Thursday, 14 June 2012

میر جعفر اور میر صادق

 تاریخ بتاتی ہے کہ میر جعفر اور میر صادق دو ایسے غدار تھے جنہوں نے جنگ آزادی میں اپنوں کو چھوڑ کر انگریز کا ساتھ دیا تھا۔ میر جعفر نواب سراج الدولہ کی فوج میں ایک سردار تھا۔ اُس کی بدفطرتی کا یہ عالم تھا کہ نواب سراج الدولہ سے غداری کرکے ان کی شکست اور انگریزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا جس کے بعد بنگال پر انگریزوں کا عملاً قبضہ ہو گیا جبکہ میر صادق متحدہ ہندوستان میں ٹیپو سلطان کے دربار میں وزیر کے عہدے پر فائز تھا۔ اس کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چوتھی انگلو میسور جنگ میں انہوں نے ٹیپو سلطان سے غداری کی اور سلطنت برطانیہ کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے میسور میں اس جنگ کے دوران ٹیپو سلطان کو شکست ہوئی اور وہ شہید کر دیئے گئے۔ میر جعفر اور میر صادق کا کردار تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جا چکا ہے۔ یہ دونوں غدار خود تو دنیا میں نہیں رہے لیکن اپنے پیچھے کئی ایسے جانشین چھوڑ چکے ہیں جو نہ صرف اُن کے نقش ِ قدم پر چل رہے ہیں بلکہ اُن کے کردار کی بدولت دونوں غداروں کا نام بھی زبان زدِعام ہے۔آج مملکت خداداد پاکستان بھی میر جعفر اور میر صادق کے جانشینوں کے نرغے میں ہے۔ آج کل کے حالات دیکھ کر تو لگتا ہے کہ پاکستان میں میر جعفر اور میر صادق زیادہ ہیں جبکہ ٹیپو کم رہ گئے ہیں۔ ٹیپو سلطان سچے مسلمان، عظیم سپاہی اور ہفت زبان تھے۔ وہ ہر وقت باوضو رہتے، نماز فجر کے بعد بلاناغہ قرآن کی تلاوت کرتے، مکروہات اور فہمیات سے مکمل اجتناب کرتے، اپنے شاہی فرمان کی پیشانی پر اپنے ہاتھ سے ”بسم اللہ” لکھتے۔ وہ خود تو ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے بہتر ہے” کہہ کر وطن پر نثار ہو گیا جبکہ اُن سے غداری کرنے والا میر صادق آج بھی نفرت کی علامت بنا ہوا ہے۔ اس وقت جہاں ہماری پارلیمنٹ میںمیر صادق اور میر جعفر موجود ہیں وہیں صحافت، عدلیہ، فوج اور دیگر اداروں میں بھی ان کی کمی نہیں ہے۔سیاست اور صحافت کا تعلق سماجی خدمت سے ہے لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں ادارے میر جعفر اور میر صادق کے جانشینوں کی بدولت بدنام ہو چکے ہیں ۔اسی طرح عدلیہ، فوج اور دیگر اداروں میں بھی میر جعفر اور میر صادق کے جانشینوں کی موجودگی نہ صرف ملک کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے بلکہ ان لوگوں کے بے نقاب نہ ہونے کی بدولت ملک کا مستقبل بھی دائو پر لگ سکتا ہے۔میر جعفر اور میر صادق کے کئی جانشین سیاست دانوں کا تو یہ عالم ہے کہ عوامی خدمت کو پس پشت ڈال کر ملکی سلامتی کی ضامن افواجِ پاکستان اور خفیہ اداروں کے خلاف زہر اُگل کر ملک کو دولخت کرنے کے درپے ہیں۔ ان کی ”حب الوطنی” ایسی ہے کہ پاکستان کا پانی پینا بھی پسند نہیں کرتے بلکہ منرل واٹر کی بوتلیں بھی یورپ سے آتی ہیں۔ کسی غریب سے ہاتھ ملا لیں تو فوراً جیب میں ہاتھ ڈال کر اینٹی بیکٹریل ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے ہیں

No comments:

Post a Comment