مرکزی مدرسہ بورڈ کا قیام کن مقاصد کے تحت عمل میں لایا جارہا ہے اور کیا اس سے مسلمانوں کا بھلا ہوسکتا ہے یا یہ بھی حکومت کی دیگر اسکیموں کی طرح ایک لالی پاپ ثابت ہوگابے شک یہ ایسا پہلو ہے جس پر ہر ایک کو خاص طور سے قائدین ملت اور ارباب مدارس ودانشوران قوم کو سنجیدگی سے مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کرنا چاہیے اور ذہن وفکر کے تمام دریچوں کو واکرکے ملت کی فلاح وبہبود اور اس کے لیے لازمی عوامل واسباب پر نہایت سنجیدگی سے غور کر کے حکومت اس اقدام کی موافقت یا مخالفت کرنی چاہیے ، صرف شخصی رائے کو پوری ملت کی گردن پہ تھوپنے سے گریز کرنا چاہیے حکومت مرکزی مدرسہ بورڈ کے قیام کے درپے کیوں ہے آخر انھیں کون سی ایسی ضرورت آپڑی ؟اسے جاننا بہت ضروری ہے آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وزارت ِ عظمیٰ کی اعلیٰ سطحی سچر کمیٹی رپورٹ جس میں مسلمانوں کی تعلیمی ،سماجی، سیاسی اور اقتصادی حالت پسماندہ(OBC) ہندو سے نہایت خراب اور ایس سی ۔ ایس ٹی (SC,ST)سے کچھ بہتر دکھائی گئی ہے ،کے آنے کے بعد یو پی اے حکومت نے مسلمانوں میں تعلیمی بہتری لانے کے لیے مرکزی مدرسہ بورڈ کی تشکیل کا اعلان کیا اور اس کی ذمہ داری قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کے چیئرمین جناب سہیل اعجاز صدیقی صاحب کے سپرد کی۔ جنہوں نے اس سلسلے میں بڑی محنت اور تگ و دو سے کام لیتے ہوئے کئی سیمینار اور میٹنگوں کا اہتمام کیا ۔ان میں 3دسمبر2006کی میٹنگ قابلِ ذکر ہے ۔اس میٹنگ میں انہوں نے ہندوستان کے اکثر و بیشتر مدارس کے مہتمم و منتظم حضرات کو مدعو کیا تاکہ وہ مرکزی مدرسہ بورڈ سے متعلق اپنی آراء و خیالات کا اظہار کریں۔پھرانہوں نے 21اپریل 2007کو مرکزی مدرسہ بورڈ کے قیام سے متعلق سفارشات پر مبنی رپورٹ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل جناب ارجن سنگھ کے سامنے پیش کر دی ۔اس رپورٹ میں یہ، دکھایا گیا تھا کہ مرکزی مدرسہ بورڈ کی حمایت اکثر مکتبۂ فکر کے علماء نے کی ہے ۔مگر 23اپریل2008کو مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء اور مسلم پرسنل لا کے صدر جناب رابع حسنی ندوی نے مرکزی مدرسہ بورڈ کی مخالفت کھل کر کرنی شروع کر دی۔بلا شبہ یو پی اے حکومت کی مدارس کے تئیں یہ اصلاحی کو ششیں اور ان مدارس کو مین اسٹریم سے جوڑنے کی جد و جہد ایک قابل ِ ستائش عمل ہے اسے سراہا جانا چاہیے اور تمام ہندوستان میں تقریباً سات ہزار مدارس جو تقریباً ساڑھے تین لاکھ طلباء کو علم کی دولت سے سرفراز کر رہے ہیں ،ان کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔
مگر بعض لوگ جن میںعلماء اوردانشوران کی ایک جماعت بھی شامل ہے مرکزی مدرسہ بورڈ کو لے کر مختلف اندیشوں میںگھرے ہوئے ہیںاور کئی طرح کے شبہات لاحق امیر شریعت بہار واڑیسہ مولانا نظام الدین نے مدارس کے تعلق سے مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ارجن سنگھ کے دئے گئے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مدرسوں کو ہر صورت میں اپنی حالت میں رکھنا چاہیے اور اس کا ووٹ سے الحاق نہیں کیا جانا چاہیے البتہ اگر حکومت بغیر کسی شرط پر امداد دے رہی ہے تو اسے قبول کیا جاسکتا ہے جیسے کمپیوٹر وغیرہ کی تعلیم کے لیے کمپیوٹر فراہم کرے یا دیگر عصری تعلیم سے متعلق جو ان کے اختیار میں ہو امداد کرے تو اسے قبول کرنے میں احتراز نہیں ہے لیکن اس امداد میں کوئی شرط شامل نہ ہو کیوں کہ جہاں جہاں مدارس کا الحاق ہوا ہے وہاں دینی تعلیم وتربیت کا مقصد ہی فوت ہوگیا ہے مولانا نے مزید کہا ہے کہ بہار میں 1250مدارس کا ریاستی حکومت سے الحاق ہے لیکن وہاں تعلیم وتربیت بہت ہی ابتر ہے اس لیے مدرسوں کو اصل حالت میں نہ رکھا جائے اس وقت تک بہتر نتائج کی جستجو فضول بات ہوگی ‘‘دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث اور جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اس استدلال کے ساتھ کہ مدارس سے ہماری دنیا نہیں مسلمان کا دین اور آنے والی نسلوں کا ایمان وتشخص وابستہ ہے ،سینٹرل مدرسہ بورڈ کی تشکیل کو اس ملک میں مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی منصوبہ بند کوشش قراردیا اور پارلیمنٹ میں متعلق بل کو ناکام کرنے کے لیے فیصلہ کن جد وجہد کا اعلان کیا ۔ان کا مانناہے کہ ملحقہ مدارس کی تعلیمی وتربیتی روح ختم ہوچکی ہے لہذا جمعیۃ علماء ہند اور ہندوستانی مسلمان ایسے کسی بورڈ کی تشکیل کی تائید نہیں کریں گے ۔مولانا مدنی کا دعوی ہے کہ مدرسہ کی سطح پر تعلیم کے نظام کو مربوط بنانے ،بین مذاہب ومسالک مفاہمت کو فروغ دینے اور مدرسے کی تعلیم کو قومی ترقی کے لیے موثر بنانے کی آڑ میں مدارس میں اسلامی تعلیمات کو مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں بے اثر کرنے کی یہ ایک دیرینہ سازش ہے ،جسے دہشت گردی سے متاثر ماحول میں اس اندازے سے لانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ عام مسلمان جھانسے میں آجائے اور اس طرح وہ بلا مزاحمت اپنے اسلامی تشخص سے محروم ہوجائے ۔مولانا ارشد مدنی کا مطالبہ ہے کہ اگر مدرسہ بورڈ بنایا جائے تو اختیاری بنایا جائے یعنی جس کا دل چاہے وہ امداد لے اور جس کا جی نہ چاہے وہ امداد نہ لے ،ان کی مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ کالج ،انجینئرنگ کالج ،آئی ٹی آئی اور عصری علوم کے دیگر ادارے قائم کریں اور حکومت کی جانب سے خوب امداد لیں لیکن دینی مراکز میں حکومت کودخل اندازی نہ کردیں ‘‘مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا محمد رابع جسن ندوی ،امیرشریعت مولانا نظام الدین اور مولانا ارشد مدنی اور ان کے ہم خیال لوگوں کو خدشہ لاحق ہے کہ مرکزی مدرسہ بورڈکے ذریعے حکومت مدارس کے امور میں دخل اندازی کرنا چاہتی ہے اوراس طرح مدارس کی انفرادیت و سالمیت پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔جس سے مدارس کے وجود کوخطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس اندیشے پر بات کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی مدرسہ بورڈ کا تعارف اور مقاصد بالتفصیل بیان کر دیے جائیں۔تاکہ اس اندیشے کا ازالہ خود بخود ہو جائے:
مجوزہ مرکزی مدرسہ بورڈ UGCکی طرح ایک خود مختار ادارہ (autonomous body)ہوگا۔جس کا مقصد ہندوستان کے کونے کونے میں تسبیح کے ٹوٹے ہوئے دانوں کی طرح بکھرے ہزاروں مدارس اسلامیہ کو ایک نظام کے تحت مربوط کرنا ہے اور ان کے درمیان مکمل تعاون اور تال میل پیدا کرنا ہے۔اس کے علاوہ مرکزی مدرسہ کا بنیادی مقصد مدارس اسلامیہ کو عصری علوم سے جوڑکر ان کی اسناد کو سرکاری منظوری دلانا ہے تاکہ ان مدارس کے فارغین جو فراغت کے بعد معاشی پریشانیوں کے لیے سرگرداں پھرتے ہیں ان کو ان پریشانیوں سے نجات دلایا جا سکے اور انہیں سرکاری و غیر سرکاری نوکریوں میں کام کر نے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں تاکہ وہ اپنی اور اپنے خاندان اور قوم و ملت کی اقتصادی اعتبار سے خدمت کر سکیں۔
اس مرکزی مدرسہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے الحاق اجباری نہیں بلکہ اختیاری ہوگا اور جو مدارس اس بورڈ سے الحاق کریں گے ان کے اساتذہ کو ا اس الحاق کے بدلے میں سرکار اتنی ہی تنخواہ فراہم کرے گی جتنی کہ اسکول کے سرکاری ٹیچر کو ملتی ہے۔اس کے علاوہ مرکزی مدرسہ بورڈ سے ملحق مدارس کو ہر سال ان کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک بڑی رقم عطا کرے گی۔ان رقوم اور اساتذہ کی تنخواہ دینے کا مقصد یہ بالکل نہیں ہے کہ یہ بورڈ مدارس ِ اسلامیہ کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کریں گے۔جیسا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر حضرات کاخیال ہے بلکہ مرکزی مدرسہ بورڈ مدارس کے نصاب میں تبدیلی صرف انہی مضامین میں کرنا چاہے گا جو عصری علوم پر مشتمل ہوں گے ناکہ ان مضامین میں جو دینی علوم پر مشتمل ہیں۔یہ تبدیلی بھی مرکزی مدرسہ بورڈ کے ممبران کی اکثریتی رائے سے ہوگی اور یہ ممبران مسلمانوں کے اپنے نمائندے ہوں گے۔مزید یہ کہ مرکزی مدرسہ بورڈ مدارس ِ اسلامیہ کے مالی امور میں دخل اندازی نہیں کرے گابلکہ ان ہی رقوم کے حساب و کتاب کے بارے میں باز پرس کرے گا جو حکومت انہیں عصری علوم کے فروغ کے لیے عطا کرے گی۔مزید برآں اگر کوئی مدرسہ اس بورڈ سے کسی طرح کا خطرہ محسوس کرے تو وہ جب چاہے اپنا الحاق ختم کرا سکتا ہے۔الحاق ختم کرانے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ان میں سے ایک یہ کہ آپ نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن کے نام درخواست لکھ کر الحاق ختم کرا کر مالی امداد لینا بند کر سکتے ہیں۔
دوسرا اندیشہ جو مرکزی مدرسہ بورڈ سے متعلق ہے وہ یہ ہے کہ اس بورڈ کی حالت کہیں ویسی ہی نہ ہو جائے جیسی ریاستی مدرسہ بورڈ کے تحت چلنے والے مدارس کی ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسا اندیشہ ہے جو بجا ہے۔ مگر اس اندیشہ کا سدِباب کیا جا سکتا ہے اگر ہماری مسلم قیادت بالخصوص علماء اور مسلم پرسنل لابورڈ ،دور اندیشی سے کام لیں۔یہ سچ ہے کہ مرکزی مدرسہ بورڈ کے قیام کی ایک نہایت ہی بے بنیاد وجہ بیان کی گئی ہے کہ مدرسوں کو آزاد چھوڑنے کی وجہ سے وہ دہشت گردی کے مراکز بن گئے ہیں یہ سراسر جھوٹ وافترا ہے چوں کہ مدرسوں پر دہشت گردی کے جو الزامات عائد کیے گئے ہیں انھیں حکومت کی کوئی ایجنسی بھی سچ ثابت نہیں کرپائی ہے ۔یہ بھی سچ ہے کہ مدارس نے طلبہ میں دین کی سمجھ پیداکرنے میں جو کردار اداکیاہے اور ہنوزکررہے ہیں اس میں کسی حد تک کمی آسکتی ہے تاہم اگر حکومت مدارس کے فارغین کو یہ موقع فراہم کررہی ہے کہ وہ اپنی محنت سے جدید تعلیم کے مختلف شعبوں میں جائیں اور مرکزی ملازمتیں حاصل کریں تو اس میں کسی قسم کا مضائقہ نہیں ہونا چاہیے ۔فی الوقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ،جامعہ ہمدرد مولانا آزاد نیشنل اوپن یونیورسٹی اور جے این یو نے کئی مدارس کو ملحق کررکھ ہے اور وہ ان مدارس کے فارغین کو مخصوص مضامین ا ور شعبوں مثلادینیات ،عربی ،اردو ،فارسی ،اسلامک اسٹڈیز ،جغرافیہ ،سیاسیات ،معاشیات اور یونانی میڈیسن وغیرہ میں داخلہ کا اہل قرار دیتے ہیں۔خوش آئند بات ہے کہ اب یہ طلبہ مرکزی مدرسہ بورڈ کی بدولت انجینئرنگ ،منیجمنٹ ،سائنس کے مختلف مضامین ،میڈیسین ،کمپیوٹر اور اس طرح کے دیگر جدید شعبہ ہائے جات میں اپنی قسمت آزمائی کا موقع حاصل کریں گے ۔اس طرح یہ طلبہ دین کی سمجھ کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات میں بھی آگے رہیںگے وہ اپنے آپ کو اوراپنے اہل خانہ کو معاشی اعتبار سے مضبوط کریں نتیجے کے طورپر ساری قوم نفع اٹھائے گی ۔
نصاب ونظام تعلیم میں عصری تقاضوں کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے علماء کرام انسانیت اور ملت کے احتجاجی مسائل سے بے تعلق ہوتے جارہے ہیں ،علماء جنھیں پوری انسانیت کو دین پہنچانا ہے وہ مسجد ومدرسہ کے خول میں سمٹتے جارہے ہیں ،ہماری نئی نسل خاص طورسے جدید تعلیم یافتہ طبقہ علماء کی ثقیل درسی زبان سمجھنے سے قاصر ہے اسی چیز نے مدارس وجامعات کے بعض اہم مقاصد کو فوت کردیاہے ،کیوں کہ علم سیکھنے کا مقصد دنیائے انسانیت تک ان کی زبان وفہم کے مطابق اور عصری اسلوب میں دین پہنچانا ہی تو ہے ۔اسلام میں علم (دینی وعصری )ایک وحدت ہے ،قرآن کی تصریح کے مطابق حضرت آدم کو خلافت ارضی کائناتی علم کی بدولت سپرد کی گئی ،لیکن انسان اپنا اور کائنات کا صحیح استعمال علم (تشریعی)میں حاصل کرسکتاہے ،غرض یہ کہ دونوں علوم (تشریعی وتکوینی )ملت کی زندگی کی گاڑی کے دوپہیے ہیں اگڑ دینی علوم سے محروم ہوجائیں تو دنیا وآخرت کا خسران ہے اگر کائناتی علوم میں بچھڑ جائیں تو دنیا میں غلبہ وسربلندی سے محرومی مقد ر ہوگی مثلا ہندوستان کے 20کروڑ مسلمان قاری ،حافظ ،عالم ،مفتی بن جائیں تو کیا ان کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے یا ان کی ذلت ختم ہوجائے گی ؟سربلندی حاصل ہوجائے گی ؟ہرگز نہیں بلکہ دونوں علوم (دینی وعصری )کے ذریعہ ہی پسماندگی کو دور کرنا ہوگا اسلام کے نزدیک حسنہ دنیا بھی مطلوب ہے اور حسنہ آخرت بھی ،دور نبوت سے لے کر 1857تک علم کی وحدت واکائی باقی رہی ہماری درسگاہوںسے ایک طرف عالم ،مفتی ،حافظ امام وخطیب نکلتے تو دوسری طرف تاریخ ،کیمسٹری ،جغرافیہ ،فلکیات وارضیات کے ماہرین سائنسداں اور سلطنت چلانے والے وزرائوسالار بھی نکلتے رہے اس لیے ہمیں دوبارہ اصل یعنی علم کی وحدت کی طرف لوٹنا پڑے گا۔مدارس پر ہونے والے سیمیناروں میں اس بات کی ضرورت کی جاتی رہی ہے مدارس کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاناچاہیے،یقینی طورپر یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا لیکن اس چیلنج سے نبرد آزما ہوناپڑے گا ،اب مسجد ودرسہ کے حصار میں ہی اپنی دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی تلاش کرنے کے بجائے کائنات کی سیر کرنا پڑے گا جدید علوم سے استفادہ کرنا پڑے گا صرف شکوک وشبہات اور خدشات کے پیش نظر ملت کے نوجواں نسل کے معاشی مسائل سے چشم پوشی کرنا کسی طرح بھی دانشمندی نہیں ہوگی ،دنیا کے مطالبات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مدارس میں دی جانے والی تعلیم پر قناعت شریعت کے لیے تو کافی ہے لیکن معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے عصری علوم کو بھی شجر ممنوعہ سمجھنے کے بجائے ایک لازمی ضروت کے طورپر اپنانا بہت ضروری ہے ۔حکومت کی طرف سے ملنے والی مراعات سے روگردانی کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے تجربہ شاہد ہے کہ جن مدارس میں انگلش ،سائنس وغیرہ کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں وہاں کے طلبہ ان مدارس کے مقابلہ میں جہاں عصری علوم کو
ممنوعہ خیال کیا جاتا ہے بہترہوتے ہیں اور ان کی معاشی حالت بھی اچھی ہوتی ہے ۔
محمد جسیم الدین قاسمی
jasimqasmi@gmail.com
No comments:
Post a Comment