Saturday, 29 October 2011

جدت پسندی کی آڑ میں لادینیت کا بڑھتا رجحان



جدت پسندی نے مشرقی اقدارروایات کی چولیں ہلادی ہے ،جس کے منفی اثرات سے نئی نسل ادب واحترام سے عاری ہوتے جارہے ہیں
آج پورے ملک میں اخلاقی انحطاط کے بادل جھائے ہوے ہیں، جس کا اثرخاص طورپر نوجوان نسل میںدکھائی دے رہاہے، اگر ہم اس کے اسباب کا پتہ لگائیں تو بنیادی طور پر جو چیزیں سامنے آتی ہیں وہ جدت پسندی کے نام پر مادہ پرستی اور مذہب بیزاری ہے، ان کے علاوہ استعماری اور صیہونی افکار نے اسلامی تہذیب واقدار کو مسخ کرنے کے لیے جو حربے اپنائے ہیں ان میں ذرائع ابلاغ اور ترسیلی سہولتیںمثلاً ٹیلی ویژن، سنیما، انٹرنیٹ اور موبائل کا منفی استعمال ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے نئی نسل کے ذہنوں کو بری طرح پراگندہ کررہاہے،اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال شجر ممنوعہ ہے، اصل مسئلہ اس کے استعمال کی نوعیت کا ہے ،اچھی غذا بھی ضرورت سے زیادہ لینے پر نقصان پہنچاتی ہے،اسی طرح انٹرنیٹ اور موبائل کا بے جا استعمال بھی نئی نسل کو بربادی کے دہانے پر دھکیل رہی ہے۔
اس وقت تین نسلیں ہمارے سامنے ہیں: پہلی نسل پختہ عمر والوں کی ہے۔ دوسری وہ جوجوان ہوچکی ہے اور پختگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تیسری وہ نئی نسل جو دس، بارہ سال سے پچیس سے تیس سالوں کی عمر تک کی ہے۔ پہلی نسل کی صورت حال غنیمت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہے جس پر مذہب کے اثرات غالب تھے۔ دوسری نسل پر اس کے اثرات ہلکے ہیں۔ تیسری نسل میں اس کا یکسر فقدان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے اس پر مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑی ہے۔ تو دوسری طرف نئی تہذیب کی یلغار ہے جو بیشتر جدید تعلیم کی راہ سے اس پر حملہ آور ہوئی ہے۔
اس وقت ہمارے لیے نئی نسل بہت اہمیت رکھتی ہے،کیونکہ آنے والی نسلیں اسی پر منحصر ہیں، اگر اسے موجودہ روش پر چھوڑ دیا گیا تو آنے والی نسلیں کیسی ہوں گی اور ان پر اسلامی تہذیب وافکار اور عقائد کا کتنا اثر ہوگا ، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں ہندستانی مسلمانوں میں الحمد للہ خوشحالی آئی ہے اور مسلمانوں نے تعلیم کی طرف خصوصی توجہ کی ہے، ان میں تعلیمی گراف بڑھا ہے، بڑی تعداد میں مسلمان بچے عصری تعلیم حاصل کررہے ہیں اور مختلف میدانوں میں انہیں نمایاں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ حالانکہ جو پیش رفت ہونی چاہیے وہ اب بھی کم ہے۔ آبادی کے تناسب سے مسلمان خاطرخواہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں، لیکن اس کا دوسرا درد انگیز پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں میں مذہب کے تئیں منفی ذہنیت پیدا ہوئی ہے، مذہبی تعلیم اور اسلامی تہذیب واقدار کو فرسودہ سمجھاجانے لگا ہے، مخالفانہ رویہ یہ ہے کہ عصری تعلیم میں مذہبی تعلیم کی ہم آہنگی کوتعلیمی ترقی میں رکاوٹ سمجھا جانے لگا ہے۔ اس رویہ اور ذہنیت کی وجہ سے ایسے عصری ادارے جو اسلامی تعلیم اور اسلامی تہذیب کے ساتھ عصری تعلیم کا انتظام کرتے تھے روبہ زوال ہیں۔ نئی نسل کے سرپرستوں کا رجحان مشنری اسکولوں کی جانب ہے۔ رفتہ رفتہ نئی نسل اسلامی تہذیب سے بے گانہ ہورہی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ اپنے مذہب کے بنیادی افکار، اسلامی تاریخ کی شخصیات اور واقعات سے اتنی واقفیت بھی نہیں جتنی دوسرے مذاہب کی حقیقی اور افسانوی شخصیات وواقعات سے ہے۔ دوسری طرف غیر اسلامی درس گاہوں میں تہذیبی یلغار ہے۔ سیکولرزم یا لادینی فکر کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ مذہب انسان کو تنگ نظر اور جانب دار بناتا ہے۔
آج جو لوگ اپنے بچوں کو انگریزی اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں ان میں کچھ اسلامی غیر ت سے ا ور کچھ شرما حضوری میں دنیا کی دم بہ دم بدلتی صورت حال اور لادینی تہذیب وافکار کے رجحان سازوں کے فتنہ پرور شاخسانوں سے بے خبر کسی سادہ لوح مولوی کو رکھ کر قرآن اور اردو پڑھوالیتے ہیں۔ بلاشبہ ان کا یہ عمل مذہبی غیرت وحمیت کا ثبوت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے بچہ میں اسلامی تہذیب آجائے گی؟ مذہب کے تئیں جو والہانہ لگا ؤ ہونا چاہیے محض اتنے سے عمل سے بچے میں در آئے گا؟ میرا خیال ہے نہیں، کیونکہ تہذیبی عمل گرچہ واضح اور محسوس ہوتا ہے، مگر اس کو اس طرح چند گھنٹوں کی روا روی میں نہیں سکھایا جاسکتا ہے۔ نہ ٹیوشن میں پڑھانے والے کو اس کی فرصت ہوتی اور نہ ہی اس میں عام طور پر اس کا فہم ہوتا ہے کہ بچے کو اسلامی تہذیب کے اجزا سے روشنا س کرائے۔
تہذیب ایک طرز معاشرت ہے جو گھر کی معاشرت میں رہ کر ہی سیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے سیکھنے میں شعور اور لاشعور دونوں کی کارفرمائی ہوتی ہے، بلکہ تہذیب کے اکثر امور انسان پر لاشعوری طور پر ہی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ گھر کا طرز معاشرت اگر اسلامی تہذیب پر مبنی ہوگا تو بچے اس سے اثر انداز ہوں گے اور اگر گھر میں دوسری تہذیب اپنا قدم جمائے ہوئے ہوگی تو بچے کے ذہن پر اسی تہذیب کے اقدار کا اثر مرتب ہوگا۔ ساتھ ہی  ایام طفولیت میں ہر عمل پر بروقت بچے کی رہنمائی اور درست عمل کی طرف نشاندہی بھی ضروری ہے۔
دوسری طرف غیر اسلامی اداروں میں جس طرح کی تہذیبی یلغار ہے اس کا تدارک بڑی بیدار مغزی سے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس کی طرف توجہ نہیں دی گئی تو نئی نسل میں اسلامی تشخص کی بقا کا مسئلہ سنگین ہوتا چلا جائے گا۔
آج کی نئی تہذیب جو مادہ پرستی ، عیش پرستی وعیش کوشی، آزادروی اور دکھاوے پر مشتمل ہے ہر قوم اور ہر جماعت کو اپنی فکر کا غلام بناچکی ہے۔ نئی نسل کو بتایا جائے کہ مادہ پرستی وعیش پرستی ، آزادروی اور دکھاوے کے نقصانا ت کیا ہیں۔ ان سے کیسے بچا جائے اور اس سلسلے میں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں، اسلام نے آپس میں ایک دوسرے پرجو حقوق متعین کئے ہیں ان کے فوائد کیاہیں، ان کی ادائیگی سے سماج میں کونسی خوبیاں پیدا ہوں گی اور آپسی رشتوں کی استواری کے میں ان کی اہمیت کیا ہے، ان سے آشنا کرایاجائے۔
عام طورپر چھوٹی عمر میں کپڑوں کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے۔ بچوں کو عجیب انداز کے کپڑے دئیے جاتے ہیں جن سے ستر پوشی تو کم ہوتی ہے لیکن عریانیت میں نکھار آجاتا ہے۔ لڑکیوں کو لڑکوں کے لباس پہنا دئے جاتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ ابھی کم عمر ہے۔ حالانکہ اسی وقت سے ان کے ذہنوں پر اس کے اثرات مرتسم ہونے لگتے ہیں جن کا اثر بلوغت کے بعد بھی رہ جاتا ہے۔ تنگ اور پتلے کپڑے عام ہوتے جارہے ہیں۔ اس پر کنٹرول کی ضرورت ہے۔
نئی ٹکنالوجی کے شر سے بچنے کے لیے موبائل اور انٹر نیٹ وغیرہ کے استعمال پر کنٹرول رکھا جائے۔ کوشش کی جائے کہ چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل نہ دیئے جائیں۔ بچے اگر کسی ساتھی یا عزیز سے موبائل پر گفتگو کریں تو انہیں تنہائی میں نہ چھوڑا جائے۔ حیرت یہ ہے کہ لڑکیاں گھروں میں گھنٹوں موبائل پر بات کرتی رہتی ہیں اور والدین کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ لڑکے یا لڑکیوں کو گھرسے باہر موبائل رکھنے کی اجازت بالکل نہیں دی جائے،حالانکہ موبائل ایک ضرورت  هے جس سے گفتگو اور ترسیل کی سہولت حاصل ہونی چاہیے ،لیکن  ملٹی میڈیا موبائل کے ذریعہ اس کے مثبت استعمال کی بجائے منفی استعمال عام ہے۔ نئی نسل کے لڑکے اور لڑکیاں موبائل کا بڑا استعمال گانا سننے اور فلموں کے دیکھنے لیے ہی کررہے ہیں۔ فلموں کے اثرات یہ ہیں کہ نئی نسل کے بچے اداکار اور اداکاراوں کو اپناآئیڈیل مانتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ گھروں میں ملٹی میڈیا موبائل نہ رکھے جائیں۔ تجارتی اغراض سے اگر رکھے بھی جائیں تو بچوں کے ہاتھوں سے ان کو بچایا جائے۔ انٹر نیٹ کا استعمال بچوں کو نہ کرنے دیا جائے، اگر ضروری ہو تو ان کے سامنے گھر کاکوئی بڑا فرد موجود رہے، کیونکہ انٹرنیٹ جہاں علم اور وسیع معلومات کا خزانہ ہے وہیں وہ مجموعہ خباثت بھی ہے جہاں ہر قسم کی برائیاں موجود ہیں۔ دیکھنے والوں کے لیے کسی قسم کی پابندی بھی نہیں ہے، بلکہ اکثر اوقات کام کی چیزیں ڈھونڈنے میں تو وقت لگتا ہے ،لیکن نیم عریاں تصویریں اور ایسی علامتیں جو عریانیت اور اور فحاشی دکھانے والی ہوتی ہیں کمپیوٹر اسکرین پر آجاتی ہیں اور اس کا لنک موجود ہوتا ہے جس پر کلک کرتے ہی وہاں پہنچ جائیے۔
یہ موجودہ اخلاقی انحطاط اور اس کے سد باب کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے چند اشارے ہیں۔ مسلمانوں کی تہذیب کو مسخ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں ہورہی ہیں۔ اگر اس طرح کے اقدامات سے گریزکیا گیا تو ہندستان میں اسلام کا مستقبل زوال آشنا ہوتا چلاجائے گا۔

محمد جسیم الدین قاسمی
 ریسرچ اسکالرشعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی
jasimqasmi@gmail.com

No comments:

Post a Comment