Saturday, 12 May 2012

آزاد ہندوستان کی تاریخ ساز شخصیتیں


محمد جسیم الدین ،ریسرچ اسکالر
شعبہ عربی ،دہلی یونیورسٹی،دہلی
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دِل میں مری بات
’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
ہندوستان میں1857سے1947تك انگریز حکمراں ان کے خلاف مسلسل جد وجہد کے بعد ہندوستان کو آزادی نصیب  ہوئی اورہندوستان ۱۵؍اگست  ۱۹۴۷ کو دنیاکے نقشے میں  ایک آزاد اور جمہوری ملک کی حیثیت سے متعارف ہوا،آزادی کے بعد ۱۴؍مئی ۱۹۵۴ کو ہندوستان کاجدید  آئین نافذ ہوا یہ آئین غیر معمولی غور وخوض  وباہمی صلاح و مشورہ سے مرتب ہوا۔ اس کےلئے ۱۹۴۶ میں ایک ا ٓئین ساز اسمبلی قائم کی گئی او رملک کے مشہور قانون داں بیرسٹر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی سرکردگی میں ایک ڈرافٹنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ کمیٹی کے ممبران نے دنیا کے مختلف دستوروں کا مطالعہ کیااورآئین ہند کےلئے مفید نکات جمع کئے اوران نکات کی روشنی میں تقریبا تین سال کی مدت میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے عین مطابق  ایک جامع آئین مرتب کیا جس میں ہندوستان کے چند قدیم قوانین کو بھی شامل کیا گیا۔ کسی حد تک  اسلامی قوانین سے بھی استفادہ کیا گیا اورشب و روز کی عرق ریزی کےبعد یہ آئین ملک میںنافذ ہوا۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے ڈرافٹنگ کمیٹی کی چیئرمین  کی حیثیت سے آئین کو پاس کرا نے کے سلسلے میں قائدانہ خدمات انجام دیں۔ چونکہ آزاد ملک کے ہم آزاد شہری ہیں چنانچہ ہندوستانی شہری ہونے کےناطے آئین ہند کی عزت ہمارا قومی فریضہ ہے۔
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفل انجم بھی نہیں
ہندوستان ایسا ملک ہے جس میں مختلف مذاہب اور عقائد رکھنے و الے لوگ بستے ہیں۔ اس ملک کا اتحاد، اس کی سالمیت، یگانگت صحیح معنوں میں اس وقت قائم رہ سکتی ہے جب یہاںحقیقی معنوں میں وفاقی نظام قائم ہو، تمام مذاہب اور عقائد کو تحفظ حاصل ہو لیکن چھوٹی قوموں کے حقوق پامال کرکے عملا وحدانی طرز حکومت قائم کردیاگیا ہے جس میں سب مالیات اور ذرائع مرکز کی تحویل میں ہیں اور ریاستیں مرکز کی دست نگر ہیں، مذہبی ا قلیتوں میں احساس عدم تحفظ پایاجاتا ہے بلکہ وہ خوفزدہ ہیں، حکمرانوں نےسیاسی اغراض کے لئے ملک کو ذات برادریوں میں تقسیم کررکھا ہے جس سے قومی یک جہتی بھی خطرے میں پڑی  ہے، جب تک حقیقی معنوں میں فیڈرل نظام قائم نہیں ہوتا، مذہبی اقلیتوں کو تحفظ نہیں ملتا، ذات برادری کی تقسیم ختم نہیں ہوتی، تب تک قومی یک جہتی کیسے قائم ہوسکتی ہے؟  حکمراں بے شک قومی اتحاد کے ڈنکے بجاتے رہیں۔اس ملک میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں، شہری آزادیاں غارت ہورہی ہیں اور آزادی تحریر و تقریر کی نفی ہورہی ہے، معصوم لوگ مارےجارہے ہیں، بے گناہ لوگ تختہ مشق بن رہے ہیں، زبانوں پر تالےلگائے جارہے ہیں، سخت گیرانہ قوانین وضع ہورہے ہیں، یہ سب ان خوابوں کی نفی ہےجو عوام نے دیکھے تھے حکمران بے شک  اسے آزادی کا نام دیں۔
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

 ہندوستان کی قومی تحریک نے جن عظیم ترین دانشوروں کی تربیت کی ان میںمولانا ابوالکلام آزاد کا مقام بہت بلند ہے۔وہ بیک وقت عالم دین، صحافی، سیاسی رہنما اور صاحب طرز ادیب تھے۔ وہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما اور ہندوستانی مسلمانوں کی آبرو کی منفرد علامت تھے۔ جس تیزی سے آزاد کی شخصیت کا ارتقاءہوا اس کی مثال بیسویں صدی کے نصف اول میں کسی اور عالم وسیاسی لیڈر کی نہیں ملتی۔
مولانا آزاد کی جدو جہد تین ادوار میں منقسم نظر آتی ہے۔ پہلا دور 1906 سے 1915 تک کا ہے ۔ اس میں آزاد اردو ادب وصحافت کے مطلع پر ایک مسلم محب وطن کی حیثیت سے نمودار ہوئے۔ اس زمانہ میں آپ پر ایک ہی جذبہ حاوی تھا اور وہ تھا مغربی استعمار کی ریشہ دوانیوں کے خلاف اتحاد اسلامی کو مضبوط کرنا اورروشن خیالی ومعقولیت پر اسلام کے احیاءکی بنیاد رکھنا ۔دوسرا دور 1920 سے 1923 تک محیط ہے۔ اس دور میں مولانا آزاد نے خلافت تحریک کے رہنما اور مفکر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ آپ نے مہاتما گاندھی کی طرح سول نافرمانی اور ستیہ گرہ کے لیے عوام کو منظم کیا۔ مولاناآزاد غالباً پہلے شخص تھے جنہوں نے انگریز حکومت سے عدم تعاون کے پروگرام پر گاندھی جی کی پوری حمایت کی۔تیسرا دور 1923 سے 1958 تک کا ہے۔اس دور میں مولانا آزاد متحدہ تہذیب اور سیکولر قومیت کی اقدار کے زبردست مبلغ اور محافظ نظرآتے ہیں۔ 
 ہمارا ملک ہندوستان اگر سانحہءتقسیم کے باوجود سیکولر زم کی راہ پر گامزن رہا تو اس کا سہرا بڑی حد تک مولانا کے سر جاتا ہے۔ مولانا کی قیادت، ان کے تدبر ، ان کی شخصیت میں مرکوز ہندوستانی امتزاج اور ان کی مشترکہ تہذیب کی زندہ جاوید علامت ہونے کی بدولت ہی ہندوستان سیکو لر بنا رہا ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک ایسے دانشور تھے جس کی نگاہِ دور رس نے بھانپ لیا تھا کہ ملک کی تقسیم کسی طرح بھی مسلمانوں کے لئے سودمند نہ ہوگی۔ اگر ملک کا بٹوارہ ہوا تو مسلمان ہندوستان میں ایک کمزور اقلیت بن کر رہ جائیں گے اور اکثریت کے رحم وکرم پر زندگی گزاریں گے۔ از اول تا آخر پاکستان کے حالات شاہد ہیں کہ تقسیم کی بابت مولانا آزاد کا انتباہ بالکل درست تھا ۔ مولانا نے اپنی کتابIndia wins Freedomمیں لکھا ہے: ”میں نے مسلم لیگ کی پاکستا نی اسکیم پر ہر زاویے سے غور کیا تو میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ یہ پورے ہندوستان اور بالخصوص مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے مسائل کے حل کے بجائے مزید مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ لفظ پاکستان ہی میری فکر کے خلاف ہے۔ اس لفظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دنیا کے کچھ حصے پاک ہیں اور باقی ناپاک۔ علاقوں کی یہ تقسیم غیر اسلامی ہے“
مولانا آزاد کوجب کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا تو ان کی عمر محض 35 سال تھی۔ آزاد ہند کے وہ پہلے وزیر تعلیم منتخب ہوئے اور وفات تک ےہ قلمدان آپ کے پاس رہا۔ آپ کے 
دور میں تعلیمی میدان میں کئی پیش رفت ہوئیں۔ مثلاً ےہ اصول تسلیم کیا گیا کہ صرف کتابی علم حاصل کرنے کا نام تعلیم نہیں ہے۔ سائنسی اور تکنیکی تعلیم، اساتذہ کی ٹریننگ، لسانی تربیت، مندرجہ درج فہرست ذاتوں اور قبیلوں و دیگر پسماندہ طبقوں کے لئے وظیفوں کی اسکیمیں ان سب کا نفاذ انہی کی وزارت میں ہوا۔ آپ نے تکنیکی تعلیم کی آل انڈیا کونسل ازسرنومنظم کی، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن(یوجی سی) قائم کیا، ڈاکٹر رادھا کرشنن اور جواہر لعل نہرو کے ساتھ مل کر موسیقی، ادب اور آرٹ جیسی تین ممتاز اکادمیوں کے تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ آپ انڈین کونسل برائے تہذیبی تعلقات(آئی سی سی آر) کے بانی اور پہلے صدر تھے۔ یہی نہیں بلکہ آپ کا تعلق یونیسکو سے کئی سال تک رہا اور دہلی میں 1956 میں یونیسکو کی جنرل کانفرنس کی صدارت کی۔آل انڈیا خلافت کمیٹی کے آپ صدر بھی منتخب ہوئے۔ ہندوستان میں مولانا آزاد کے نام سے بہت سی اکادمیاں، تحقیقی وتعلیمی ادارے، ٹرسٹ، ڈاک ٹکٹ اور بے شمار ادبی انجمنیںقائم ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں 1992 میں بھارت رتن کے اعزاز سے نوازا۔
آئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر
’اب انہیں ڈھونڈچَراغِ رُخِ زیبا لے کر!‘
آج مولانا آزاد کا احترام تو لوگ کرتے ہیں مگر ان کے پیغام اور تعلیم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہندوستانی قومی تحریک کے عظیم رہنماؤں میں مولانا آزاد کی تعلیمات کو محض ادھورا سمجھا گیا ہے۔ عوام کی اکثریت کے سامنے ان کی حیثیت بس ایک قوم پرست مسلم رہنما کی ہے۔ آزاد کی قومی تحریک ایک جذباتی یادگار، نشانی، بھولی بسری وراثت کے طور پر تو باقی رہ گئی ہے جس کی عزت تو کی جاتی ہے مگر اسے واضح اور تنقیدی طور پر سمجھنے کا احساس نہیں ہوتا۔ مولانا کے لیے سب سے بڑا خراج تحسین یہ ہوگا کہ ہم ان اصولوں اور اقدار کو اپنائیں جس کی وہ زندگی بھرنمائندگی کرتے رہے۔ آزاد کے خوابوں کا ہندوستا ن ایک مضبوط خود اعتمادی سے معمور سیکولر ہندوستان تھا۔
پنڈت جواہرلال نہرو 
  1964-1889 
  پنڈت جواہرلال نہرو1889میں پیداہوئے۔ برطانیہ میں تعلیم حاصل کی اور بیرسڑ بنے۔ 1918میںسکریٹری، ہوم رول لیگ کے۔ 1918سے کل ہند کانگریس کمیٹی کےممبررہے۔ شروعاتی غیرتعاون ورکرتھے۔1921اور 1922میں سزائےقید۔ 1923میں کانگریس کےجنرل سکریڑی۔1927میں بوسلس میں دلت وطن پرستوں کی کانگریس میں شمولیت۔ مدراس کانگریس میں آزادی کی تجویز پیش کی۔ 1927میں کانگریس کے جنرل سکریٹری بنے۔ 1927میں جھریا میں کل ہند کانگریس ٹریڈ یونین کانگریس کےصدررہے۔ انڈ ی پنڈ نس آف انڈیا لیگ کےسکریڑی بنے۔ 1929میں لاہورمیں کل ہند قومی کانگریس کےصدر رہے۔ اپریل 1930میں گرفتارہوئے۔ اکتوبر میں رہا اور پھر گرفتار۔ موتی لال کی موت،گاندھی ارون معاہدہ، یو۔ پی کاشتکاری تحریک کی قیادت کی۔ دسمبر1931میں گرفتار ہوئے۔ ڈھائی سال قید بامشقت کی سزاہوئی۔ اگست 1933میںرہاہوئے۔ فروری 1934میں پھر گرفتار اور2 سال کی سزاہوئی۔ ستمبر1935میں رہائی ملی اور بیمارکملا نہرو کو دیکھنے کیلئے جرمنی گئے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد کملانہروکی موت ہوگئی۔ 1935میں لکھنؤ میں قومی کانگریس کےصدربنےاور دوبارہ 1937میں فیض پورمیں ۔1936کےانتخاب میں کانگریس کی کامیابی کیلئےزوردار دوراکیا۔ 1937میں کارگذار کمیٹی کی مدد کی۔ چین کا سفر۔ قومی منصوبہ کمیٹی کےصدر۔ نومبر1940میں چارسال کیلئےقید بامشقت کی سزا۔ دسمبر1941میں رہاہوئے۔ کرپس کےساتھ گفتگومیں کانگریس کی طرف سےقیادت کی۔ 9 اگست 1942کوگرفتار ہوگئے۔ احمد آباد قلعہ میں نظربند کردئیےگئے۔ 1946میں رہاہوئے۔ کل ہند ریاستی اجلاس کی صدارت کی۔ 1947میں قائم ہوئی ہندستانی حکومت کےلیڈربنے۔ ہندستانی وزیراعظم اوروزیرخارجہ بنے۔ 1947میں پہلی باردلّی میں ایشائی رشتےپرکانفرنس کا انعقاد کیا۔ عالمی لیڈر،مصنف جنہوں نےاپنی سوانہ حیات اورہند ستان ایک تلاش کےنام سےکتابیں لکھیں۔
مجاہدملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی:
مولانا کی زندگی کا ایک بڑا باب سیاسیات سے متعلق ان کے کارہائے نمایاں کا ہے‘ دوران طالب علمی جمعیت علمائے ہند میں بحیثیت ممبر شمولیت پھر اپنے اخلاص کی بدولت اپنے اساتذہ کرام جو عرصہ سے میدان سیاست میں شہسواری کررہے تھے‘ کی نظر کرم سے خصوصی استفادہ‘ پھر جرأت واستقلال‘ دور اندیشی اور گہری فکری صلاحیتیں اور مولانا حسین احمد مدنی جیسی باکمال شخصیت کی ہمراہی نے مولانا کی شخصیت کو چار چاند لگا دیئے۔ مولانا کی ہمہ گیر وہمہ جہت شخصیت واقعی اس بات کی مستحق تھی کہ ان کے متعلق چہار دانگ عالم سے خراج تحسین وصول کیا جاتا اور ان کے تمام علمی ‘ عملی اور سیاسی کارناموں کو اجاگر کیا جاتا۔ ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہان پوری نے مولانا سیوہاروی کے متعلق لکھے گئے مضامین ومقالات تالیف فرماکر مرتب کئے تو تقریباً پونے چار سو صفحات پر حاوی ایک ضخیم جلد تیار ہوگئی‘ اسی کتاب کے اخیر میں تقریباً سوا دو سو صفحات میں مولانا کے مختلف خطبات وتحریرات اور حسین مرقعات کو یکجا کردیا گیا ہے‘ یہ کتاب (جو کل ۵۰۸ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے) مئی ۲۰۰۱ء میں جمعیت پلیکیشنز کے زیر اہتمام شائع ہوئی‘ اس کتاب میں بنیادی طور پر مولانا کے سیاسی رخ زندگی کے متعلق لکھے گئے مضامین یکجا کئے گئے ہیں‘ تاہم اس کتاب کو مولانا کی سوانح حیات کہنا بے جا نہ ہوگا‘ دیگر یہ کہ شائقین سیاست کے لئے یہ کتاب اپنے اندر بیش بہا خزانے سموئے ہوئے ہے‘ جس کے ضمن میں قاری پر مولانا کے سیاسی موقف کے درست خد وخال نمایاں ہوتے ہیں۔
تقسیم ہند کے بعد اپنی سیاسی کاوشوں کو یوں رائیگاں دیکھ کر مولانا کے معاصرین خود مولانا کی دل شکنی اور اندرونی غم محسوس کرتے تھے‘ لیکن اپنے اس بے پایاں اخلاص کی بدولت 
تقسیم ہند کے بعد بھی ارباب علم ودانش کے حلقہ میں بہرحال مقبول رہے اور مسلم وغیر مسلم میں یکساں مقبولیت حاصل کرتے رہے‘ گردوں کا کینسر جان لیوا ثابت ہوا‘ کھانسی نے مزید نقاہت میں اضافہ کردیا‘ عمر بھر کی جانفشانی اور محنت سے چور جسم وجان نے یکم ربیع الاول ۱۳۸۳ھ بمطابق ۲/ اگست ۱۹۶۲ء کو ان بکھیڑوں سے نجات پائی اور مولانا داعئی اجل کو لبیک کہتے ہوئے رفیق اعلیٰ سے جا ملے‘ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کی تصانیف میں سے ”قصص القرآن“ (جو ہمارا موضوع سخن ہے) البلاغ المبین‘ اسلام کا اقتصادی نظام‘ ”اخلاق اور فلسفہٴ اخلاق“ اور ”رسول کریم“ خوب شہرہ رکھتی ہیں‘ مولانا ابو الحسن علی ندوی فرماتے ہیں:
”اس طویل سیاسی جد وجہد کے ساتھ جس کا مزاج علمی کاموں اور تحقیق وتصنیف سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا‘ انہوں نے اپنے علمی ذوق‘ تصنیف وتحقیق کی صلاحیت اور لکھنے پڑھنے سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی‘ وہ ندوة المصنفین دہلی کے بانیوں اور مولانا مفتی عتیق الرحمن صاحب عثمانی اور مولانا سعید احمد اکبر آبادی کے نہ صرف شریک کار اور ندوة المصنفین کے ایک معمار تھے‘ بلکہ ان دونوں حضرات کو ان سے تقویت اور ندوة المصنفین کو ان سے اعتبار وعزت حاصل تھی‘ اس سلسلے میں ان کی دو تصنیفات ایک تو ”قصص القرآن“ دوسرے ”اسلام کا اقتصادی نظام“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اردو میں ہمارے علم میں قصص القرآن‘ انبیاء علیہم السلام کی سوانح حیات اور ان کی دعوت حق کی مستند تاریخ وتفسیر (جو قرآن مجید کے گہرے مطالعے اور صحف قدیم اور جدید تحقیقات کی مدد سے مرتب کی گئی ہو‘ اس سے پہلے نہیں تھی‘ عربی میں البتہ مصر کے نامور عالم شیخ عبد الوہاب نجار کی قصص القرآن موجود ہے (غالباً قصص القرآن طباعت کی غلطی ہے‘ اصل نام قصص الانبیاء ہے)
امیرِالہندمولانا اسعد مدنی کی سیاسی زندگی کا آغاز:
حضرت شیخ الاسلام مدنی قدس سرہ‘ مجاہدِ ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی وفات حسرت آیات سے جمعیت علماءٴ ہند اور مسلمانانِ عالم میں جو خلاء پیدا ہوا تھا‘ اس کو حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے اپنے تقویٰ ومجاہدانہ کردار سے اس طرح پُر کیا کہ جب ۱۹۶۳ء میں جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی بنائے گئے تو پورے ملک میں جمعیت کی شاخوں کا جال بچھادیا۔ اس کے تمام شعبوں کو اتنا جاندار اور فعال بنادیا کہ جمعیت کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ حضرت شیخ الاسلام اور حضرت مجاہد ملت کے بعد لگتا تھا کہ اکابر کا لگایا ہوا یہ پوداشایدامر جھاجائے گا‘ لیکن حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے نا صرف یہ کہ اس پودے کو اپنے خونِ جگر سے سینچا‘ بلکہ تناور درخت بنادیا۔
مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن ہندوستانی پارلیمنٹ کا الیکشن اس لئے لڑتے تھے کہ ایوانِ حکومت میں مسلمانوں کی ترجمانی کرسکیں‘ ان کے انتقال پُرملال کے بعدپار لیمنٹ میں مسلمانوں کی ترجمانی کرنے والا کوئی نہ رہا‘ ۱۹۶۸ء میں فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے ہندوستانی پارلیمنٹ (راجیاسبھا) کی رکنیت قبول فرمالی‘ تاریخ شاہد ہے کہ ایوانِ حکومت حضرت موصوف کی وجہ سے حق وصداقت کی آواز سے گونجتا رہا ۔ فرقہ وارانہ فسادات کا مسئلہ ہو ‘ مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی تحریک ہو یا بابری مسجد کا قضیہ نامرضیہ ہو‘ ہرمسئلہ پر حضرت موصوف دوٹوک رائے کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے تھے۔ حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے اسلاف کے سچے جانشین اور اکابر کے ورثے کے رہنما ہونے کے ناطے جمعیت علمائے ہند کے وقار اور اس کے اثرات میں ہی اضافہ نہیں کیا‘ بلکہ اس کے وسائل وذرائع میں بھی اتنا اضافہ کیا کہ کسی ناگہانی آفت کے آجانے پر چندہ وصول ہونے سے پہلے ہی جمعیت علمائے ہند بروقت متأثرین کی خدمت انجام دے دیتی ہے۔
امیرِ ہند کی وسعتِ ظرفی:
اتنے اوصاف سے متصف اور اکابر کے عظیم ورثہ کے رہنما ہونے کے باوجود اس حالت میں کہ جمعیت علمائے ہند اور مولاناسید اسعد مدنیلازم وملزوم یا یک جان ودوقالب تھے‘ حضرت موصوف کا مزاج غیر معمولی طور پر شورائی تھا۔ جمعیت کے تمام فیصلے مجلس عاملہ کے اراکینِ محترم کے صلاح ومشورہ سے ہوتے تھے اور مجلسِ عاملہ کے اجلاسوں میں بعض اوقات حضرت والا کی آراء سے اختلاف بھی کیا جاتا تھا‘ مگر اس اختلافِ رائے کے باوجود تمام فیصلے اتفاق رائے یا کثرت رائے سے کئے جاتے تھے۔
امیرِ ہندمیں قومی وملی خدمت کا جذبہ
آپ بحمد للہ! اپنے والدِ گرامی حضرت شیخ الاسلام کے سچے جانشین تھے‘ اس لئے ملی امور یا مسلمانوں کے مسائل میں کبھی مصلحت کوشی سے کام نہیں لیتے تھے‘ اس خصوصیت کی وجہ سے وہ ملک بھر کی تمام سیاسی پارٹیوں میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے‘ پورے ملک میں حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی شخصیت ہی تھی جو فرقہ پرستی کے خلاف ملک کی تمام سیکولرپارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرسکتی تھی‘ حضرت مولانا سید اسعد مدنی کو قدرت نے تعمیری ذہن بخشا تھا‘ اس لئے ان کو تعمیرات سے بھی خصوصی شغف تھا۔ مدنی ہال کی شاندار عمارت اور مسجد کے اطراف کی خوبصورت عمارتیں ان کے اس ذوق کا مظہر ہیں‘ جمعیت علمائے ہند فرقہ وارانہ فسادات کے متأثرین کی امداد وآباد کاری کا کام اگرچہ پہلے بھی کرتی رہی ہے‘ لیکن فدائے ملت حضرت سید اسعد مدنی کے دورِ امارت میں جتنے بڑے پیمانے پر یہ کام جاری ہوا‘ اس کی مثال بھی جمعیت کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
امیرِ ہند کی خدماتِ جلیلہ کا اجمالی تذکرہ:
تقسیمِ ہند کے ہولناک نتائج سے امتِ مسلمہ پر جو قیامت ٹوٹی وہ ہر کس وناکس پر عیاں ہے‘ تقسیم ہند کے تاریک ایام میں ہندوستانی مسلمانوں کو جن بڑے مسائل سے دوچار ہونا پڑا ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
۱:- فسادات کی روک تھام اور مظلومین کی امداد۲:- مسئلہ آسام‘ ۳:-مسئلہ کشمیر‘ ۴:- مسلم اوقاف کی حفاظت ۵:- اردو کا تحفظ اور اس کی بقاء ۶:-عالم اسلام سے ملت کا واسطہ ۷:- بابری مسجد ۸:- علمی پروگرام امداد ووظائف ۹:- مسلم یونیورسٹی کا تحفظ ۱۰:- مسئلہ ارتداد ۱۱:- مسلمانوں کی اقتصادی بحالی کے پروگرام ۱۲:- مسلم پرسنل لاء ۱۳:- تحفظ حرمین شریفین وغیرہ ۔
تفسیم وطن سے ہندوستان میں جو فرقہ پرستی کا زہر گھولاگیا تھا اس کا تدارک ممکن ہی نہ تھا‘ اگر یہاں حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی‘ امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد‘ مفتی کفایت اللہ‘ حضرت مولانا احمد سعید‘ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اور مولانا حفظ الرحمن جیسی بلند قامت شخصیات نہ ہوتیں۔ایک طرف تاریخ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ لوگ جب بھی اس خالق کے بنائے ہوئے طریقہ پر چلتے ہیں تو کامیابیاں اور کامرانیاں قطار باندھے ایسے لوگوں کی قدم بوسی کے لئے ترستی ہیں‘دوسری طرف تاریخ نے یہ بات بھی واضح کردی کہ اگر اس کے برعکس اس طریق کار سے ہٹ کر یا کسی اور طریق کار پر قوموں نے اپنی تعمیر کی ہے تو ناصرف یہ کہ کوتاہیوں اور ناکامیوں کا منہ انہیں دیکھنا پڑا‘ بلکہ وہ خود دوسری قوموں کے لئے ایک بدترین مثال بن کررہ گئیں اور لعنت ورسوائی نے ان کے چہروں کود اغدارکردیا‘ ہندوستانی مسلمانوں کی حالتِ زار پر تعجب نہ ہوتا اگر ان کے پاس خدا کا پیغام اور نظام زندگی نہ ہوتا۔
فرد قائم ربط مِلّت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

1 comment:

  1. Assalam o Alaikum wa Rahmatullah wa barakatoho,
    Muhtram Shaikh! sb I am student of islamic studies in Srgodha University.The topic of my thesis for Phd is" Uloom ul Quran wa Tafseer ul Quran pr ghair matboa urdu mwad" plez guide and send me the relavent material.I will pray that Allah Taala succeed you in this world and the world after,forgive all your mistakes.
    yours sincerely,
    Rafiuddin
    Basti dewan wali st. Zafar bloch old Chiniot road Jhang saddar
    03336750546 - 03016998303 Email address drfi@ymail.com

    ReplyDelete