Saturday, 29 October 2011

عالمی یوم القدس طاغوتی قوتوں کے خلاف جدوجھد کا دن

عالمی یوم القدس رمضان المبارک کے آخری جمعہ (جمعۃ الوداع ) کو منایا جاتاہے یہ کوئی جشن نہیں ہوتا ،بلکہ صیہونی طاقتوں کے خلاف پوری دنیا کے مسلمانوں کے احتجاج کا دن ہوتاہے، اگست ۱۹۷۹میں انقلاب کی کامیابی کے تقریبات ۶ماہ بعد امام خمینی نے مسلمانوں کے قبلہ اول قدس کی آزادی کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنے کی خاطر اس دن کو خاص کیا۔ جس کو ناپاک صیہونیوں نے اپنی تحویل میںکررکھا ہے ، قیام اسرائیل کے بعد سے فلسطین کی مزاحمتی تحریکیں فلسطین اور قدس کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرتی چلی آرہی ہیں، لیکن اس سلسلے میں کسی قسم کی مربوط حکمت عملی کا فقدان تھا عرب اسرائیل جنگیں بھی صیہونیوں کے توسیع پسندانہ منصوبوں کو روکنے میں ناکام رہیں۔ 
عرب دنیا میں فلسطینی کاز کواس دقت شدید دھچکا لگا، جب امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل کے ساتھ مصرنے کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ کیا، اس کے بعد عالمی سامراج اور صیہونی طاقتیں عربوں کو نام نہاد امن مشن کے جال میں پھنسا نے کی کوشش کررہی ہے اور عربوں میں اسرائیل کے ساتھ مقابلہ کی امیدیں دم توڑگئی تھیں، ان حالات میں امام خمینی کی طرف سے یوم القدس کا اعلان فلسطین کی مزاحمتی تحریک میں نئی جان پھونکنے کا سبب بنا اور مایوس فلسطینی مجاہدین کو نیا عزم وحوصلہ ملا، چنانچہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ۹۰کی دہائی میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی مسلح جدوجہد کو تقویت ملی اور انتفاضہ ، حماس ،اسلامی جہاد، حزب اللہ جیسی مزاحمتی تحریکیں معرض وجود میں آئیں ،جنہوں نے صہیونیوں کی نیندیں اڑاکر رکھ دی ہیں۔
یوم القدس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امام خمینی نے کہا یہ (یوم القدس ) اسلام کے نشاۃ ثانیہ کادن ہے، امام خمینی اس دن کو استکباری طاقتوں کے خلاف مظلوم و محروم اقوام کی جدوجہد کا دن سمجھتے تھے، انہون نے پیش گوئی کی تھی کہ فلسطین اور لبنان کے مظلوم عوام یوم القدس کی بدولت نئے عزم ولولے سے ا ٓزادی و حریت کی آواز بلند کریںگے اور سرائیل واس کے آقا امریکہ کے ناکوں چنے چبوادیںگے ۔
امام خمینی نے یوم القدس کو اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کادن قراردیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ قدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور یہ شہر مکہ ومدینہ کے بعد مسلمانوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے ، کیوں کہ یہ انبیائے الہی کا مرکز رہاہے اور یہاں سے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر معراج شروع کیا۔
جغرافیائی لحاظ سے قدس ایک خاص محل وقوع کا حامل شہر ہے ، اسی لیے قدس تاریخ کے مختلف ادوار میں علاقائی وبیرونی طاقتوں کے حملوں کی زد میں رہاہے ، تاریخی حیثیت کے علاوہ بیت المقدس کا جغرافیائی و سیاسی محل وقوع بھی اہمیت کا حامل ہے۔ فلسطین افریقہ اور یورپ کے نزدیک بر اعظم ایشیا کے جنوب مغرب میں واقع ہے شہر تقریبا مشرق ومغرب کے اسلامی ممالک کے وسط میں واقع ہے، انیسویں صدی میں قدس وفلسطین کو سوق الجیسی اہمیت کی وجہ سے عالمی طاقتوں خاص طورپر برطانیہ اور فرانس نے اس مقدس سرزمین پر اپنی توجہ مرکوز کردی، بحیرۃ ابیض کو بحیرۃ احمر سے ملانے کے لیے اس صدی کے اواخر میںنہر سوئز کھودی گئی اس کے بعد فلسطین کی اہمیت دو چند ہوگئی۔
انگریزوں نے مشرق وسطی سے اٹھتی ہوئی اسلامی بیداری کی لہر کو روکنے کے لیے عثمانی خلافت کو کمزور کرتےہوئے عرب ممالک سے اس کا عمل دخل ختم کردیا اور ۱۹۱۶میں خلافت عثمانیہ کی بساط لپٹ دی گئی ، چنانچہ وہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل تک بہت سے عرب علاقوں پر قابض ہوئے اور عالم عرب کو متعدد ممالک میں تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی، دنیا میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے لیے۱۸۹۷میں سوئزر لینڈ کے صہیونی پہاڑیوں کے دامن میں عالمی یہودی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اسرائیلی ریاست کے قیام کی منظوری دی گئی اور فلسطین میں اس ریاست کے قیام کے لیے برطانیہ نے کلیدی کردار اداکیا، چنانچہ۱۹۴۸میں وسیع فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں آیا اور انگریز یہاں سے چلے گئے یہ ریاست فلطسین کے مغربی ساحلی علاقوں میں قائم کی گئی اسی دوران مغربی بیت المقدس پر قبضہ ہوا، اس پر فلسطینیوں نے  اپنی مزاحمت جاری رکھی لیکن عرب ممالک کی طر ف سے فلسطین کی آزادی کے لیے کوئی نمایا ں قدم نہیں اٹھایا گیا۔
قائدین میں بانی انقلاب اسلامی ایران امام خمینی  وہ واحد رہنما ہیں جنھوں نے قبلہ اول کی آزادی کا نعرہ بلند کیا، انھوں نے شاہ ایران کے خلاف اپنی تاریخی تحریک کا آغاز بھی اسرائیل نوازی پر مبنی شاہی پالیسی کے خلاف تنقید سے کیا، ۳؍جون۱۹۶۳کو عاشورہ کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ ’’شاہ اور اسرائیل کے درمیان کیا تعلق ہے؟ ساداک کے (خفیہ شاہی) کارندے کیوں یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف کچھ نہ کہو؟ کیا شاہ اسرائیل ہے؟ 
امام خمینی کی طرف سے یوم القدس کے اعلان کے بعد فلسطین مسئلے میں ایک نئی جان پھونکی گئی اور یہ مسئلہ جو طاق نسیاں بن چکا تھا دوبارہ زندہ ہوا، چنانچہ دنیا کے گوشے گوشے میں ہرسال لاکھوں مسلمان اس دن قدس کی آزادی اور اسرائیل کی نابودی کے خلاف ملک شکاف نعرے لگاتے ہوئے قبلہ اول کی آزادی کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
رمضان المبارک کے آخری جمعے کو یوم القدس قرارد ینے کی امام خمینی کی حکمت عملی اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ ماہ مسلمانوں کے تزکیہ نفس کا مہینہ ہے  اور مسلمان اسلام کی زریںتعلیمات کے سائے میں اعلی انسان اقدار کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور ایسے روحانی ماحول میں لاکھوں روزے داروں کا ایک مقدس مقصد کے لیے جمع ہونا اور صہیونی مظالم کی مذمت کے لیے آخری جمعہ کے بعد مظاہرہ کرنا اسلام دشمن طاقتوں کے پیکر پر کاری ضرب لگانے کا باعث بنتا ہے، یہ سب یوم القدس کا کرشمہ ہے۔
محمد جسیم الدین قاسمی
ریسرچ اسکالر 
شعبۂ عربی ،دہلی یونیورسٹی
jasimqasmi@gmail.com





No comments:

Post a Comment