Thursday, 10 November 2011

کیا یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے؟


!مکرمی
اس میں شک وشبہ کی گنجائش با لکل نہیں کہ مدارس ومساجدبر صغیر میں اسلام کے تحفظ وبقا کے مضبوط ذرائع ہیں، ہمارےبوریہ نشیں علما و اسلاف نے جس سادگی کے ساتھ دین کی خدمت انجام دی اس میں نام ونموداور جاہ طلبی کا دور دور تک شائبہ بھی نہ تھا،لیکن مقام حیرت وتاسف ہے کہ آج انھی اکابر واسلاف کے نام نہاد پیروکار سستی شہرت وجاہ طلبی کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتے ہیں خواہ ان کو اس کے لیے مدارس ومساجد کی تعمیر ،ملت اسلامیہ کی بہبوداورغربا ومساکین کی اعانت کے نام پر دنیا بھرسے بٹوری گئی زکوۃ ،صدقات اورچرم قربانی کی رقوم کو پانی کی طرح کیوں نہ بہانا پڑے ،یہی نہیں چندہ دہندگان کے سامنے اپنی مقبولیت اور اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے بعض صاحب قلم سے اپنی زندگی کی روداد لکھواکراس کی تشہیر کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرکے سیاسی لیڈران ہی کو جمع کرنے پر قناعت نہیں کرتے ہیں ،بلکہ اس کا اجرا پٹنہ کے ایک مہنگےآڈیٹوریم (اے این سنہا)میںاس وزیر اعلی کے ہاتھوں کراتے ہیں جس نے بارہا انسانیت کے قاتل نریندرمودی سے ملایا ہے اور حال ہی میں پورے ہندستان کوفرقہ وارانہ فسادمیں جھونکنے والے بابری مسجد کومسمارکرکے جشن منانے والے اسلام ومسلمانوں کے ازلی دشمن لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا کا افتتاح اسی سرزمین سے کرایاہے جہاں لالو پرسادکے دور اقتدار میں اس کو منھ کی کھانی پڑی تھی،اس کتاب میں امت کے فلاح وبہبود کی کیا ایسی  چیزیں ہیں وہ تو قارئین ہی اس کا مطالعہ کے بعدکریںگے ،راقم الحروف نے اس کے چند اوراق کو دیکھا تو اس کے مشمولات نے ماتم کرنے پر مجبور کردیا ،اس میں بیعت وخلافت کی فوٹو کاپی بھی شامل ہے،اس کا کیا مقصد ہے ؟ایک طرف  ان بوریہ نشیں عالموں سے بیعت وخلافت اور دوسری طرف اس کتاب کا اجرا انسانیت کے قاتل نریندر مودی کے دوست سے !’رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی‘ ۔ہمارے اکابر واسلاف نے لامحدود کارنامے انجام دیے ،لیکن انھوں نے کبھی اپنی زندگی میں اس طرح کے کارناموں کانہ تو ڈھینڈورا پٹوایااور نہ جاہ طلبی کے لیے کسی سیاسی لیڈرکا سہارا لیا ۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے اسلاف نے نام ونمود سے بے پروا ہوکرعلمی ودینی خدمات انجام دیں انھوں نے’نگہ بلند،سخن دلنواز ،جاں پرسوز‘کو اپنے لئے رخت سفر مانا ،نام ونمود ،جاہ و حشمت اور سستی شہرت کے تا عمر طلب گا رنہ ہوے ،ان کے تلامذہ نے حق شاگردی نبھاتے ہوئے ان کے کارناموں کو اجاگر کیااور ہونا بھی یہی چاہیے’مشک آں باشدکہ خود ببوید ،نہ کہ عطار بگوید‘لیکن آج علمی بے بضاعتی کے شکار چند شہرت پسند علما مدرسہ ،مسجد کی تعمیر ،اعانت غربا ومساکین کے نام پر نہ صرف ملک بھر میں بلکہ بیرون ملک جاکر امراوروسا سے چندہ مانگتے ہیں اور جب خطیر رقم بٹور لیتے ہیں تو پھر اس کا نشہ سوار ہوتاہے اور اس وقت تک  ان کی طبیعت آسودہ نہیں ہوتی ہے ،جب تک کہ ’ان اللذین یاکلون اموال الیتامی ظلماما یاکلون فی بطونھم الا النار‘کے مطابق پوری رقم کو اپنے پیٹ کا ایندھن نہ بنالے،راقم الحروف کی ایسے سستی شہرت کے حریصوں سے درخواست ہے کہ خدارا ملت کے نام پر مختلف حیلوں ،حربوں سے بٹوری گئی رقم سے شکم پروری کی بجائے ملت کے لئے بھی کچھ کریںاور اپنے لئے بھی رخت سفر تیار کریں۔
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اترجائے تیرے دل میں مری بات

No comments:

Post a Comment