
انطباعاته عن الحركات العلمية:
و في جانب آخر يعترف هيكل بأن جماعة كبيرة من الهنود أصبحوا خبيراً في البحوث العلمية المتقدمة في الزرة وصناعة الصواريخ والطائرات الجوية بالجودة العالية كما يقول: "لست فيما أذكر من ذلك مبالغا في التفاؤل، فإن نشاط الحركة العلمية في الهند يدعو إلى الإعجاب، بل يدعو إلى الدهشة، وقد كانت هذه الحركة العلمية أشد ما أثار اهتمامي مدة مقامي في الهند. لذلك زرت كل جامعة استطعت زيارتها في البلاد التي مررت بها، وتحدثت إلى الأساتذة والطلاب فيها. وأشهد لقد أدهشني ما رأيته في بعضها من تجارب علمية بالغة غاية الدقة".
انطباعاته عن جامعة علي كره الإسلامية:
إن حسين هيكل قد تأثر كثيرا بزيارة جامعة علي كره الإسلامية كما يقول: "كثيرا ما سمعت عن "جامعة عليكره" أو "أليجار الإسلامية" كما يسمونها بالإنجليزية، وقد ذهبت لزيارتها مع صديقي الدكتور "متين دفتري" بدعوة من مديرها الدكتور "ذاكر حسين" وكان أكبر ظني أن هذه الجامعة الإسلامية تعني بالدراسات الإسلامية المختلفة ولاتتعداها. فلما بدأنا زيارتها لم يتغير هذا الظن في نفسي. فقد كان مسجد الجامعة أول ما سار بنا الدكتور "ذاكر" إليه. ثم إننا زرنا مكتبة الجامعة ورأينا فيها الكثير من الكتب العربية والفارسية ومن المخطوطات القديمة فلم يغير ذلك من ظني الأول كثيراً. لكنني لم ألبث حين انتقلت مع الدكتور "ذاكر" إلى أقسام الجامعة العلمية أن تغير ظني من أساسه. فهذه الأقسام العلمية في الطبيعة والكيمياء والرياضة العليا وغيرها تتناول أدق مشاكل العلم في الوقت الحاضر. وبعض هذه الأقسام مما رتب للبحث العلمي ينقطع له من أتموا دراساتهم العليا ويصلون فيه إلى نتائج تفخر بمثلها أكبر الجامعات في أوربا وأمريكا، ويشرف عليها بعض العلماء الأمريكان. وحسبي أن أذكر لكم من هذه الأبحاث محاولة ناجحة لقياس الضغط الجوي على ارتفاع مئة ألف قدم وآثاره الكهربية على ألواح تعد خصيصاً لهذا الغرض وترسل في الجو على مناطيد صغيرة تسجل الآلات الدقيقة فيها هذه الآثار الجوية العجيبة. وقد شهدت مثل هذه الأبحاث في معاهد جامعة "بنجلور" وفي غيرها من الجامعات التي زرتها. و كان أكبر اهتمامي في هذه الزيارات الجامعية أن أبحث الوسيلة التي تستطيع البلاد الشرقية، وتستطيع الهند معها أن تتبادل من ألوان التعاون العلمي والثقافي والفلسفي ما يزيد روابطها قوة إذ يجعل أبناءها اكثر معرفة بما في غير بلادهم من اتجاهات وأبحاث. ولقد شعرت بأن هذا الموضوع ليس من اليسر بما يتصور الإنسان. قال أحد الأساتذة في جامعة "بنجلور" بأن بحثاً كهذا البحث جرى لتقريب أجزاء الكمنولث البريطاني من "بنجلور" مع سير  "صمويل رانجادان" والسيد "جوردون" في هذا الموضوع وذكرت لهما ما عرض من اقتراحات بعقد مؤتمرات وتبادل أساتذة وطلاب وتبادل مؤلفات وبحوث فتمنيا لي النجاح في المحاولة التي أعالجها وإن بدأ عليهما شيئ من الشك في هذا النجاح. وكم أود لو استطاع رجال جامعتنا وعلماؤنا أن يتناولوا هذا الموضوع بالبحث فيما بينهم. فالصلات العلمية والأدبية والفنية بين الأمم هي التي تكفل ارتباطها بأوثق رباط.      
خلاصة المقال:
كان الدكتور محمد حسين هيكل حريصاً على وصف انطباعاته وآرائه عما كان يرى أو يسمع أو يشاهد وأهم وصفه في الكتابة هو إحساسه وشعوره وما اعتلج في قلبه من الأفكار النادرة. ويتجنب كل الاجتناب في كتابة المذكرات خلال الرحلات ماذا أكل من المآكل وماذا شرب من المشروبات وماذا لبس من الملبوسات، بل دائماً يركز على أن يكتب ما يكون نافعاً للمجتمع الإنساني ويأتي بأفكار قيمة كما تتجلى في كتبه القيمة عامة وعلى الأخص في كتابه "الشرق الجديد".
لم يكن متصومعًا على نفسه، يحلق بفكره في أبراج عاجية تنأى عن هموم الناس ومشاكلها اليومية، بل كان رجل فكر وحركة، فكما كان يكتب في الفلسفة والتاريخ والأدب، كان في ذات الوقت رائدًا من رواد العمل السياسي العام في مصر الحديثة، يكافح من أجل استقلال مصر، وقد توفي الدكتور هيكل عام ١٩٥٦م.

المصدر والمرجع:
هيكل،محمد حسين: الشرق الجديد، دار المعارف القاهرة، الطبعة الثانية 1990م
(هذه المقالة نشرت في "الدعي"مجلة عربية إسلامية شهرية الصادرة من دار العلوم، ديوبند، جمادي الأولى 1441 المصادف يناير 2020،العدد:5، المجلد:44 ) 

Friday, 15 May 2020

الدكتور ظفر الإسلام خان ورحلة حياته العلمية والثقافية

الدكتور ظفر الإسلام خان ورحلة حياته العلمية والثقافية
 الدكتور جسيم الدين
محاضر ضيف في قسم اللغة العربية بجامعة دلهي
9711484126
الدكتور ظفر الإسلام خان نجل العالم والمفكر الإسلامي الكبير الشيخ وحيد الدين خان، ويحظى مثل والده العظيم باحترام كبير في مجالات العلم والبحث والصحافة، ولكنه لم يستخدم مكانة والده العلمية وشهرته التي طبقت الآفاق لكسب هذا الاحترام، كما يفعله بعض الناس، وإنما صنع نفسه بنفسه، واختار طريقه الخاص ونهجه المتفرد ليبنى لنفسه شخصية مستقلة، وبذل جهودا مضنية في استكشاف آفاق جديدة والوصول إلى مرتفعات عالية وشامخة. فهو صحافي شهير وكاتب قدير ومثقف بارز، له مساهمات جليلة في مجال التأليف والترجمة والنشر والصحافة العربية والأردية والإنجليزية في الهند وخارجها. ولد السيد ظفر الإسلام خان عام 1948م في بيت علمٍ وتقوى بمدينة أعظم گره بشمال الهِند، وتلقى تعليمه المبكِّر في إحدى مدارسها التقليدية (مدرسة الإصلاح) ثم التحق بدار العلوم ندوة العلماء في مدينة لكناو حتى حصل على شهادة العالمية عام 1966م. قبل أن يقصِد القاهرة للدراسة في جامعة الأزهر، ثم للحصول على الماجستير في التاريخ الإسلامي من كلية دار العلوم جامعة القاهرة عام 1978م، وبعد ذلك رحل إلى بريطانيا لنيل درجة الدكتوراه في الدراسات الإسلامية من جامعة مانشستر عام1987م.
وساهمت رحلة الطلب التي دامت حوالي عشرين عامًا خارج حدود شبه القارة الهندية، في تشكيل مزاجه العلمي وبناء شخصيته وتعيين أولوياته في الحياة، إذ شَهِد كل اللحظات المفصلية والحرِجة في تاريخ الحركة الإسلامية خلال هذين العقدين.
وفي أثناء ذلك تعدَّدت خبراته وتنوَّعَت الوظائف التي شغلها. فهو تارة مذيع ومترجم للنشرة الأُردية بالإذاعة المصرية (1972-73م)، وتارة مُترجمٌ في الخارجية الليبية (1973-79م)، وتارة أستاذ زائر بجامعة الإمام بالرياض (1992م)، وتارة محاضر في الجامعة الملية الإسلامية في نيودلهي (1991م). وبعد استقراره في الهند مطلع التسعينيات أسس معهد الدراسات الإسلامية والعربية، وترأس تحرير مجلته العلمية باسم "وجهات نظر إسلامية وعربية" (Muslim & Arab Perspectives) منذ عام 1993م، ومجلة التاريخ الإسلامي (Journal of Islamic History) التي يُصدِرها في نيودلهي منذ 1995م باللغتين العربية والإنكليزية.
وكذالك ساهم الدكتور خان بعدَّة مقالات في دائرة المعارف الإسلامية، التي تصدُر في ليدن بهولندا؛ عن تاريخ الإسلام وأعلامه في شبه القارة الهندية. وقد ألف وترجم نحوًا من خمسين كتابًا باللغات العربية والإنكليزية والأردية، ونشرت كتبه في القاهرة ونيودلهي ولندن وبيروت والكويت. ومن كتبه الإنكليزية المشتهِرة: الهجرة في الإسلام (نيودلهي 1996م) والوثائق الفلسطينية (نيودلهي 1998م).
و بالنسبة لمساهمته في مجال الترجمة إلى العربية فقد قام بترجمة أهم الكتب التي ألفها والده حول الموضوعات المختلفة ومنها: "مذهب اور جديد جيلينج" عنوانه بالعربية "الإسلام يتحدى" وهذا الكتاب قد ظهرت له عدة طبعات في العالم العربي. وكتاب مهم آخر وهو "تجديد دين" وعنوانه بالعربية "تجديد علوم الدين". وكتاب ثالث وهو "مذهب اور سائنس" يعرف هذا الكتاب بالعربية باسم "الدين في مواجهة العلم" ولهذا الكتاب ظهرت عدة طبعات أيضاً.
وهو ضيفٌ شبه دائم على عدَّة منابر إعلامية، منها قنوات الجزيرة وبي بي سي والعربية؛ للتعليق على شؤون المسلمين في جنوب آسيا. وبالإضافة إلى ذلك حرر عدَّة مجلات ودوريات علمية وثقافية، وعَمِل مُراسلًا لصحف عديدة منها الحياة اللندنية (1992-1993م) وعرب نيوز في جدة (1994-1998م) وصحيفة الرياض (1999-2006م)، إضافة إلى رئاسته وعضويته عددًا من المحافل الإسلامية والمؤسسات الخيرية في شبه القارة.
كما أنه أسس جريدة ملّي غازيت -الناطقة بالإنكليزية- في ديسمبر 2000م، لتكون لسان حال مائتي مليون مسلم يعيشون داخل جمهورية الهند. وبعد أن بدأت طبعتها الورقية بالصدور في 16 صفحة فقط، زادت إلى 32 صفحة تُطبع بالألوان ابتداءً من 2009م. لكنها في عام 2012م اضطرت إلى تخفيض عدد صفحاتها إلى 24 فحسب، للحد من خسائرها.
وقد كانت أعدادها الورقية تصل مُهداةً إلى المثقفين والأكاديميين والنشطاء والإعلاميين (الإسلاميين منهم على وجه الخصوص) في مصر وشتى أنحاء العالم العربي، رغم الصعوبات التي كانت تُعانيها في الصدور. إذ ارتبط الدكتور ظفر الإسلام بمصر والعرب ارتباطًا عاطفيًا وثيقًا مُنذ تلقَّى تعليمه العالي بالقاهرة أواخر ستينيات القرن العشرين.
كان الدكتور خان يطمح في أن يصِل صوت مُسلمي الهند عبر جريدته إلى الملايين خارج شبه القارة، خصوصًا وأن أخبار مُسلمي الهند وأحوالهم يتم تجاهُلها عمدًا من كل صُحف شبه القارة الناطِقة بالإنكليزية أو الهندية، فلا تُنشَر إلا في الصُحف الناطِقة بالأردية، والمحدودة الانتشار بطبيعتها. لكن ما كان بوسع هذا العمل الطموح الاستمرار طويلًا بغير موارِد، خصوصًا وقد عَدِم الدعم الداخلي من مسلمي الهند لهذه الصحيفة الجريئة، والتي مثَّلَت لسان حال المستضعفين، بل تجاوزت اهتماماتها نطاق شبه القارة وصولًا إلى تبني القضية الفلسطينية، ومحاولة تعرية مزاعِم الغرب بالحرب على الإرهاب.
وهو اﻵن يرأس جمعية "شاريتي أليانس" ( (Charity Alliance الخيرية الهندية، والتي تعمل للنهوض بأوضاع مسلمي الهند، وخصوصًا في مجال مساعدتهم على مواصلة التعليم، وتوفير الدعم لهم في مواجهة الارتداد عن الإسلام في الأقاليم التي تنشط فيها جمعيات التنصير والهندكة. وبسبب حجم نشاطاته واهتماماته الإسلامية داخل شبه القارة الهندية؛ فقد اختير في يناير 2004م أمينًا عامًا لمجلس المشاورة الإسلامي لعموم الهند، والذي يُمثِّل اتحادًا للمنظمات والجمعيات والأحزاب الإسلامية في جمهورية الهند. ثم انتُخِبَ رئيسًا للمجلس (2008–2009م)، ثم عُين رئيسًا له بالنيابة خلال عام 2011م، ثم انتخب مرة أخرى رئيسًا للمجلس (2012–2013م)، وتكرر انتخابه للرئاسة في 2014- 2015م. وهو أيضا رئيس لجنة الأقليات في ولاية دلهي (هيئة دستورية) من يوليو 2017م.
اتهامه بإثارة الفتنة:
في 28 أبريل 2020، نشر الدكتور ظفر الإسلام خان تدوينة عبر صفحته على الفيسبوك عبر فيها عن شكره لدولة الكويت لوقوفها إلى جانب مسلمي الهند وانتباهها إلى ما يتعرضون له من اضطهاد، وقال فيها "يعتقد الهندوس المتشددون أن العالم العربي لن يهتم بما يعانيه المسلمون في الهند من اضطهاد. إنهم نسوا أن المسلمين الهنود يتمتعون بمكانة كبيرة في العالم العربي وبين مسلمي العالم أجمع، لدورهم في خدمة القضايا الإسلامية على مر العقود"، مشيرا إلى أن الشخصيات الإسلامية الهندية من أمثال ولي الله الدهلوي ومحمد إقبال وأبو الحسن الندوي وذاكر نايك تحظى باحترام كبير في العالم العربي والإسلامي". وخاطب الهندوس المتطرفين قائلا "أيها المتعصبون، اختار المسلمون الهنود حتى الآن عدم تقديم شكوى للعرب والعالم الإسلامي حول ما يعانونه من حملات كراهية وحالات قتل وإعدام وأعمال شغب". وأكد أنه في حالة اضطرار مسلمي الهند لتقديم شكوى للعالم الإسلامي، سينهار المتعصبون الهندوس.
أثار المتشددون الهندوس جدلا كبيرا حول هذه التدوينة التي نشرها الدكتور ظفر الإسلام خان، واتهموه بتحريض دول أجنبية على محاربة الهند مطالبين باعتقاله وزجّه في السجن، ووجهت الشرطة رسميا تهم انتهاك الدستور وإثارة الفتنة إلى الدكتور خان، وقامت بمداهمة منزله في نيودلهي بتاريخ 6 مايو قبيل موعد الإفطار لتأخذه إلى مقر الشرطة لاستجوابه، وأيضا للاستيلاء على حاسبه الآلي وهاتفه المحمول الذي استخدمه لنشر ما كتبه على مواقع التواصل الاجتماعي، ولكن الشرطة فشلت في مرامها بسبب تجمع المسلمين المحليين بأعداد كبيرة واحتجاجهم على مداهمة الشرطة لمنزل شخصية محترمة تتولى منصبا دستوريا دون إشعار مسبق، وتدخل النائب المحلي المسلم أمانة الله خان الذي يمثل المنطقة في مجلس دلهي التشريعي، وأيضا استدلال محامية الدكتور خان بأن الأنظمة المعمول بها لا تسمح للشرطة بإرغامه على الذهاب إلى مقر الشرطة أو أي مكان آخر غير منزله نظرا لعمره البالغ 72 عاما ومخاطر احتمال الإصابة بفيروس كورونا المستجد. وهناك أيضا دعوى رُفعت ضده أمام محكمة دلهي العليا للمطالبة بعزله من منصبه الدستوري كرئيس للجنة الأقليات بدعوى مخالفته للدستور من خلال دعوته لدول أجنبية للتدخل في شؤون الهند الداخلية.
أدعو الله –عزوجل- أن يبارك في حياة الدكتور ظفر الإسلام خان ويحفظه عن الشرور والفتن في هذا الشهر المبارك.

الكاتب الهندي البارز ظفر الإسلام خان يواجه ملاحقة أمنية



الكاتب الهندي البارز ظفر الإسلام خان يواجه ملاحقة أمنية
 الدكتور جسيم الدين
محاضر ضيف في قسم اللغة العربية بجامعة دلهي
في 28 أبريل 2020، نشر الدكتور ظفر الإسلام خان تدوينة عبر صفحته على الفيسبوك عبر فيها عن شكره لدولة الكويت لوقوفها إلى جانب مسلمي الهند وانتباهها إلى ما يتعرضون له من اضطهاد، وقال فيها "يعتقد الهندوس المتشددون أن العالم العربي لن يهتم بما يعانيه المسلمون في الهند من اضطهاد. إنهم نسوا أن المسلمين الهنود يتمتعون بمكانة كبيرة في العالم العربي وبين مسلمي العالم أجمع، لدورهم في خدمة القضايا الإسلامية على مر العقود"، مشيرا إلى أن الشخصيات الإسلامية الهندية من أمثال ولي الله الدهلوي ومحمد إقبال وأبو الحسن الندوي وذاكر نايك تحظى باحترام كبير في العالم العربي والإسلامي". وخاطب الهندوس المتطرفين قائلا "أيها المتعصبون، اختار المسلمون الهنود حتى الآن عدم تقديم شكوى للعرب والعالم الإسلامي حول ما يعانونه من حملات كراهية وحالات قتل وإعدام وأعمال شغب". وأكد أنه في حالة اضطرار مسلمي الهند لتقديم شكوى للعالم الإسلامي، سينهار المتعصبون الهندوس.
أثار المتشددون الهندوس جدلا كبيرا حول هذه التدوينة التي نشرها الدكتور ظفر الإسلام خان، واتهموه بتحريض دول أجنبية على محاربة الهند مطالبين باعتقاله وزجّه في السجن، ووجهت الشرطة رسميا تهم انتهاك الدستور وإثارة الفتنة إلى الدكتور خان، وقامت بمداهمة منزله في نيودلهي بتاريخ 6 مايو قبيل موعد الإفطار لتأخذه إلى مقر الشرطة لاستجوابه، وأيضا للاستيلاء على حاسبه الآلي وهاتفه المحمول الذي استخدمه لنشر ما كتبه على مواقع التواصل الاجتماعي، ولكن الشرطة فشلت في مرامها بسبب تجمع المسلمين المحليين بأعداد كبيرة واحتجاجهم على مداهمة الشرطة لمنزل شخصية محترمة تتولى منصبا دستوريا دون إشعار مسبق، وتدخل النائب المحلي المسلم أمانة الله خان الذي يمثل المنطقة في مجلس دلهي التشريعي، وأيضا استدلال محامية الدكتور خان بأن الأنظمة المعمول بها لا تسمح للشرطة بإرغامه على الذهاب إلى مقر الشرطة أو أي مكان آخر غير منزله نظرا لعمره البالغ 72 عاما ومخاطر احتمال الإصابة بفيروس كورونا المستجد. وهناك أيضا دعوى رُفعت ضده أمام محكمة دلهي العليا للمطالبة بعزله من منصبه الدستوري كرئيس للجنة الأقليات بدعوى مخالفته للدستور من خلال دعوته لدول أجنبية للتدخل في شؤون الهند الداخلية.
أدعو الله –عزوجل- أن يبارك في حياة الدكتور ظفر الإسلام خان ويحفظه عن الشرور والفتن في هذا الشهر المبارك.
ومن المعلوم أن الدكتور ظفر الإسلام خان نجل العالم والمفكر الإسلامي الكبير الشيخ وحيد الدين خان، ويحظى مثل والده العظيم باحترام كبير في مجالات العلم والبحث والصحافة، ولكنه لم يستخدم مكانة والده العلمية وشهرته التي طبقت الآفاق لكسب هذا الاحترام، كما يفعله بعض الناس، وإنما صنع نفسه بنفسه، واختار طريقه الخاص ونهجه المتفرد ليبنى لنفسه شخصية مستقلة، وبذل جهودا مضنية في استكشاف آفاق جديدة والوصول إلى مرتفعات عالية وشامخة. فهو صحافي شهير وكاتب قدير ومثقف بارز، له مساهمات جليلة في مجال التأليف والترجمة والنشر والصحافة العربية والأردية والإنجليزية في الهند وخارجها. ولد السيد ظفر الإسلام خان عام 1948م في بيت علمٍ وتقوى بمدينة أعظم گره بشمال الهِند، وتلقى تعليمه المبكِّر في إحدى مدارسها التقليدية (مدرسة الإصلاح) ثم التحق بدار العلوم ندوة العلماء في مدينة لكناو حتى حصل على شهادة العالمية عام 1966م. قبل أن يقصِد القاهرة للدراسة في جامعة الأزهر، ثم للحصول على الماجستير في التاريخ الإسلامي من كلية دار العلوم جامعة القاهرة عام 1978م، وبعد ذلك رحل إلى بريطانيا لنيل درجة الدكتوراه في الدراسات الإسلامية من جامعة مانشستر عام1987م.
وهو رئيس لجنة الأقليات في ولاية دلهي (هيئة دستورية) من يوليو 2017م.        


ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

ٹرین اسپیشل اور کرایہ راجدھانی کا
.............................................
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
(ڈاکٹر جسیم الدین،گیسٹ فیکلٹی شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی، دہلی ) 
یہ تلخ حقیقت ہے کہ آج ملک میں مزدوروں کی حالت شئی حقیر سی ہوگئی ہے، سماج کا وہی طبقہ جو دن رات مزدوری کرکےثروت مندوں کے لیے اسباب وآرائش سے مزین کوٹھی اور ولا تیار کرتاہے، لیکن اس کو خود کو سرچھپانے کے لیے باضابطہ کوئی آشیانہ نہیں ہوتا، کبھی جھگی جھونپڑیوں میں تو کبھی کھلے آسمان یا کبھی فٹ پاتھ اور اوور برج کے نیچے رات بسر کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔
مزدور تمام قربانیوں کے بعد بھی مزدور ہی رہتاہے:
اس شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیں
جس نے سب کے گھر بنائے اس کا گھر کوئی نہیں
زمانۂ قدیم سے ہی یہ طبقہ ظلم وستم کی چکیوں میں پستا آیا ہے، آج بھی آزاد ملک میں اس کی حالت میں کوئی سدھار نہیں ہے، بلکہ ہر آنے والادن ایک نئی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہوتاہے، ملک میں غیر متوقع لاک ڈاؤن کے بعد سے تو ان کا وجود ہی لڑکھڑانے لگاہے، لاک ڈاؤن کے پہلے فیز میں کچھ دردمندوں نے ان بے بسوں کو اشیائے خورد نوش فراہم کرکے سانس لینے کی توانائی دی تو پہلامرحلہ کسی طرح گزر گیا ،لیکن دوسرے مرحلے کے لاک ڈاؤن کے بعد ان کی زندگی کی ڈور ٹوٹنے لگی اور وہ اوسان باختہ ہوکر اپنے آبائی وطن کا رخ کرنے لگے، لیکن یہاں بھی موت نے ان کو اپنا نوالہ بنایا ، موسم کی شدت وطمازت کو برداشت کرتے ہوئے مسلسل طویل مسافت کرتے رہے، لیکن تھک کر چور ہونے کے بعد کہیں پٹریوں پر لیٹ گئے تو تیز رفتار ٹرین نے کچل دیااور گھر پہنچنے کا خواب شرمندۂ تعبیر بھی نہ ہوا، اس روح فرسا واقعہ کے بعد بھی حکومت کی طرف سے ان بے کسوں کے لیے اسباب راحت مہیا کرنا تو دور ان کو اپنے ٹھکانے تک پہنچانے کے نام پر بھی بھدا مذاق کیا جارہا ہے ، کہنے کو تو حکومت نے آج سے ۱۵ٹرینوں کی مختلف ریاستوں میں آمد ورفت کا اعلان کردیاہے، لیکن جو طریقہ کار اپنایا گیاہے، وہ بھی مزدوروں کے لیے کاری ضرب ہی ہے کہ ان سبھی ٹرینوں کا کرایہ اے سی کے برابر ہوگا، نیز ٹکٹ کی بکنگ آئی آر سی ٹی سی سے آن لائن ہی ہوگی اور خورد ونوش کا کوئی بھی نظم نہیں ہوگا، آپ غور کریں کہ یہ غریبوں کو ان کے منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے ٹرین چلائی جارہی ہے یا اس کی رہی سہی کسر پوری کرنے کی کوشش ہے۔جالب نے ایسے نظام کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاتھا:
اے شاعر مشرق یہی جھوٹے یہی بد ذات
پیتے ہیں لہو بندۂ مزدور کا دن رات 
یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ ٹرین اسپیشل چلائی جارہی ہے اور کرایہ راجدھانی کا لیا جائے گا، جب کہ راجدھانی میں ملنے والی سہولتوں سے بھی انھیں مستثنیٰ رکھا گیا ہے، یہ حکومت کی سادگی ہے یا چالاکی اس کی وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اب ایسا لگتاہےکہ کمزوروں اور بے کسوں پر ظلم وزیادتی ان کا محبوب ترین مشغلہ ہوگیاہے، خدا جانے ان کو مشورے دینے والے  آئی اے ایس(افسران) کس سمت میں انھیں لے جارہے ہیں یا وہ خود ہی اپنی من پسند ملازمت کو برقرار رکھنے کی مجبوری میں مبتلا ہیں ۔ یہ بھی لمحۂ فکریہ  ہے کہ جب کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد کم تھی تو لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل در آمد کیا گیا اور اب جب کہ کیسیز کئی گنا زیادہ روزانہ بڑھ رہے ہیں تو شراب کے ٹھیکے کھولنے کی اجازت دے دی گئی اور بازار ودیگر شاپنگ کمپلیکش کھولنے میں راحت دی گئی۔حکومت کے متواتر فیصلے ایسے آرہے ہیں کہ ان میں تضاد اظہر من الشمس ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت مزدوروں کی راحت رسانی کا خیال کرتے ہوئے انھیں مفت سفر کی سہولت فراہم کرتی، لیکن یہ طرفہ تماشا ہی ہے کہ ثروت مندوں کو ہی مزید ثروت مند بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ مزدور اگر خوشحال ہوں گے تو وہ دلجمعی سے کام کریں گے۔ اگر وہ ڈٹ کر کام کریں گے تو کارخانے کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ جب کارخانے کی پیداوار بڑھے گی تو ملک کی معیشت ترقی کرے گی۔ آجر اور اجیر کے تعلقات اگر خوشگوار ہوں گے تو ملک میں صنعتی امن قائم ہوگا۔ جب محرومی البتہ مزدور کا مقدر بن جائے اور جس کے ہاتھ میں طاقت ہو وہ فرعون، تو پھر شاعرترجمانی کرتا ہے کہ:
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
عملی طور پر یہ طبقہ جن مشکلات کا شکار ہوتا ہے، ہم عام زندگی میں اسکا تصور بھی نہیں کر سکتے۔سرکار سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، لیکن سرکاری خزانے سے اس طبقے کی کوئی مدد تو درکنار بلکہ راقم نے کئی ایسے ویڈیو دیکھے کہ پولیس اہلکار ٹرین کی پٹریوں کے سہارے اپنی منزل کی طرف رواں دواں بے کس وناتواں مزدوروں سے وصولی کررہے ہیں، خدا معلوم یہ کیسی ذات ہے کہ انسانیت کا رتی برابر بھی عنصر اس میں موجود نہیں ہے۔حکومت ان بے کسوں کی معاونت کرکے منزل مقصود تک پہنچاتی نہ کہ ان سے اے سی کا کرایہ وصول کرکے لاک ڈاؤن کے خسارے کی بھرپائی کے لیے اس بے کس کے پیٹ پر لات مار تی، ایسے ہی ناگفتہ بہ حالات سے دوچار مزدوروں کے بارے میں علامہ اقبال نے کہاہے:
تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

(ڈاکٹر جسیم الدین گیسٹ فیکلٹی شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی ،دہلی) 
jasimqasmi@gmail.com,

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان: ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

*ڈاکٹرظفر الاسلام خان: ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ * 
(ڈاکٹر جسیم الدین، گیسٹ فیکلٹی، شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی، دہلی)
ممتازصحافی ودانشور،عظیم محقق و مترجم اور متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر ظفر الاسلام خان مشہور عالم و مفکر وحید الدین خاں کے فرزند ہیں، لیکن انھوں نے علمی،تحقیقی،صحافتی،فکری اور سماجی کاموں میں نمایاں خدمات انجام دے کر کارگہ عالم میں خود منفرد شناخت بنائی،شرافت ان کی شان ہے، انکسار ان کی پہچان ۔شہرت ومقبولیت کے منازل طے کرنے میں کبھی اپنے آباواجداد کی بیساکھی کا سہارا نہیں لیا۔ برصغیر ہند وپاک میں  ہی میں نہیں،بلکہ عالمی سطح پر گنے چنے دانشوران میں آپ کا شمار ہوتاہے، آپ کو یہ مقام یونہی نہیں ملا، بلکہ شہرت ومقبولیت کی یہ منزل آپ کی شبانہ روز کی محنت کا ثمرہ ہے، عیش وعشرت کے اسباب مہیا ہونے کے باوجود آپ نے آرام طلبی کو کبھی اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیا، بلکہ ہمہ وقت ملک وقوم کی خدمت میں خود کو گھلاتے رہے،لیکن آج حیرت وتأسف کا مقام ہے کہ ایک مناسب ومعقول رائے کے اظہار کو بنیاد بناکر مٹھی بھر شرپسند عناصر کے دباؤ میں آکر دہلی پولیس انھیں ہراساں کررہی ہے، اگر دہلی پولیس یہ سمجھتی ہے کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو وہ پس زنداں کرنے میں کامیاب ہوجائے گی تو یہ اس کی بھول ہے، آج پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔آخرڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کا قصور ہی کیا ہے کہ رمضان کے مبارک ماہ میں عین افطار کے وقت دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے چھاپہ مار کارروائی کی۔یہ طرفہ تماشہ ہی ہے کہ دہلی میں فساد بھڑکانے کے اصل مجرمین آزاد ہیں،جب کہ انھیں پس زنداں ہونا چاہیے تھا، لیکن انصاف کا یہ دہرا معیار ہندوستان کی ساکھ کو عالمی سطح پر متاثر کرے گا، اس لیے حکومت وقت کو چاہیے کہ فساد کے اصل مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچائے نہ کہ ایک سیدھے سادھے بے لوث خادم ملک وملت کے ساتھ ظلم وزیادتی پر اترے۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں صاحب ایک سنجیدہ،صاف ستھری شبیہ کے مالک ہیں،  انھوں نے اپنے قرطاس وقلم کا استعمال ہمیشہ ملک وقوم کی خدمت میں کیا ہے، وہ ملک وقوم کے لیے جہاں گراں مایہ سرمایہ ہیں، وہیں کمزوروں اور بے بسوں کے لیے توانا آواز بھی ہیں، اس لیے ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے، شرپسند عناصر کی طرف سے ڈاکٹرصاحب کے خلاف شورش برپا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ نہ کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا جاناچاہیے، یہ سراسر انصاف کا قتل وخون ہے۔اس ملک کا عدالتی نظام بھروسے مندرہاہے،یہی اس کا امتیاز ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ عدل وانصاف کو سبوتاز ہونے سے بچاتے ہوئے ڈاکٹر ظفرالاسلام کے خلاف لگائی گئیں دفعات کو واپس لے اور انھیں بے جا طورپر خوف وہراس میں ڈالنے سے باز آئے۔
یہاں میں ملت اسلامیہ ہند کے سربرآوردہ حضرات، تمام قومی وبین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان سے بطور خاص اورعمومی طور پر ملک کے باشندگان ہر محب وطن سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہر پلیٹ فارم سے ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں صاحب کے ساتھ ہونے والے ظلم وزیادتی اور ناانصافی کے خلاف صف بستہ ہوں، ورنہ اگر اس سادہ لوح،بے لوث خادم ملک و قوم پر ہاتھ ڈالنے میں دہلی پولیس خدانخواستہ کا میاب ہوگئی تو پھر ہندوستان میں (جس کی تاریخ ہمارے آباواجداد کے سرفروشانہ کارناموں سے مزین ہے) نسل نو کے لیے ہر آنے والا دن مزید خوفناک ہوجائے گا، ظلم پر ظلم ڈھایا جائے گا اور اس کو روکنا تو درکنار اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والا بھی کوئی نہ ہوگا، اس لیے مصلحت پسندی کے خول سے باہر نکل کر کوئی مضبوط لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا، تاکہ ملک میں شر پسند عناصر کی شر انگیزی پر نکیل کسی جاسکے. 
آپ کو ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں صاحب کا بیک گراؤنڈ بھی بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے جامعہ دار السلام عمر آباد میں ایک سال فارسی پڑھی۔ مدرسۃ الاصلاح سے درجہ سوم عربی پاس کیااور دار العلوم ندوۃ العلما سے پنجم عربی (اب عالمیت کے نام سے متعارف ہے) پاس کیا۔لکھنؤ یونیورسٹی سے عالم فاضل کورس کیا۔ قاہرہ یونیورسٹی سے اسلامی تاریخ میں ایم اے کیا۔ مانچسٹر یونیورسٹی سے 1987میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
:مصر میں قیام:
جامعہ ازہر کے کلیہ اصول الدین میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی میں چند سال گزارے اور وہیں سے اسلامی تاریخ میں ایم اے کیا جس کے لیے مصر کی اکسچینج اسکالرشپ دو سال کے لیے ملی۔ پھر قاہرہ ریڈیو میں بحیثیت اردو اناؤنسر بھی کام کیا۔ فروری 1973 ء سے لیبیا کی وزارت خارجہ میں چھ سال بحیثیت مترجم و ایڈیٹر اپنی خدمات پیش کیں۔
مصر میں ان کے حلقہ احباب میں بہت سے ادبا، شاعر اور محققین رہے جن میں وزیر ڈاکٹر حلمی مراد جو پہلے عین شمس یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے، پھر وزیر تعلیم ہوئے۔ بڑے ادیب یحیٰ حقی، ڈاکٹر مصطفٰی محمود، شیخ محمد الغزالی، ڈاکٹر عبد الصبور شاہین تھے۔ صحافیوں میں جامعۃ القاہرۃ میں ہم سبق ڈاکٹر عبد الحلیم عویس تھے۔ان کے قیام کے وقت بعض ادبا وشعراء وصحافی جو اس وقت نوجوان تھے، بعد میں بہت مشہور ہو گئے، شاعر حسن توفیق، شاعر عفیفی مطر جو”سنابل”نامی ادبی پرچہ نکالتے تھے اور نقاد کمال حمدی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
انگلینڈ میں قیام:
اکتوبر 1979 میں لندن چلے گئے جہاں مزید پڑھنے کے لیے مانچسٹر یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا۔ پی ایچ ڈی کا موضوع " تصور ہجرت“ تھا جس میں بنیادی طور پر یہ معلوم کرنا تھا کہ مفسرین، علما حدیث اور فقہا نے حکم“ہجرت”کو کیسے سمجھا اور اسلامی تاریخ میں اس پر کیسے عمل کیا گیا۔ لیکن مزید پڑھنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ مسلم انسٹی ٹیوٹ نے، جس نے انہیں بلایا تھا، اپنے کاموں میں اتنا مشغول کر دیا کہ ٹھیک سے پڑھائی کا وقت نہ مل سکا۔ کچھ کام کیا لیکن بہت زیادہ نہیں کرسکے۔ 1984 میں ہندوستان واپس آنے کے بعد وہ دوبارہ 1987 میں مانچسٹر گئے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے لوٹے۔
صحافتی سرگرمیاں:
الحیاۃ نیوز پیپر،لندن(19991-1992)،  عرب نیوز جدہ(1992-1997)، روزنامہ الریاض (1991-9192) میں نمائندہ کی حیثیت سے صحافتی خدمات انجام دیں۔علاوہ ازیں ’المجتمع‘ کویت، ’الاصلاح‘ دبئی، میں کالم بھی لکھے۔اسی طرح بی،بی،سی ریڈیو، ٹی وی لندن،وائس آف امریکا، واشنگٹن، جزیرہ سیٹلائٹ چینل، منارٹی وی بیروت، ریڈیو تہران، ایران اور آل انڈیا ریڈیو کی عربی سروس میں بحیثیت تجزیہ کار اور اناؤنسر اپنی صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔اب وہ عربی اخبارات میں دہلی سے نمائندگی کرتے ہیں۔
تصانیف:
عربی، انگریزی اور اردو میں چالیس سے زائد کتابوں کے مصنف یا مترجم ہیں جن میں یہ دو کتابیں بھی شامل ہیں:
اسلام میں ہجرت
فلسطینی دستاویزات
دائرۃ المعارف الاسلامیہ یا انسائیکلوپیڈیا آف اسلام (Encyclopaedia_of_Islam)   میں آٹھ مضامین برصغیر میں مسلمانوں کے حوالے سے شامل کر چکے ہیں۔
2000 سے ملی گزٹ  اخبار نکال رہے ہیں جو ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل پر مرکوز ہے۔ یہ پرنٹ اور آن لائن دونوں صورتوں میں موجود ہے۔
چیریٹی الائنس کے بانی اور چیئرمین ہیں، یہ ادارہ ہندوستان میں فلاح و بہبود کے کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اشاعتی ادارہ فاروس میڈیا اور پبلشنگ کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ جولائی 2017 میں ان کو دہلی اقلیتی کمیشن کا صدر بنایا گیا اور ہنوز اس عہدے پر برقرار ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ شرپسندوں کی سازش کو ناکام بنائے اور ڈاکٹر صاحب ظالموں کے ظلم اور ریشہ دوانی کرنے والوں کی چیرہ دستی سے محفوظ رہیں۔  
(ڈاکٹر جسیم الدین، گیسٹ فیکلٹی، شعبۂ عربی دہلی  یونیورسٹی،دہلی)
jasimqasmi@gmail.com