مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا ان کے والد بزرگوار محمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ مولانا 1888ء میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میںہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہر(مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہنامہ’ لسان الصدق‘ جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا رسالہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔
مولانا بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگریس کے ہمنوا تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم کے بعد جب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو مولانا آگے بڑھے اور اس کے وقار کو ٹھیس پہنچانے سے بچا لیا۔ آپ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اخبار’الہلال‘ کے ذریعے مسلمانوں کو آزادئ ہند کی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔
انہوں نے مسلمانانِ ہند کو تنبیہ کی ، ان کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور ان کو بےحسی کے خواب سے بیدار کیا،انہوں نے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ حکومت کے خلاف صف آراہوں اور علی گڑھ کی علیحدگی پسند سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے ملکی اور قومی سیاست میں عملاً حصہ لیں۔دسمبر 1913ء کے’الہلال‘ میں مسلمانوں کو تحریک آزادی میں شامل ہونے کیلئے وہ لکھتے ہیں :
غفلت و سرشاری کی بہت سی راتیں بسر ہو چکیں
اب خدا کیلئے بستر مدہوشی سے سر اٹھا کر دیکھئے کہ آفتاب کہاں تک نکل آیا ہے؟
آپ کے ہمسفر کہاں تک پہنچ گئے ہیں اور آپ کہاں پڑے ہیں؟
یہ نہ بھولئے کہ آپ اور کوئی نہیں بلکہ مسلم ہیں اور اسلام کی آواز آج آپ سے بہت سے مطالبات رکھتی ہے ،یاد رکھئے کہ ہندوؤں کے لئے ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنا داخل’حب الوطنی‘ ہے۔
تحریک آزادی میں’الہلال‘ نے جو خدمات انجام دی ہیں اس سے متعلق سیاسی بصیرت رکھنے والی کئی ایک ہستیوں نے اظہار خیال کیا ہے۔
چنانچہ نیاز فتح پوری اپنے ایک مضمون ’مولانا آزاد کی صحافتی عظمت‘ میں اظہار خیال کرتے ہیں :
’’مولانا نے الہلال بہت سوچ سمجھ کر جاری کیا تھا اور وہ ملک کے حالات کے نہایت غائر مطالعہ کا نتیجہ تھا۔ یہ فیصلہ تو الہلال کے اجراء سے قبل ہی وہ کر چکے تھے کہ ملک کو آزاد ہونا چاہئے اور فرنگی تسلط کو ختم۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ اس حقیقت سے بھی بےخبر نہ تھے کہ اس فیصلہ پر عمل کرنا بچوں کا کھیل نہیں اور یہ وہ راہ ہے جس میں ۔۔۔
شرائط اول قدم آن است کہ مجنوں باشی‘
وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جب تک ملک میں اجتماعی حیثیت سے ایک عام و مشترک جذبہء وطنیت پیدا کر کے مذہب و ملت کے اختلاف کو مٹایا نہ جائے حصول مقصود ممکن نہیں۔
ملک کی آئندہ سیاست کا جو نقشہ ان کے سامنے تھا اس کا تقاضا یہ تھا کہ تعمیر سے پہلے عملِ تخریب سے کام لیا جائے۔
کیونکہ مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ : ’جب کوئی ڈھانچہ اتنا بگڑ جائے کہ اس کی اصلاح و مرمت ممکن نہ ہو تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے اس ڈھانچہ کو توڑا جائے اور پھر ازسرنو تعمیر کی جائے‘۔
وہ پرانے مٹے ہوئے نقوش اور کجی خطوط پر تعمیر کے قائل نہ تھے بلکہ وہ ان کو مٹا کر نئی داغ بیل پر عمارت قائم کرنے کے قائل تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جب ذہن انسانی رسوم و روایات سے اس حد تک داغدار ہو جائے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو تو بہتر صورت یہی ہے کہ پہلے اس کے پرانے نقوش کو مٹایا جائے اور ذہن و دماغ کو صفحہء سادہ بنا کر اس پر دوسرے نقوش قائم کئے جائیں۔
جنگِ آزادی ہند کے عظیم سپہ سالار اورآزاد ہندوستان کے اوّلیں وزیرِ تعلیم مولانا ابو الکلام آزاد وہ ہمہ جہت شخصیت ہیں ۔بہ قول مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ علیہ ،ہمارے ملک میں دوچار آدمیوں کی ایسی فہرست پوری احتیاط سے بنائی جائے جن پر’ جِینیَس ‘کا لفظ صحیح طور پر صادق آتا ہے ،تو میں پورے اعتماد وثوق کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ مولانا آزاد کی جگہ اس میں محفو ظ میں رہے گی ۔نیز انھوں نے مولانا آزاد کی شخصیت پر یہ پیراگراف بڑے ہی خوب صورت پیرایے میں تحریر کیا ہے کہ :’’خودداری ،بصیرت ،اصا بتِ رائے،پختگی فکر،دقّتِ نظر،زہدوتقویٰ، ظاہر و باطن میں یکسانیت ،جہاد فی سبیل اللہ کا شوق ،جہدِ مسلسل کا ولولہ،پہاڑوں کی طرح بلند عزائم ،ستاروں کی طرح روشن خیالات ،چاند کی طرح شفاف کردار ،سورج کی طرح ہر ایک پر علم کی کرنیں ڈالنے کی خْو،سمندر کی طرح وسیع علم،زمین کی طرح ہموارگفتگو،دریاؤوں کی طرح رواںدواں طبیعت اور ہمہ گیر صلاحیتوں کے مجموعے کانام مولانا ابو الکلام آزاد تھا‘۔ آپ کو پورے عالم میں شہرت ملی ،۔آپ عالم ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے،آ پ نے اردو کے علاوہ عربی ،فارسی ،انگریزی ،ہندی اور بنگلہ میں اپنی شاعری کا جلوہ بکھیرا ہے آپ کے قادر الکلام شخصیت میں کسی کو کوئی شک وشبہ نہیں ،جب آپ بولتے تھے تو موتی رولتے تھے ،ایسا لگتا تھا کہ الفاظ لغات سے نکل نکل کر آپ کے دماغ کے نہا خانوں میں جاگْزیں ہو رہے ہیں اور وہاں سے صفائی حاصل کرکے آپ کی زبان کے راستے عوام تک پہنچتے تھے ،آپ کی خوش اسلوبی پر سامعین عش عش کرتے رہ جاتے تھے ،اسی بناپر انھیں ابو الکلام کے نام سے شہرت حاصل ہوئی ۔آپ کی تعلیمی خدمات کا ہر کس وناکس اعتراف کیے بغیر نہیں رہتا تھا ،آپ نے جو ہندوستانی اسکولوں کا نصاب مقر ر کیا تھا وہ بڑا ہی لائقِ تعر یف تھا ،انھی خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومتِ ہند نے انھیں نوے کی دہائی میں ہندوستان کے سب سے عظیم اعزاز بھارت رتن سے نوازا تھا ۔ آپ کاخارجی مطالعہ اس قدر وسیع تھا کہ عالمی امور اور سیاست میں آپ کو یدِ طولیٰ حاصل تھا ،حقیت ہے کہ نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو، یدِ بیضائ لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں ،آپ کی خطابت کی سحر انگیزی ہی تھی کہ تاریخ کے صفحات میں بھی یہ رقم ہے کہ خالص اسلامی اجلاس جس میں مولانا کے مخاطب صرف مسلمان ہوتے اور ان کا موضوع دینی واسلامی ہوتا ،اس میں بھی سامعین میں ایک معتد بہ تعداد غیر مسلمین کی ہوتی ۔مولانا نے رام گڑھ کے کانگریس کے ایک اہم اجلاس میں جو وقیع خطبہ دیا تھا آئیے ذرا اس کے ایک پیراگراف پر ایک نظر ڈالتے ہیں :’میں مسلمان ہو ں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کے تیرہ سو برس کی شان دارر وایتیں میرے وِرثے میں آئی ہیں ، میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم ،اسلام کی تاریخ ،اسلام کے علوم و فنون،اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں،بہ حیثیتِ مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی خاص ہستی رکھتاہوںاور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے ،لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتاہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا،اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی ،بلکہ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے ،میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں،میں ہندوستان کی ایک ناقابلِ تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں ،میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے ،میں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل فیکٹر ہوں ،میں اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا ۔ہم تو اپنے ساتھ کچھ ذخیرے لائے تھے ،اور یہ سر زمین بھی ذخیروں سے مالا مال تھی ،ہم نے اپنی دولت اس کے حوالے کردی اور اس نے اپنے خزانوں کے دروازے ہم پر کھول دئیے ،ہم نے اسے اسلام کے ذخیرے کی وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز دے دی جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی،ہم نے اسے جمہوریت اور انسانی مساوات کا پیام پہنچادیا‘۔ مولانا ابو الکلام آزاد مسلمانوں کے مضبوط دینی اعتقاد ،ان کے ٹھوس مسلکی مزاج اور ان کے دلوں میں موجزن ،پائے دار جذبہ جہاد کو انگریز کے خلاف خاتمے کا سب سے بڑا ہتھیار سمجھتے تھے،کیوں کہ وہ ہر وقت یہ کہتے تھے کہ مجھے اے ہم نشین رہنے دے شغلِ سینہ کاوی میں کہ میں داغِ محبت کو نمایا ں کر کے چھوڑوں گا جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا آخر میں آئیے ہم مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ کے اس پیراگراف میں نظر دوڑاتے ہیں جس میں وہ مولانا آزادکی شان میں کچھ اس طرح رقم طراز ہیںکہ :’مولانا آزاد مسلمانوں کے الگ وطن کے ہرگز مخالف نہ تھے،جیسا کہ ان کے سیاسی مخالفین نے مشہور کر رکھا ہے ،اصل بات یہ تھی وہ مسلمانوں کے وسیع تر مفاد اور ریاست کے تصور کے حامی تھے ، اور ایسی ہی ریاست ان کا منتہائے مقصود تھی،جن دنوں ہندوستان منقسم ہو رہاتھا،انھوںنے سرحدوں پر پہرہ دیا تاکہ مسلمان قافلوں کا کوئی نقصان نہ ہواور پاکستان بننے کے بعد وہ اس کی وسعت اور سلامتی کے لیے ہمیشہ دعا کرتے رہے ،کاش مولانا آزاد پر اسلامی ریاست کی مخالفت کا الزام لگانے والوں کو یہ حقیقت بھی معلوم ہو جائے کہ آزاد راتوں کو اْٹھ اْٹھ کر شراب نہیں پیتے تھے بلکہ وہ تنہائیوں میں مسلمانوں کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتے رہتے تھے،اور ان کی ہر دعائے نیم شبی میں پاکستان کے مسلمان شامل رہے ،یہاں تک انھیں خدا نے اپنے پاس بلا لیا۔
No comments:
Post a Comment