ہر سال پوری دنیا میں بالعموم اور عالم اسلام میں بالخصوص رمضان المبارک کے جمعۃ الوداع کو یوم القدس منایا جاتاہے،اس دن کا مقصد قدس شریف کی صیہونی حکومت کے ہاتھوں میں اسیری کی طرف پوری دنیا کو متوجہ کرناہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے اس عزم کو ظاہر کرنا ہے کہ وہ مسجد الاقصی کی آزادی کے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک تاریخی خطاب میں غاصب صیہونی حکومت کے خلاف عالم کو قیام کرنے کی دعوت دی تھی اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سب پہلا کام جو آپ نے کیا وہ تہران میں اسرائیل کے سفارتخانے کو بند کرکے اس کی جگہ فلسطین کا سفارتخانہ کھول کر جمعۃ الوداع کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یوم القدس سے منسوب فرمایا دیا ،چنانچہ آپ کے اس تاریخی فرمان کے بعد دارالحکومت تہران سمیت پورے ملک میں غاصب صیہونی حکومت کے خلاف اتنے وسیع اور عظیم الشان مظاہرے ہوئے کہ دنیا حیران رہ گئی اور اس کے بعد سے آج تک ملت اسلامیہ جمعۃ الوداع کو ہرسال یوم القدس کے طور پر مناتی ہے ۔
شروع میں امام خمینی کے فرمان پر پاکستان، لبنان ،فلسطین اور دیگر ملکوں میں عوامی سطح پر یہ دن منایا گیا،اب الحمداللہ یوم القدس کے موقع پر دنیا کے کونے کونے میں غاصب اسرائیل حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں ۔ حتی کہ یورپ اور امریکہ میں بسنے والے مسلمان بھی جلوس اور ریلیوں میں شرکت کرکے غاصب صیہونی حکومت کے خلاف اپنی نفرت وبیزاری کا اظہار کرتے ہیں ،در اصل امام خمینی کی دور اندیش نگاہیں یہ دیکھ رہی تھیں کہ سرکاری سطح پر یوم فلسطین کو صرف سرکاری حکام کے بیانات تک محدود کردیا گیا ہے اور حالات جو رخ اختیار کر رہے تھے اس کے تحت یہ دکھائی دے رہا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے نام سے کوئی مسئلہ ہی باقی نہ رہے اور لوگوں کے اذہان سے اس کو مکمل طور سے محو کردیا جائے ،چنانچہ آپ نے انہی مسائل کے پیش نظر ایک ایسے دن کا انتخاب کیا جسے مسلمانوں میں ایک خاص تقدس اور اہمیت حاصل ہے اور جسے کبھی بھلایا نہ جا سکے،یوم القدس کے لئے جمعۃ الوداع کا انتخاب کرکے آپ نے قدس شریف کو مسلمانوں کے ذہنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ کردیا ،چنانچہ اس وقت پاکستان افغانستان بنگلہ دیش ، لبنان ، شام ، فلسطین ، کویت ، قطر ، بحرین ، یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں یوم القدس کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور ہر سال کی طرح اس سال یوم القدس انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے گا ۔یوم القدس اسلامی دنیا کے منافق چہروں اور قدس و فلسطین کے وفادار مسلمانوں کی شناخت و پہچان کا دن ہے جو مسلمان ہیں قدس کی آزادی کے لئے عالم اسلام کے دوش بدوش مظاہروں میں شریک ہو کر فلسطینی جانبازوں کی حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔قدس، قبلہ اول اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا دوسرا حرم ہے یہ فلسطین کے ان دسیوں لاکھ مسلمانوں کی اصل سرزمین ہے جنہیں عالمی استکبار نے غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں آج سے ٹھیک ۶ ۳؍ سال قبل۱۹۴۸ میں اپنے وطن سے جلاوطن کرکے قدس کی غاصب ، صہیونیوں کے تصرف میں دے دیا تھا ،اس سامراجی سازش کے خلاف فلسطینی مسلمانوں نے شروع سے ہی مخالفت کی اور ان مظلوموں کی قربانی اور صبر و استقامت کے سلسلے میں پوری دنیا کے حریت نواز ، بیدار دل انسانوں نے حمایت کی اور اسی وقت سے فلسطین کا مسئلہ ایک سیاسی، فوجی جد وجہد کے عنوان سے عالم اسلام کے سب سے اہم اور تقدیرساز مسئلے کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے ۔اسلامی ایران کی ملت و حکومت نے بھی ، اسلامی انقلاب کی پرشکوہ کامیابی کے بعد سے غاصب صہیونیوں کے پنجۂ ظلم سے قدس کی آزادی کے مسئلے کو اپنا اولین نصب العین قراردے رکھا ہے اور ماہ مبارک کے آخری جمعہ کو روز قدس قراردے کر اس دن کو ستمگران تاریخ کے خلاف حریت و آزادی کے بلند وبانگ نعروں میں تبدیل کردیا ہے ۔ اسلامی انقلاب کے فورا بعد حضرت امام خمینی نے صہیونیوں کے پنجۂ ظلم سے قدس کی آزادی کے لئے اس دن کو روز قدس اعلان کرتے ہوئے اپنے تاریخی پیغام میں فرمایا تھا :
’’ـــمیں نے سالہائے دراز سے ، مسلسل غاصب اسرائیل کے خطرات سے مسلمانوں کو آگاہ و خبردار کیا ہے اور اب چونکہ فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ان کے وحشیانہ حملوں میں شدت آگئی ہے خاص طور پر جنوبی لبنان میں وہ فلسطینی مجاہدین کونیست و نابود کردینے کے لئے ان کے گھروں اور کاشانوں پر پے درپے بمباری کررہے ہیں، میں پورے عالم اسلام اور اسلامی حکومتوں سے چاہتا ہوں کہ ان غاصبوں اور ان کے پشت پناہوں کے ہاتھ قطع کردینے کے لئے آپس میں متحد ہوجائیں اور ماہ مبارک کے آخری جمعہ کو جو قدر کے ایام ہیں فلسطینیوں کے مقدرات طے کرنے کے لئے ، روز قدس کے عنوان سے منتخب کرتا ہوں، تا کہ بین الاقوامی سطح پر تمام مسلمان عوام فلسطینی مسلمانوں کے قانونی حقوق کی حمایت و پشت پناہی کا اعلان کریں ۔میں پورے عالم کفر پر مسلمانوں کی کامیابی کے لئے خداوند متعال کی بارگاہ میں دعاگو ہوں ۔ اس اعلان کے بعد سے ہی روز قدس ، قدس کی آزادی کے عالمی دن کی صورت اختیار کرچکا ہے اور صرف قدس سے مخصوص نہیں رہ گیا ہے، بلکہ عصر حاضر میں مستکبرین کے خلاف مستضعفین کی مقابلہ آرائی اور امریکہ اور اسرائیل کی تباہی و نابودی کا دن بن چکا ہے ‘‘۔
روز قدس دنیا کی مظلوم و محروم تمام قوموں اور ملتوں کی تقدیروں کے تعین کا دن ہے کہ وہ اٹھیں اور عالمی استکبار کے خلاف اپنے انسانی وجود کوثابت کریں اور جس طرح ایران کے عوام نے انقلاب برپا کرکے وقت کے سب سے قوی و مقتدر شہنشاہ اور اس کے سامراجی پشت پناہوں کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا، اسی طرح دنیا کے دیگر اسلامی ملکوں کے عوام بھی اپنے انسانی حقوق کی بحالی کے لئے انقلاب برپا کریں اور صہیونی ناسور کو دنیائے اسلام کے قوی و مقتدر پیکر سے کاٹ کر کوڑے دان میں پھینک دیں ۔روز قدس جرات و ہمت اور جواں مردی و دلیری کے اظہار کا دن ہے مسلمان ملتیں ہمت و جرات سے کام لیں اور مظلوم و محروم قدس کو سامراجی پنجوں سے نجات دلانے کی جدو جہد کریں ۔ روز قدس ان خیانتکاروں کو بھی خبردار کرنے کا دن ہے جو امریکہ کے آلۂ کار کی حیثیت سے غاصب قاتلوں اور خونخوار بھیڑیوں کے ساتھ ساز باز میں مبتلا ہیں اور ایک قوم کے حقوق کا خود ان کے قاتلوں سے سودا کررہے ہیں ۔روز قدس صرف روز فلسطین نہیں ہے پورے عالم اسلام کا دن ہے ، اسلام کا دن ہے قرآن کا دن ہے اور اسلامی حکومت اور اسلامی انقلاب کا دن ہے ۔اسلامی اتحاد اور اسلامی یکجہتی کا دن ہے.
اب وقت آچکا ہے کہ دنیا کے مسلمان ایک ہوجائیں مذہب اور اعتقادات کے اختلافات کو الگ رکھ کر حریم اسلام کے دفاع و تحفظ کے لئے اسلام و قرآن اور کعبہ ؤ قدس کے تحفظ کے لئے ، جو پورے عالم اسلام میں مشترک ہیں وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک اور ایک ہوجائیں اور کفار و منافقین کو مقامات مقدسہ کی پامالی کی اجازت نہ دیں تو کیا مجال ہے کہ دو ارب سے زائد مسلمانوں کے قبلۂ اول پر چند لاکھ صہیونیوں کا تصرف ، قتل عام اور غارتگری کا سلسلہ باقی رہ سکے ۔
دشمن مذہب و مسلک اور قومی و لسانی تفرقے ایجاد کرکے اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کررہا ہے اب بھی وقت ہے کہ مسلمان ملتیں ہوش میں آئیں اور اسلامی بیداری و آگاہی سے کام لے کر ، فلسطینی مجاہدین کے ساتھ اپنی حمایت و پشت پناہی کا اعلان کریں ۔فلسطین کے محروم و مظلوم نہتے عوام ، صہیونیوں کے پنجۂ ظلم میں گرفتار لاکھوں مرد وعورت ، وطن سے بے وطن لاکھوں فلسطینی رفیوجی ،غیرت و حمیت سے سرشار لاکھوں جوان و نوجوان ہاتھوں میں غلیل اور سنگریزے لئے فریاد کررہے ہیں ،چیخ رہے ہیں ،آواز استغاثہ بلند کررہے ہیں کہ روئے زمین پر عدل و انصاف کی برقراری کا انتظار کرنے والو ، فلسطینی مظلوموں کی مدد کرو قدس کی بازیابی کے لئے ایک ہوجاؤ ۔ہم فلسطینی ہیں فلسطینی ہی رہیں گے ۔ہم بیت المقدس کو غاصب صہیونیوں سے نجات دلائیں گے، ہم خون میں نہا کر مسلمانوں کے قبلۂ اول کی حفاظت کریں گے ۔بس ہمیں مسلمانوں کی حمایت و پشت پناہی کی ضرورت ہے ۔اے مسلمانو! اپنا مرگبار سکوت اور خاموشی کو توڑ کر اٹھو ہم فلسطینی مجاہدین کی آواز سے آواز ملاؤ قدس ہمارا ہے، قبلۂ اول ہمارا ہے ہم قدس کو آزاد کرائیں گے ۔ہم قدس کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں گے ،لیکن قدس کو غاصبوں کے وجود سے پاک کرکے ہی دم لیں گے ۔
یوم قدس اسلامی دنیا کے منافق چہروں اور قدس و فلسطین کے وفادار مسلمانوں کی شناخت و پہچان کا دن ہے جو مسلمان ہیں قدس کی آزادی کے لئے عالم اسلام کے دوش بدوش مظاہروں میں شریک ہوکر فلسطینی جانبازوں کی حمایت کا یقین دلاتے ہیں اور منافقین صہیونی قوتوں کے ساتھ مل کر سازشیں رچتے اور اپنے زير اقتدار مسلمان ملتوں کو یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے ۔
عالم اسلام فلسطین اور بیت المقدس پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط کو مظلوم فلسطینیوں کے خلاف سامراجی جارحیت سمجھتا ہے اور قدس کی بازیابی کے لئے ملت فلسطین کا طرفدار ہے گزشتہ ۶۳؍ سال کے دوران صہیونیوں نے یہاں برطانیہ اور امریکہ کی سامراجی سازشوں کے تحت اپنے قدم جمائے اور ساحلی شہر یافا اور حیفا کے قریب تل ابیب کو آباد کیا اور بیت المقدس پر اپنے خونی پنجے گاڑنے شروع کردیے اور اس وقت تقریبا اسی فی صدی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے ۔فلسطینیوں کے منصوبہ بند قتل عام ، گھروں اور کاشانوں پر فوجی یلغار ، قید وبند ، جلاوطنی اور مہاجرت کی مانند خوف و وحشت کی فضائیں ایجاد کرکے ایک ملت کو اس کے ابتدائی ترین انسانی حقوق سے محروم کردینا اسرائيل کا سب سے بڑا کارنامہ ہے !!
حضور نبی کریم سرور کونین کا ارشاد گرامی ہے کہ جمعة المبارک کا دن سید الایا م ہے اور تمام دنوں سے افضل و بر ترہے اس لیے مسلمانوں کے لیے یہ دن سلامتی و رحمت کا حامل ہے جسکی بڑی اہمیت و فضلیت ہے ۔رمضان کریم کے جمعہ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے، کیونکہ اس جمعہ المبارک میں رمضان الکریم کی فضیلتیں بھی شامل ہو جاتیں ہیں، لیکن جو فضلیت اور مرتبت رمضان المبارک کے آخری جمعة المبارک کو حاصل ہے وہ کسی اور دن کو حاصل نہیں۔ بلاشبہ یہ دعائوں کی قبولیت کا دن ہے اس دن امت مسلمہ کی فلاح بہود اور عالم اسلام کے غلبہ و عزت کے لیے چہار سو مساجد میں دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ جمعة الوداع کے خطبہ کی بھی اپنی شان و منزلت ہے جس میں مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے اسلامی شعار کے مطابق راہ متعین کی جاتی ہے ،اتحاد بین المسلمین کا درس ان خطبات کا خاصہ ہوتا ہے انہی خطبات میں ملت اسلامیہ کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے پرزور مطالبات عالمی برادری کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ جمعة الوداع کے خطبہ و نماز کے بعد دنیا بھر کے مسلمان ریلیوں ،جلسوں ،جلوسوں کی صورت میں اسلامی دنیا کے خلاف امریکہ ،اسرائیل اور مغربی ممالک کی پالیسیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ان پالیسیوں کے خلاف عظیم الشان مظاہرے بر پا کرتے ہیں ۔ ملت اسلامیہ کی جانب سے جمعة الوداع کا مبارک دن قبلہ اول کی آزادی سے منسوب کر کے یو م القدس قرار دیا گیا ہے،تا کہ بیت المقدس کو یہودیوں کے شکنجہ سے آزادی دلانے کا جذبہ حریت مسلمانوں میں کبھی ماند نہ پڑے اور عالمی عدالت انصاف،انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی ملت اسلامیہ کے اس دیرینہ مسئلہ کو کبھی فراموش نہ کرسکیں۔
محمد جسیم الدین
ریسرچ اسکالر شعبہ عربی ،دہلی یونیورسٹی
Email:jasimqasmi@gmail.com
No comments:
Post a Comment